مسجد انڈیا کی، چندہ ’حافظ سعید‘ کا، امام جیل میں

مسجد

انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے دو گھنٹے کی مسافت پر میواتی مسلمانوں کی ایک پسماندہ بستی ہے جہاں پیر کو درجنوں میڈیا والے موجود تھے۔

ان کی توجہ کا مرکز ایک مسجد تھی جو باہر سے اگرچہ نامکمل اور زیر تعمیر تھی لیکن اندر سے وہ بہت کشادہ اور خوبصورت تھی۔

خلفائے راشدین نامی مسجد اتنی بڑی اور کشادہ ہے کہ مضافات کے مختلف گاؤں کے 15 ہزار مسلمان ایک ساتھ اندر نماز ادا کر سکتے ہیں۔

لیکن جب میں وہاں پہنچا تو مسجد بالکل خالی تھی اور چند چھوٹے لڑکے اور لڑکیاں قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھے۔

مجھے بتایا گیا کہ یہ مسجد بھی اور مدرسہ بھی ہے۔

ان دنوں یہ مسجد سرخیوں میں ہے۔ انڈیا کے تفتیشی ادارے این آئی اے نے الزام لگایا ہے کہ مسجد کے امام محمد سلمان نے پاکستان کے حافظ سعید (جماعۃ الدعوہ کے سربراہ) کے ادارے سے پیسے لے کر مسجد کی تعمیر کی ہے۔

بی بی سی نے جماعتہ الدعوہ کے ترجمان یحیٰی مجاہد سے اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔

امام مسجد محمد سلمان کو گذشتہ ماہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے ساتھ دو دوسرے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن گاؤں کے زیادہ تر لوگ امام سلمان پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مسجد کی تعمیر میں سکھ اور ہندو مددگار

دوستی نے مندر اور مسجد کے طرزِ تعمیر کا فرق مٹا دیا

ان کے مطابق مسجد کی تعمیر سنہ 1998 میں شروع ہوئی تھی اور 2010 میں اس کا افتتاح کیا گیا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ اس پر اب تک دو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

اس کی تعمیر سے منسلک آس محمد نامی ایک معمر شخص نے بتایا: 'سلمان کے والد ایک بڑے مذہبی رہنما تھے اور دنیا بھر میں ان کے جاننے والے موجود ہیں۔ ان میں سے بعض انھیں مسجد کی تعمیر کے لیے پیسے بھیجتے تھے۔ لیکن مسجد کی تعمیر بنیادی طور پر مقامی چندے سے ہوئی ہے۔'

انھیں یہ علم نہیں تھا کہ کس ملک سے کون انھیں کتنے پیسے بھیجا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ موجود لوگوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی مدرسوں اور مسجدوں کے لیے مسلم ممالک میں چندہ عام بات ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے مسجد کا دورہ کرنے والی این آئی اے کی ٹیم کو محمد ارشاد نام کے ایک نوجوان نے واضح انداز میں بتایا کہ انھیں پاکستان یا کسی پاکستانی ادارے سے چندہ نہیں آتا ہے۔

پڑوس کے ایک گاؤں کے سرپنچ لکھو نے بتایا کہ 'حافظ سعید تو بین الاقوامی شدت پسند ہے اس سے کون پیسے لینا چاہے گا؟'

محمد ارشاد نے بتایا کہ مقامی ہندووں نے بھی اس مسجد کو عطیہ دیا ہے جبکہ 'کئی ہندوؤں نے اس کی تعمیر میں بلڈنگ میٹریئل دے کر اس کی مدد کی ہے۔'

'اگر پاکستان سے چندہ آتا تو۔۔۔'

سرپنچ لكھو نے مسجد کے باہر کھڑے ہو کر اس کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اگر پاکستان یا کسی دوسرے ملک سے پیسے آتے تو مسجد کی تعمیر اب تک پوری نہیں ہو جاتی؟' مسجد کا بیرونی حصہ ابھی کئی جگہ نامکمل ہے۔

درجنوں صحافیوں کی موجودگی میں وہاں کے مسلمانوں کے چہروں پر سوالات تھے۔ ان میں سے بعض بار بار یہ پوچھ رہے تھے کہ 'آج ہی آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟' وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق امام سلمان کی گرفتاری تو گذشتہ ماہ کی گئی تھی۔

وہاں موجود سارے مقامی امام سلمان کے حق میں بات کر رہے تھے۔ بھیڑ میں موجود نصرو نامی ایک معمر شخص نے دستاویز ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ 'اس نے مسجد کی تعمیر کے لیے پیسے کم پڑ جانے کے بعد اپنی زمین بیچ دی اور مسجد کی تعمیر میں لگا دی۔ اس دستاویز کو دیکھیں۔ یہ سلمان کی فروخت شدہ زمین کے کاغذات ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد کیس: ’اسلام میں عبادت کے لیے مسجد لازمی نہیں‘

’آپ اپنی مسجد کا نام امن مسجد رکھیں‘

جو وہاں موجود تمام لوگ متفقہ طور پر کہہ رہے تھے اس محمد ارشاد نے ان الفاظ میں بیان کیا: 'مسجد ایک اسلامی مرکز بھی ہے جسے قرب و جوار کے 84 گاؤں کی امداد سے بنایا گیا ہے۔ اس کی تحویل میں مکمل زمین دس ایکڑ زمین ہے جسے پنچایت نے عطیہ کیا تھا۔ لیکن تقریبا 100 خاندانوں اور دکانداروں نے زمین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کی قیمت کروڑوں میں ہے۔ ہم انھیں یہاں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں نے ہم پر مقدمہ کر دیا ہے اور ہمیں بدنام کرنے کے لیے امام سلمان اور مسجد کے خلاف بیان دیا ہے۔'

مسجد کے باہر دہلی جانے والی سڑک پر تسلسل کے ساتھ کئی دکانیں ہیں جن مالکان نے اعتراف کیا کہ انھوں نے سلمان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ ضرور کیا ہے لیکن 'این آئی اے سے ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔'

نصرو نامی ایک دکاندار نے کہا: 'ہم نے این آئی ٹی (ان کا مطلب این آئی اے تھا) کے بارے میں کبھی نہیں سنا ہے، ہم ان سے کبھی ملے بھی نہیں ہیں۔‘

لاینحل سوال

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں نسل در نسل اسی گاؤں میں رہتے ہوئے آئے ہیں۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ شادی بیاہ میں شریک ہوتے ہیں لیکن جب سے مقدمہ شروع ہوا دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔

مسجد کے نام کی جانے والی زمین اور اس پر غیر قانونی قبضہ اس دشمنی کی اصل وجہ ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا دوسرے فریق نے این آئی اے کے سامنے امام محمد سلمان کے خلاف بیان دیا ہے یا نہیں؟ یہ بات تو تفتیشی ادارہ ہی بتا سکتا ہے۔

خلفائے راشدین مسجد کے امام سلمان نے پاکستان کی کالعدم تنظیم کے رہنما حافظ سعید کی دبئي میں قائم تنظیم سے چندہ لیا یا نہیں یہ بات اب صرف عدالت کی کارروائی میں سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں