فضائی حدود پر معاہدہ کیا کہتا ہے؟

راجہ فاروق حیدر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے جس ہیلی کاپٹر پر انڈین فضائی حدود میں داخل ہونے کا الزام ہے وہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے کس طرف تھا؟ اور اگر پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں تھا تو انڈین آرمی کی جانب سے اس پر فائرنگ کیوں کی گئی؟

فضائی حددو کے بارے میں دونوں ملکوں نے 1991 میں ایک معاہدے کو حتمی شکل دی تھی، اسے پڑھیں تو ایک دلچسپ تصویر ابھرتی ہے۔

اس معاہدے پر 6 اپریل 1991 کو دہلی میں دستخط کیے گئے تھے۔ اور اس میں کہا گیا ہے کہ ’معاہدے میں شامل دونوں ملکوں کو یہ احساس ہے کہ دونوں کی فضائیہ (کے طیارے) ایک دوسرے کی فضائی حدود کے قریب پرواز کرتے ہیں، اور دونوں کی جانب سے کوششوں کے باوجود فضائی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، اس لیے دونوں نے خطرے کی غلط اور غیر ضروری گھنٹی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے بچنے اور اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے یہ معاہدہ کیا ہے۔‘

راجہ فاروق حیدر کے ’ہیلی کاپٹر پر انڈین فورسز کی فائرنگ‘

’ہمیں تو پتا بھی نہیں تھا کہ فائرنگ ہوئی؟‘

معاہدے پر انڈیا کی جانب سے اس وقت کے خارجہ سیکریٹری مچکند دوبے اور پاکستان کی طرف سے ان کے ہم منصب شہریار خان نے دستخط کیے تھے۔ اس وقت انڈیا میں کانگریس کی حکومت تھی۔

تازہ ترین واقعے کے تناظر میں اس معاہدے کی شاید سب سے اہم شق یہ ہے کہ ’اب سے دونوں ملک اس بات کی مکمل کوشش کریں گے کہ ایک دوسرے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو، لیکن اگر غلطی سےخلاف ورزی ہو جاتی ہے، تو اس واقعے کی بلا تاخیر تفتیش کی جائے گی اور دوسرے ملک کی فضائیہ کو سفارتی چینلوں کے ذریعے اس کے نتائج سے آگاہ کرایا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن فضائی حدود کی خلاف ورزی سے مراد کیا ہے؟ اس بارے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے ’جنگی طیارے (اور مسلح ہیلی کاپٹر) ایک دوسرے کی فضائی حدود سے کم سے کم دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہی پرواز کرسکتے ہیں، یعنی لائن آف کنٹرول کے اس سے زیادہ قریب نہیں آئیں گے۔

لیکن غیر مسلح ٹرانسپورٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے لیے یہ حد صرف ایک کلومیٹر رکھی گئی ہے۔ اور اگر فضائی سروے، یا امدادی سرگرمیوں کے لیے فضائی حدود کے ایک کلومیٹر کے اندر پرواز کرنے کی ضرورت ہو تو دوسرے ملک کی فضائیہ کو پرواز سے پہلے تمام تفصیلات فراہم کرنے کی بات تو کہی گئی ہے ’لیکن کسی باضابطہ اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ پرواز اپنے ہی خطے میں کی جا رہی ہے۔‘

معاہدے کے مطابق فضائی مشقوں کی صورت میں، چاہے تعین شدہ حدود میں پرواز کی تجویز نہ بھی ہو، پیشگی اطلاع دی جانی چاہیے تاکہ کوئی غیر ضروری کشیدگی پیدا نہ ہو۔

تو سوال یہ ہے کہ جس ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی وہ کہاں تھا اور کیا ہلکے ہتھیاروں سے اسے کوئی خطرہ تھا؟

اس بارے میں بظاہر کنفیوژن ہے کہ ہیلی کاپٹر نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی یا فضائی حدود کی خلاف ورزی سے متعلق معاہدے کی۔ کیونکہ اگر یہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی تو ہیلی کاپٹر پاکستان کے زیر انتظام علاقے کے اوپر ہی پرواز کر رہا ہوگا۔

ہیلی کاپٹر میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان سوار تھے جن کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود کے اندر تھا۔ لیکن کشمیر میں انڈین فوج کے ترجمان کرنل دیویندر آنند کے مطابق ہیلی کاپٹر نے انڈین فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور اس پر فائرنگ کی گئی۔

دہلی میں فوج اور فضائیہ کے ترجمانوں سے وضاحت حاصل کرنے کی کوشش تو کامیاب نہیں ہوئی لیکن اخبار انڈین ایکسپریس کے سینیئر صحافی من امن سنگھ چینا کا کہنا ہے کہ فوج کے ہیڈ کواٹرز میں ان کے ذرائع کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں ایل او سی سے 300 میٹر دور تھا، اور ان کے مطابق ’یہ واضح نہیں ہے کہ فائرنگ اسے مار گرانے کے لیے کی گئی تھی یا صرف یہ آگاہ کرنے کے لیے کہ وہ ممنوعہ علاقے میں پرواز کر رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تو اگر یہ ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود میں ہی تھا تو کیا اس پر فائرنگ کی جانی چاہیے تھی؟

مسٹر چینا کہتے ہیں کہ ’ایل او سی کے قریب تعینات فوجی ہی اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ طیارے کی لوکیشن کیا ہے۔ وہ پورے خطے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن اگر یہ کہیں کہ یہ ہیلی کاپٹر ہندوستانی حدود میں 700 میٹر اندر آگیا تھا، تو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہیلی کاپٹر واپس نہیں جا پاتا۔ جہاں تک فائرنگ کا سوال ہے، اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ ایل او سی پر کتنی کشیدگی ہے اور وہاں موجود عملے کے خیال میں طیارے سے کتنا خطرہ ہے۔‘

جیسا کہ معاہدے میں بھی کہا گیا ہے، فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اسی سال فروری میں یہ خبر آئی تھی کہ پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ایل او سی کے بہت قریب آگیا تھا لیکن اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ’ہندوستانی فوج نے اس پر فائرنگ نہیں کی‘۔

اخبار نے خطے میں خدمات انجام دے چکے ایک فوجی افسر کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’اس طرح کی خلاف ورزیاں غیر معمولی بات نہیں ہیں اور کبھی کبھی غلطی سے ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔‘

اس سے پہلے جون 2013 میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ دو انڈین جیٹ طیاروں نے پنجاب میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ لیکن ایک انڈین افسر نے، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی، اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا تھا کہ یہ ایک ’تکنیکی خلاف ورزی‘ تھی اور انڈین طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوئے تھے، ’ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف سرحد کے قریب پہنچ گئے تھے‘۔

انڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ہی یہ کہا تھا کہ ’ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں ترقی اور امن کے ماحول کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو مناسب جواب دیا جائے گا۔‘ اس سے پہلے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت بھی اسی نوعیت کے سخت بیان دے چکے ہیں۔

چند روز قبل ہی انڈیا نے پاکستان کے وزیر خارجہ سے مجوزہ ملاقات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی اور فوجی قیادت کے بیانات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کم سے کم آئندہ برس کے پارلیمانی انتخابات تک ایل او سی پر تپش کم نہیں ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں