قندھار حملہ: ’طالبان اور پاکستان مخالف‘ جنرل عبدالرازق کون تھے؟

رازق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان میڈیا کے مطابق جنرل رازق پاکستان اور افغانستان کے درمیان متنازع ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے بھی سخت مخالف تھے

افغانستان میں کم از کم ایک درجن قاتلانہ حملوں میں بچ جانے والے قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق جمعرات کے روز ہونے والے حملے میں ہلاک ہوگئے۔

افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں ان کے علاوہ افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے صوبائی سربراہ بھی مارے گئے جبکہ امریکی فوج کے کمانڈر بال بال بچ گئے تھے۔

اس حملے کا نشانہ بننے والے طالبان اور پاکستان کے خلاف انتہائی سخت موقف رکھنے کی وجہ سے مشہور پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق کی تین بیویاں اور 13 بچے تھے۔ اگرچہ اُن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی الزام تھا لیکن افغان عوام نہ صرف اُنھیں زندگی میں بلکہ موت پر بھی’ہیرو‘ مانتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جنرل رازق کے بہت ساری ایسی ویڈیوز مشہور ہیں جس میں وہ کھلم کھلا طالبان کی مبینہ حمایت پر پاکستان کے خلاف بیانات دیتے ہیں اور اکثر بیانات میں تو وہ طالبان سے زیادہ پاکستان مخالف نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

دو افغان سیکورٹی افسران ہلاک، امریکی کمانڈر بال بال بچ گئے

’خراب تعلقات کے ذمہ دار پاکستان اور افغانستان دونوں ہیں‘

’پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینیجمنٹ ضروری ہے‘

افغانستان میں پوست کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر مجھ پر ایک ہزار حملے بھی کیے جائیں، جب تک زندہ ہوں، پنجاب اور پاکستان کا دشمن رہوں گا۔‘ اُن کا الزام تھا کہ پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا دشمن ہیں اور طالبان پاکستان کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق جنرل رازق پاکستان اور افغانستان کے درمیان متنازع ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے بھی سخت مخالف تھے۔

چند روز قبل افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان باڑ لگانے پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا اور اس واقعے کے بعد چمن میں پاکستانی حکام نے باب دوستی کو بند کردیا تھا۔ افغان میڈیا کے مطابق جنرل رازق کے کہنے پر ہی افغان فورسز پاکستانی فورسز کو باڑ لگانے نہیں دے رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس سربراہ بننے کے بعد اُنھوں نے قندھار پر طالبان کے کئی حملے پسپا کیے

جنرل رازق طالبان کے دور میں اُن کے قید میں بھی رہے، لیکن بعد میں اُن کی قید سے بھاگ گئے تھے۔ اُن کے والد اور چچا بھی طالبان کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ سنہ 2001 میں صوبہ قندھار کے سرحدی پولیس کے ایک کمانڈر بننے کے کچھ سال بعد پولیس سربراہ بنے۔

پولیس سربراہ بننے کے بعد اُنھوں نے قندھار پر طالبان کے کئی حملے پسپا کیے اور اُن پر طالبان قیدیوں کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں کا بھی الزم تھا۔

جنرل رازق پر الزام تھا کہ اُنھوں نے سنہ 2014 میں اپنے ساتھیوں کو خبردار کیا تھا کہ طالب قیدیوں کو اُن کے سامنے زندہ پیش نہیں کیا جائے۔ جنرل رازق کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ’وہ لوگ جو اُن پر اور اُن کی عوام پر گولیاں برساتے ہیں، اُن کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘

افغانستان کے صوبہ قندھار میں سب سے زیادہ طاقتور مانے جانے والے پولیس سربراہ جنرل رازق طالبان اور پاکستان کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اُن کے تعلقات حال ہی میں افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بھی اچھے نہیں تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں