انڈیا: سی بی آئی کی اس آگ میں حکومت کی بھی انگلیاں جلی ہیں

سی بی آئی تصویر کے کاپی رائٹ Pti

انڈیا میں انسداد بدعنوانی کے سب سے بڑے ادارے سینٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن یعنی سی بی آئی میں اعلیٰ افسروں کی ایسی باہمی جنگ چھڑی ہوئی ہے جو شاید پہلے کبھی کسی ادارے میں نہیں دیکھی گئی۔

سی بی آئی کے سربراہ آلوک ورما نے بیورو کے دوسرے سب سے بڑے افسر راکیش استھانا پر ایک کیس کو دبانے کے لیے کروڑوں روپے کی رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے خلاف رپورٹ درج کی اور عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔

اس سے پہلے کہ استھانا کو گرفتار کیا جاتا، حکومت نے بیورو کے سربراہ آلوک ورما اور استھانا دونوں کو ان کے عہدے سے عارضی طور پر ہٹا کر تعطیل پر بھیج دیا۔ ادھر استھانا نے بھی بیورو کے سربرا ہ پر رشوت خوری کے الزامات عائد کیے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کےخلائی راز آئی ایس آئی کو بیچنے کا جعلی پلاٹ

پولیس، تفتیشی ادارے اعتبار کھو رہے ہیں

اس دوران حکومت نے بیورو کا ایک نیا عارضی سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ ان پر بھی سیاسی وابستگی اور بدعنوانی کے الزامات لگ چکے ہیں۔ نئے سربراہ نے ان سبھی افسروں کا تبادلہ کر دیا جو استھانا کے معاملے کی جانچ کر رہے تھے۔

یہ بھی غالباً پہلی بار ہے جب سی بی آئی کے صدر دفتر کے باہر حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کی جانب سے تعینات کیے گئے سی بی آئی کے عارضی سربراہ کو کسی طرح کے پالیسی فیصلے لینے سے روک دیا ہے۔

سی بی آئی اس وقت شدید بحران کی گرفت میں ہے۔ بیورو کے تین اعلیٰ افسروں پر بدعنوانی اور جانبداری کے الزامات ہیں۔ یہ سی بی آئی کے لیے اچھا وقت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ cbi
Image caption آلوک ورما (دائیں) اور استھانا (بائیں)

سی بی آئی انسداد بدعنوانی کا سب سے بڑا تفتیشی ادارہ ہے۔ اسے ہر دور میں حکومتوں نے اپنے قابو میں کرنے کی کو شش کی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب سپریم کورٹ نے اسے 'پنجرے کا طوطا' قرار دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کی مداخلت سے ہی یہ طے پایا تھا کہ بیورو کے سربراہ کی تقرری وزیر اعظم، حزب اختلاف کے رہنما اور چیف جسٹس مل کر کریں گے۔ بیورو کے سربراہ کو سیاسی دباؤ سے بچانے کے لیے یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ تقرری کے بعد دو برس سے پہلے اس عہدے سے اس شخص کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔

لیکن موجودہ بحران میں حکومت نے نہ صرف براہ راست مداخلت کی بلکہ موجودہ سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ایک نیا سربراہ بھی مقرر کر دیا۔ حکومت نے اس معاملے کو جس طرح حل کرنے کی کوشش کی اس پرشدید تنقید ہو رہی ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں سی بی آئی کے اہلکاروں کی تقرری سے لے کر ان کی تفتیش کے طریقۂ کار تک، ہر پہلو پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس کے اہلکاروں کی سیاسی وابستگیوں کے بارے میں کھل کر باتیں ہوتی ہیں۔

ایک وقت تھا جب اس ادارے پر لوگوں کا مکمل اعتماد تھا اور اس کی تفتیش پر یقین کیا جاتا تھا۔ آج یہ خود اپنی ہی مبینہ بدعنوانیوں کی تفتیش کر رہا ہے۔ بیورو کے اہلکار دو خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اس کی شبیہ کو ایسا نقصان پہنچا ہے کہ اسے اپنا اعتبار بحال کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوگا۔ سی بی آئی کی اس آگ میں حکومت کی بھی انگلیاں جلی ہیں۔

حکومت کو یہ اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ریاستوں کے مقابلے میں قومی سطح پر کسی آزاد ادارے ‎کو قابو میں لینا آسان نہیں ہوتا۔ موجودہ بحران پیچیدہ اور مشکل ہے۔

لیکن بعض ماہرین کہتے ہیں کہ سی بی آئی اس بحران سے پہلے سے زیادہ خود مختار اور پیشہ ور ہو کر ابھرے گا اور حکومتوں کے لیے اسے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا شاید آسان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں