جے پور کے 'ہاتھی گاؤں' کے ویران ہونے کا خطرہ کیوں؟

سیاح

انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور کے امیر قلعے کے دروازے پر روزانہ درجنوں ہاتھی سیاحوں کو پہاڑی کے اوپر بنے ہوئے قلعے میں لے جانے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔

جے پور آنے والے سیاحوں میں ہاتھی کی سواری بہت مقبول ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ہاتھیوں کی گنتی جاری

لمبے دانتوں والے طویل العمر ہاتھی ’ستاؤ ٹو‘ کی ہلاکت

آخر ہاتھی اتنا کم کیوں سوتے ہیں؟

انڈیا کی معمر ترین ہتھنی ’اندرا‘ چل بسی

رنگ برنگے اونی کمبل اوڑھے ہاتھی کے بچے

شیام گپتا کے آباؤ اجداد رجواڑوں کے زمانے سے ہی ہاتھیوں کو پالنے کا کام کرتے آئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں' آمیر میں اس وقت 112 ہاتھی ہیں۔

ان میں بیشتر سیاحت سے وابستہ ہیں۔ ان کا استعمال آمیر قلعے میں سیاحوں کی سواری کے ساتھ ساتھ شادیوں اور دوسری تقریبات میں بھی ہوتا ہے۔ ان ہاتھیوں سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ دنیا میں اس شہر کی جو شہرت ہے ہو اس میں ہاتھی کی سواری کا اہم کردار ہے۔‘

راجستھان میں رجواڑوں کے خاتمے کے بعد تقریباً 100 برس سے سینکڑوں ہاتھی اپنے مالکوں اور مہاوتوں کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔

ان ہاتھیوں کے لیے جے پور کے نواح میں ایک 'ہاتھی گاؤں' بنایا گیا ہے۔ انھیں یہاں ان کا فطری ماحول دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن انسانوں کے درمیان ان ہاتھیوں کا مستقبل اب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

وزارت ماحولیات کی حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کئی ہاتھی ٹی بی اور درجنوں اندھے پن اور دوسری بیماریوں کا شکار ہیں۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم پیٹا نے ہاتھیوں کے سیاحت کے لیے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیٹا کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نیکنج شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا 'اس رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے دس ہاتھیوں میں ٹی بی کے جراثیم پائے گئے ہیں۔ 19 ہاتھی ایسے ہیں جو نصف یا پورے طور پر اندھے ہو چکے ہیں۔ ان ہاتھیوں کی ذہنی حالت بھی کافی خراب پائی گئی ہے۔'

لیکن جے پورچڑیا گھر کے چیف ویٹنیری ڈاکٹر اروند ماتھر کا کہنا ہے کہ ان ہاتھیوں کی باقاعدہ طبی جانچ کی جاتی ہے اور یہ ہاتھی صحت مند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک یا دو ہاتھیوں میں ٹی بی کے جراثیم پائے گئے تھے جنھیں علیحدہ کر کے ان کا علاج کیا گیا ہے۔

'ہمارے یہاں جو بھی ہاتھی ہیں ان کی صحت کے بارے میں جاننے کے لیے محکمۂ جنگلات کی جانب سے ایک میڈیکل بورڈ بنا ہوا ہے۔ ہاتھیوں کا سال میں ایک بار معائنہ کیا جاتا ہے۔ ہم ان کا بلڈ سیمپل لیتے ہیں، سٹول کا نمونہ لیتے ہیں، ان کے جو فٹ پیڈ ہیں، کریکس وغیرہ ہیں، ان کی جانچ ہوتی ہے۔ جو ہاتھی کمزور پائے جاتے ہیں انھیں الگ کر کے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ یہاں جو ہاتھی ہیں وہ صحت مند ہیں۔ '

پیٹا نے ہاتھیوں میں ٹی بی ہونے کی رپورٹ آنے کے بعد ان کی سواری پر فوری طور پر پابندی لگانے کے لیے راجستھان ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

پیٹا کے اہلکار نکنج شرما کا کہنا ہے ' اس کا ایک ہی حل ہے۔ ان ہاتھیوں کو فوراً ریٹائر کیا جائے ۔ تقریباً 50 ہاتھی 60سال سے اوپر کے ہیں۔ ان سے کام کرانا غلط ہے۔ ان ہاتھیوں کو ریٹائر کرنا ضروری ہے۔‘

دوسری جانب ہاتھی مالکان اور مہاوت پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف ان ہاتھیوں کا وقت پر طبی معائنہ کراتے ہیں بلکہ ا ن کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتے ہیں۔

ہاتھی مالکان کی ایسوسی ایشن کے صدر رشید خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ (پیٹا اور این جی اوز) اپنے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہاتھی کو ہم اپنے بچوں کی طرح پالتے ہیں کیونکہ یہ ہماری زندگی ہیں، روزی روٹی ہیں۔ اگر ان کو تکلیف ہو گی تو ہمارے خاندان کو تکلیف ہو گی۔ اگر یہ ہیں تو ہم ہیں اور اگر یہ نہیں تو ہم بھی نہیں۔'

اسی بارے میں