انڈیا کے آدم خور شیروں سے کیسے نمٹا جائے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا میں آدم خور شیرنی کی تلاش جاری ہے

وسطی انڈیا میں محکمۂ جنگلات کے سو سے زیادہ کارکنوں کی فوج، محافظ، بےہوش کرنے والے ماہرین، نشانہ باز اور کھوجی ایک شیرنی کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا علاقہ 160 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

محکمۂ جنگلات نے جگہ جگہ سو سے زیادہ کیمرے لگا رکھے ہیں، لیکن اب تک دھاری دار شیرنی (ٹائیگر) آنکھوں سے اوجھل رہی ہے۔

مقامی دیہاتیوں کے صبر کا پیمانہ چھلک رہا ہے۔ پدھارکاودا علاقے کے ڈویژنل فارسٹ افسر کے ایم آپرنا کہتے ہیں: 'اس علاقے میں پہاڑیاں، کھائیاں، اور گھنے جنگل ہیں۔ جھاڑیوں اور لمبی گھاس میں شیر آسانی سے چھپ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آپریشن میں اتنی دیر لگ رہی ہے۔'

محکمۂ جنگلات کی ہدایات میں لکھا ہے کہ پہلے درندے کو بےہوش کر کے پکڑنے کی کوشش کی جائے۔ اگر اس میں ناکامی ہو تبھی اسے مارا جا سکتا ہے۔

ہلاکتیں

انڈیا کی ماحولیاتی وزارت کے مطابق اپریل 2014 سے مئی 2017 کے درمیان 1144 لوگ شیروں اور ہاتھیوں کی وجہ سے موت کے منھ میں چلے گئے۔

اس میں ہاتھیوں کا حصہ 1052 ہلاکتیں ہے جب کہ دھاری دار شیروں نے 92 لوگوں کو ہلاک کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دوسرے جانور زیادہ ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں لیکن انسان سب سے زیادہ دھاری دھار شیر سے ڈرتے ہیں

اس کے علاوہ تیندوے، ببر شیر اور ریچھ بھی انسانوں کو ہلاک کرتے ہیں، جب کہ سانپ اور کتے بھی ہر سال ہزاروں لوگوں کی موت کا باعث بنتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود دھاری دار شیر وہ درندہ ہے جو سب سے زیادہ خوف کا باعث بنتا ہے۔

حمایت

لیکن اس ڈر کے باوجود دھاری دار شیر کے حامیوں کی بھی کمی نہیں، جو چاہتے ہیں کہ یہ درندہ معدومی کا شکار نہ ہو۔

اجے دوبے ایسے ہی ایک کارکن ہیں جو نہیں چاہتے کہ محکمۂ جنگلات آدم خور شیروں کو ہلاک کرے۔ ’زیادہ تر لوگوں کی ہلاکتیں اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ شیروں کے علاقے میں جا گھستے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Forest department
Image caption آدم خور شیرنی کی یہ تصویر خودکار کیمرے نے لی ہے

تاہم محکمۂ جنگلات اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ڈی این اے ٹیسٹوں سے تصدیق ہوتی ہے کہ اس شیرنی نے کم از کم پانچ لوگوں کو شکار کیا ہے۔

کے ایم آپرنا کہتے ہیں: ’اس جانور نے کھیتوں میں کام کرنے والے ایک شخص کو ہلاک کیا اور اس کی لاش کو گھسیٹ کر جنگل میں لے گئی۔ جب دیہاتیوں نے اس پر پتھر برسائے وہ تب بھی ڈر کر نہیں بھاگی۔ یہ نارمل رویہ نہیں ہے۔‘

ستمبر میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے اس شیرنی کے ہلاک کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد یہ ہانکا کیا جا رہا ہے۔

پورس کے ہاتھی؟

مسلح فارسٹ گارڈ ہاتھیوں پر سوار ہو کر گھنے جنگلوں کا رخ کرتے ہیں۔

Image caption تربیت یافتہ نشانے باز چار ہفتوں سے شیرنی پر اپنی مہارت آزمانے کے متمنی ہیں

ہاتھی نہ صرف ان مشکل علاقوں میں آسانی سے گھس سکتے ہیں، بلکہ ان کی بلندی شیر کو محفوظ طریقے سے نشانہ بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

تاہم اکتوبر میں ایک تربیت یافتہ ہاتھی نے بےقابو ہو کر ایک عورت کو کچل ڈالا۔

اس کے بعد پانچوں ہاتھیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔

دھاری دھار شیروں کی تعداد

انڈیا میں 2006 کے بعد سے دھاری دار شیروں کی آبادی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی سال انڈیا نے ان کے تحفظ کی مہم شروع کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زیادہ تر شیر انسانوں کو ضرر نہیں پہنچاتے۔ ہزار میں سے ایک شیر آدم خور بنتا ہے: الاس کرانتھ

انڈیا میں دنیا کے 60 فیصد دھاری دار شیر پائے جاتے ہیں۔ 2014 میں کی جانے والی ’شیر شماری‘ کے مطابق ملک میں 2226 شیر موجود تھے۔

تاہم ایک ایسے ملک میں جہاں 1.3 ارب انسان بستے ہیں، بہت کم جگہیں ایسی بچی ہیں جو ان سے محفوظ ہوں۔

آدم خور

روایتی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صرف بوڑھا یا زخمی شیر ہی آدم خور بنتا ہے، کیوں کہ انسانوں کو شکار کرنا زیادہ آسان ہے۔

لیکن اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان اور صحت مند درندوں کے منھ کو بھی انسانی خون لگ جاتا ہے۔

جنگلی حیات کے مرکز کے سربراہ الاس کرانتھ کہتے ہیں: ’زیادہ تر شیر انسانوں کو ضرر نہیں پہنچاتے۔ ہزار میں سے ایک شیر آدم خور بنتا ہے۔ لیکن ثابت شدہ آدم خوروں کو لازماً ٹھکانے لگا دینا چاہیے، کیوں کہ جنگلی شیر کو زندہ پکڑنا انتہائی مشکل کام ہے۔‘

بےہوشی

انڈیا کی بہت سی ریاستوں میں ایسے تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے جو درندوں کو بےہوش کر سکیں۔ بےہوشی کے ٹیکے اکثر بہت قریب سے فائر کرنا پڑتے ہیں جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بےہوشی کے ٹیکے اکثر بہت قریب سے فائر کرنا پڑتے ہیں جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

بلاوجہ خوف

وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سابق ڈین، اے جے ٹی جان سنگھ کہتے ہیں: ’میں ایک دفعہ اوٹی میں تھا جہاں چار سال قبل ایک آدم خور شیر مارا گیا تھا جس نے تین عورتوں کو مار ڈالا تھا۔ لوگوں نے مردہ درندے کو اٹھا کر جلوس نکالا۔ یہ ان کے لیے سکھ کا سانس لینے کا لمحہ تھا۔‘

وہ کہتے ہیں: ’جب پتہ چلتا ہے کہ آس پاس کے علاقے میں کوئی آدم خور شیر موجود ہے تو اس سے پورا علاقہ خوف کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اس کی خونخواری کی کہانیاں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آدم خور شیر کی موجودگی اہل علاقہ میں دہشت کا سبب بنتی ہے

45 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس درخواست پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اس شیرنی کو زندہ پکڑا جائے۔ دوبے کہتے ہیں:

’اگر آپ نے اسے مار ڈالا تو اس کے دو بچے بھی مر جائیں گے۔ تین ہزار کی کل آبادی میں سے تین شیروں کی موت بڑی بات ہے۔ ہمیں جنگلوں میں لوگوں کی غیرقانونی تجاوزات کو روکنا چاہیے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح اس شیرنی کو زندہ پکڑنا ہے اور وہ دو بچوں کو بھی پکڑ کر کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیں گے۔

اسی صورتحال میں مقامی لوگ خوف اور امید کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں