ایک پاکستانی اداکار نیپال میں پنڈت کیسے بنے؟

دی مین فرام کھٹمنڈو تصویر کے کاپی رائٹ HAMEED SHAIKH

نیپال میں ہندو مسلم کشیدگی پر ہالی وڈ کی فلم 'دی مین فراہم کھٹمنڈو' کی شوٹنگ مکمل ہوچکی ہے اور آئندہ ماہ رلیز ہوگی۔ اس فلم میں ہندو پنڈت کا کردار پاکستان کے نامور اداکار حمید شیخ اور مسلمان کا کردار بالی وڈ کے سپر اسٹار گلشن گروور ادا کر رہے ہیں۔

حمید شیخ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ وہ پی ٹی وی کوئٹہ سے منسلک تھے اس کے علاوہ فلم 'مور' میں انھوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے جبکہ فلم خدا کے لیے میں بھی انھوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بطور اداکار ہر وہ کام کرنے چاہییں جو اس سے پہلے اس نے نہ کیا ہو۔

انھوں نے کہا: 'فلم مور سے پنڈت تک کے کردار میں جانے کے لیے مجھ کچھ زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑی۔ بطور اداکار میری کچھ ایسی یادیں بھی ہیں اس کے علاوہ ہم پر بالی وڈ کا بہت سارا اثر ہے جو ہم دیکھتے آئے ہیں، میرے کئی ایسے دوست ہیں جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ The Man From Kathmandu

حمید شیخ کا کہنا ہے کہ ان کی پرورش بین المذاہب ماحول میں ہوئی، جس سے بھی اس قسم کے کردار کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ 'کوئٹہ میں میرے گھر کے ایک طرف ہندؤں کا مندر ہے، دوسری طرف پارسیوں کی کالونی اور عبادت کا سینٹر ہے، اسی طرح گھر کے پیچھے احمدیوں کی واحد عبادت گاہ ہے۔ ہمیں یہ ساری چیزیں بچپن میں دیکھنے کو ملیں۔'

حمید شیخ کے مطابق 'دی مین فرام کھٹمنڈو' کا مرکزی خیال ایک مسلمان لڑکے پر مبنی ہے جو امریکہ سے نیپال آکر اپنے والد کی وراثت کو ڈھونڈنا چاہا رہا ہے اسی دوران وہ ایک مسلمان لیڈر کے ہاتھ لگ جاتا ہے جو کردار گلشن گروور نے ادا کیا ہے وہ اسے سیاسی طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے جو بری طرح ناکام ہوتا ہے، اس سے میرا تصادم ہوجاتا ہے میں وہاں کا ایک ہندو سیاسی لیڈر ہوں ایک پنڈت ہوں اور مذہب کے حوالے سے میرا بڑا اثر رسوخ ہے۔

اس فلم کے ڈائریکٹر پیما کا تعلق نیپال سے ہے، ان کے والدین تبت سے نیپال آئے تھے جبکہ پیما نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی اور وہاں ہی اپنی فلم کمپنی ہالی وڈ میں رجسٹرڈ کرادی۔ گلشن گروور کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ فلم پیما ڈھونڈو نے خود لکھی ہے اور وہ ان کے دوست ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ HAMEED SHAIKH

'میں اپنے کام کو بہت اہمیت دیتا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ یارانہ اور دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔ پیما میرا دوست اور یار ہے، اس فلم کی شوٹنگ کے لیے وقت نہیں مل رہا تھا ساتھ میں داڑھی بھی رکھنی تھی لیکن سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔'

حمید شیخ کا کہنا ہے کہ گلشن گروور بہت اچھے آدمی ہیں وہ ان کے لیے ایسے ہی تھے جیسے کوئٹہ کا کوئی آرٹسٹ یا سندھی بلوچی آرٹسٹ۔ جو بھائیوں کی طرح ہوتا ہے۔ انھوں نے مجھے کچھ گر سکھائے کہ کس طرح یہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

'ہم شام میں روز دال روٹی کھاتے تھے اور بڑی گپ شپ رہتی تھی۔ ان کے خاندان کا تعلق راولپنڈی سے ہے ان کی خواہش ہے کہ پاکستان آئیں اور اپنے بزرگوں کا گھر دیکھیں اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ آکر ملیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ HAMEED SHAIKH

دی مین فراہم کھٹمنڈو امریکہ کے علاوہ انڈیا اور نیپال میں رلیز ہوگی، حمید شیخ کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان میں بھی اس کی نمائش ہو لیکن مشکلات یہ ہے کہ یہاں صرف کمرشل فلمی ہی چلتی ہیں۔

حمید شیخ اس سے قبل بھی امریکہ کی فلم میں کام کرچکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہاں لوگ پروفیشنل ہیں جبکہ ہمارے لوگ نئے نئے ہیں اور انھوں نے ابھی تک کوئی سمت طے نہیں کی۔

'ہم دوسرے کلچروں کے داعی ہیں۔ اپنی ایک سوچ ایک خیال ہونا چاہیے تھا وہ بلکل ہی نہیں ہے۔ باہر ان کی کہانیاں ان کے اپنے کلچر سے متعلق ہیں جبکہ ہم باکس آفس کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔'

حمید شیخ تاریخی داستان پر کمرشل فلم بنانے کے خواہشمند ہیں جس کے لیے ریسرچ جاری ہے، انھوں نے بتایا کہ کوہ سلیمان پہاڑی سلسلے کے کئی تاریخی حوالے سے وہ خانہ بدوش کوچی قبائل پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کہانی 1930 کے وقت کی ہے جب برطانوی راج تھا۔

اسی بارے میں