ٹرمپ کا یوم جمہوریہ کی پریڈ میں شرکت سے انکار؟ 'کیا آزاد ہندوستان میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے‘

یوم جمہوریہ پریڈ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا اپنے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں اپنی فوجی طاقت کے مظاہرے کے ساتھ اپنی متنوع ثقافت کا بھی مظاہرہ کرتا ہے۔

انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبر گرم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنے کی انڈیا کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔

انڈیا میں سنہ 1950 کے بعد سے ہر سال 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی پریڈ منعقد کی جاتی ہے جس میں دنیا کے سربراہان مملکت کو مہمان خصوصی بنایا جاتا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے انڈیا کی اس پریڈ میں شرکت کی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس پیش رفت پر جہاں ٹرمپ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں انڈیا کی حکومت بطور خاص نشانے پر ہے۔ بعض لوگ مزاحیہ ٹویٹس بھی کر رہے ہیں۔ کسی نے اسے انڈیا کی غیرت پر وار کہا تو کسی نے تھپڑ سے تعبیر کیا۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کی چمک ماند نظر آئی ہے اور دونوں ایک دوسرے سے کئی معاملوں میں متصادم بھی نظر آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے سنہ 2015 کے جشن جمہوریہ میں شرکت کی تھی

حال ہی میں امریکہ نے انڈیا کو روس کے ساتھ میزائل سسٹم کے سمجھوتے کے خلاف متنبہ کیا تھا لیکن جب صدر پوتن رواں ماہ کے اوائل میں ہندوستان کے دورے پر آئے تو انڈیا نے ان سے پانچ ایس-400 میزائل نظام کا معاہدہ کر لیا۔

اس کے علاوہ ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد انڈیا پر امریکہ کی جانب سے ایران سے تیل نہ خریدنے کا بھی دباؤ ہے لیکن انڈیا ایران سے تیل بدستور خرید رہا ہے۔ بہر حال یہ صورت حال نومبر کے مہینے میں زیادہ واضح ہوگی کہ انڈیا آیا وہاں سے تیل کی خریداری جاری رکھتا ہے یا امریکہ کے دباؤ میں اس سے گریز کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: یوم جمہوریہ پریڈ کی فل ڈریس ریہرسل

’انڈیا سے جدید میزائل سسٹم کی فروخت کا معاہدہ ہو گا‘

ٹرمپ انتظامیہ نے جشن جمہوریہ کے جشن میں شرکت نہ کرنے کے لیے جو وجہ پیش کی ہے وہ اسی دوران ان کے دوسرے اہم مشاغل میں شرکت ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو سٹیٹ آف دا یونین (ایس او ٹی یو) سے خطاب کرنا ہے اور دونوں کا وقت ٹکراتا ہے۔

خیال رہے کہ ایس او ٹی یو سے خطاب 22 جنوری سے فروری کے پہلے ہفتے کے دوران کبھی بھی منعقد کیا جاتا ہے اور ذرائع کے مطابق ابھی تک اس کا دن مقرر نہیں ہے جبکہ اس سے قبل براک اوباما نے انڈین یوم جمہوریہ کی پریڈ میں شرکت کے لیے ایس او ٹی یو کو مؤخر کیا تھا۔

معروف صحافی اور عام آدمی پارٹی کے میڈیا مشیر ناگیندر شرما نے ٹویٹ کیا کہ 'کیا آزاد ہندوستان میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے جب ہماری حکومت نے فخریہ انداز میں یوم جمہوریہ کے مہمان خصوصی کا نام لیک کیا ہو اور مہمان نے اس دعوت کو ٹھکرا کر ذلیل کیا ہو؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سی پی آئی (ایم ایل) کے دیپانکر نے ٹویٹ کیا: 'یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ٹرمپ نہیں آ رہے ہیں لیکن ان کے ٹرمپیٹ (نفیری) نے پہلے ہی 2019 کے مہمان خصوصی کے طور پر ان کی موجودگی کا اعلان کر رکھا تھا۔ امید کہ ہم لوگ 2020 کے یوم جمہوریہ تک اس مسٹر ٹرمپیٹ (مودی) سے بھی نجات حاصل کر لیں گے۔'

'آور ٹائم ہیز کم' نامی کتاب کی مصنف الیسا آئرس نے لکھا کہ 'ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ یوم جمہوریہ کی دعوت کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ یہ کوئی معمولی دعوت نہیں۔'

ولسر سینٹر کے ایشیا پروگرام کے نائب ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے لکھا: 'ٹرمپ نے باوقار دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اس رشتے کو ایک اور دھچکہ لگا جو حالیہ دنوں اپنی کچھ چمک کھو بیٹھا ہے۔'

ناول نگار کرشن پرتاپ سنگھ نے اس خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'یہ منہ پر زور دار تھپڑ ہے۔۔۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک زمانے میں نریندر مودی کے قریبی سمجھے جانے والے واحد مسلم چہرہ ظفر سریش والا نے ٹویٹ کیا: 'یہ شخص ڈونلڈ ٹرمپ سب سے زیادہ ناقابل پیش گو ہے۔ یوم جمہوریہ کے متبرک موقعے پر مدعو کیے جانے کے لائق نہ تو ان کا قد ہے اور نہ ہی ان کا کلاس ہے۔ دنیا میں ان سے بہت بہتر رہنما ہیں جو انڈیا کے قومی اخلاق اور تکثیریت کا احترام کرتے ہیں۔'

رمیش سری وست نامی ایک شخص نے لکھا: ڈونلڈ ٹرمپ نے یوم جمہوریہ میں آنے سے انکار کر دیا ہے۔ امید کہ بھوٹان کے راجہ اپنے روایتی لباس ڈرائی کلیننگ کے لیے بھیج رہے ہوں گے۔'

یہ بھی پڑھیے

انڈیا ایران کا ساتھ دے یا امریکہ کا؟

اور اب دو جمع دو برابر ہے دوستی

پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے ساتھ ٹویٹ کیا کہ 'آپ ایک ساتھ پوتن اور ٹرمپ سے دوستی نہیں کر سکتے، کسی ایک کا انتخاب کریں۔'

بعض لوگوں نے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے واپس لیے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن یہ بات اب دوسری ویب سائٹس پر بھی موجود ہے اور اس کے متعلق اب تک پانچ ہزار سے زیادہ ٹویٹس آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں