چین میں اویغور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی بنیادی وجوہات

اویغور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک اویغور مسلمان چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں اذان دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

چین کی جانب سے بعض مسلم اقلیتی فرقوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

چین مسلم اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کو جنگی قیدیوں کے کیمپ (انٹرنمنٹ کیمپ) میں رکھا گیا ہے۔

اگست میں اقوام متحدہ کی کمیٹی کو معلوم ہوا کہ چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں اور دیگر مسلم فرقوں کے دس لاکھ افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی 'ری ایجوکیشن' یعنی ازِسر نو تعلیمی پروگرام کے تحت ان کی تربیت کی جا رہی ہے۔

یہ دعوے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کیا ہے لیکن چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ دریں اثناء سنکیانگ میں رہنے والے افراد کے خلاف جابرانہ نگرانی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہاں ہم ان کے بارے میں آپ کو چند بنیادی باتیں بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اویغور کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اویغور اپنے آپ کو وسط ایشائی ممالک سے قریب تر بتاتے ہیں

یہ نسلی طور پر ترکی النسل مسلمان ہیں اور یہ چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ وہ خود کو ثقافتی اور نسلی طور پر وسط ایشیائی علاقوں سے قریب تر دیکھتے ہیں اور ان کی زبان ترک زبان سے بہت حد تک مماثلت رکھتی ہے۔

لیکن حالیہ دہائیوں میں سنکیانگ میں ہان (چین کی اکثریتی نسل) چینیوں کی بڑی آبادی وہاں منتقل ہوئی ہے اور اویغوروں کو ان سے خطرہ لاحق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنکیانگ کہاں ہے؟

یہ چین کے انتہائی مغرب میں واقع بڑا صوبہ ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔ تبت کی طرح یہ ایک خودمختار (کم سے کم اصولی طور پر) علاقہ ہے اور بیجنگ سے علیحدہ اس کی اپنی حکومت ہے۔ لیکن عملی طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر بہت زیادہ پابندیاں عائد ہیں۔

اویغور کی آبادی اس علاقے کی مجموعی دو کروڑ 60 لاکھ آبادی کا تقریباً نصف ہے۔

اس کی سرحدیں بہت سے ممالک سے ملتی ہیں جن میں انڈیا، افغانستان،پاکستان اور منگولیا شامل ہیں۔

سنکیانگ کے باشندوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپنے عزیر کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے ہوئے چند اویغور باشندوں کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اویغور نسل کے لوگوں کو شدید نگرانی کا سامنا ہے اور انھیں اپنے ڈی این اے اور بائیومیٹرکس کے نمونے دینے پڑ رہے ہیں۔ وہاں آباد جن لوگوں کے رشتہ دار انڈونیشیا، قزاقستان اور ترکی جیسے 26 'حساس' ممالک میں ہیں انھیں مبینہ طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے اور تقریباً دس لاکھ افراد کو ابھی تک حراست میں لیا جا چکا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چین: محکمۂ توانائی کے اویغور سربراہ کے خلاف تفتیش

اویغور مسلمانوں اور چین کے درمیان جھگڑا کیا ہے

چین: مسلمانوں کی گرفتاریوں کی خبریں بے بنیاد ہیں

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ وہاں آباد جس کسی شخص نے ملک سے باہر واٹس ایپ پر اگر کسی سے رابطہ کیا ہے تو اسے بھی حراست میں لیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انھیں وہاں مینڈارن یا چینی زبان سکھائی جا رہی ہے اور انھیں اپنے مذہب کو ترک کرنے یا ان کی تنقید کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان سے صدر شی جن پنگ کے ساتھ وفاداری کی قسمیں بھی کھلائی جا رہی ہیں۔

بی بی سی کو کیا پتہ چلا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین کے بعض سابق قیدیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں کیمپوں میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ کنبے کے کنبے لاپتہ ہوگئے ہیں اور ہمیں یہ بھی بتایا گيا کہ انھیں جسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گيا ہے۔

ہم لوگوں نے سنکیانگ میں ایسے شواہد دیکھے جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ صوبہ مکمل نگرانی میں ہے۔ جو چینی قیدی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے انھوں نے بی بی سی نیوز نائٹ کے پروگرام سے بات کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

ایک شخص عمر نے بتایا:'وہ ہمیں سونے نہیں دیتے تھے، وہ ہمیں گھنٹوں لٹکائے رکھتے اور پیٹتے رہتے۔ ان کے پاس لکڑی کے موٹے موٹے ڈنڈے اور چمڑے کے سوٹے تھے جبکہ تاروں کو موڑ کر انھوں نے کوڑے بنا رکھے تھے، جسم میں چبھونے کے لیے سوئیاں اور ناخن کھینچنے کے لیے پلاس تھے۔ یہ سب چیزیں میز پر ہمارے سامنے رکھی ہوتیں اور ان کا ہم پر کبھی بھی استعمال کیا جاتا۔ ہم دوسرے لوگوں کی چیخیں بھی سنتے۔'

ایک دوسرے شخص عزت نے بتایا: 'رات کے کھانے کا وقت تھا۔ تقریباً 1200 افراد ہاتھوں میں پلاسٹ کا خالی کٹورا لیے کھڑۓ تھے اور انھیں چین کے حق میں گیت گانا تھا تاکہ انھیں کھانا ملے۔ وہ ربوٹ کی طرح تھے۔ ان کی روحیں مر چکی تھیں۔ ان میں سے بہت سوں کو میں اچھی طرح جانتا تھا۔ ہم ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے تھے۔ لیکن اب وہ اس طرح کا برتاؤ کر رہے تھے جیسے کسی کار کریش کے بعد ان کی یادداشت جاتی رہی ہو۔'

اس بارے میں مزید پڑھیے

اویغوروں کو کیمپوں میں رکھنے پر اقوام متحدہ کی تشویش

مقید چینی مسلمان رہنما کے لیے انسانی حقوق کا ایوارڈ

اویغوروں کے تشدد کا کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنکیانگ اور اس کے باہر کئی حملوں کا الزام علیحدگی پسند اویغوروں پر ڈالا گیا ہے۔ سنہ 2009 میں دارالحکومت ارمچی میں ہونے والے فسادات میں تقریباً 200 افراد مارے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر ہان نسل کے چینی تھے۔

فروری سنہ 2017 میں جب پانچ لوگوں کو چاقو مار کر قتل کر دیا گیا تو اویغوروں پر کریک ڈاؤن میں اضافہ کر دیا گیا۔

چین کیا کہتا ہے؟

چین اپنے صوبے سنکیانگ میں امن میں خلل کے لیے علیحدگی پسندوں اور اسلامی عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے

چین سنکیانگ میں کسی 'انٹرنمنٹ کیمپ' کے وجود سے انکار کرتا ہے لیکن یہ کہتا ہے کہ وہاں 'پیشہ ورانہ تربیت' دی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ 'حکومت نسلی علیحدگی پسندوں اور پر تشدد دہشت گردانہ مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔'

دنیا کیا کر رہی ہے؟

چین کی جانب سے اویغور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بین الاقوامی سطح پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے تاہم کسی بھی ملک نے ابھی تک سوائے مذمت اور تنقیدی بیان جاری کرنے کے کوئی بھی کارروائی نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں