بابری مسجد تنازع: ’کچھ سوال ایسے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں‘

بابری مسجد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایودھیا میں تعمیر بابری مسجد کو چھ دسمبر سنہ 1992 کو مسمار کیا گیا

انڈیا کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد اراضی کیس کی سماعت پر فیصلہ جنوری تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب زمین کی ملکیت کے اس پیچیدہ کیس میں آئندہ برس کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے فیصلہ آنا بہت مشکل ہے۔

حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیمیں یہ کوششیں کر رہی تھیں کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے اور عدالت انتخابات سے پہلے اس بارے میں فیصلہ سنا دے کہ جس زمین پر بابری مسجد تعمیر تھی وہ درحقیقت کس کی ملکیت ہے۔

انڈیا میں آئندہ برس مئی تک پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں اور تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ حکمراں جماعت بی جے پی متنازع اراضی پر رام مندر کی تعمیر کو ایک بڑے انتخابی موضوع کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری میں ہے حالانکہ پارٹی یہ کہتی ہے کہ رام مندر اس کے لیے 'انتخابی اشو' نہیں ہے۔

لیکن عدالت نے اپنے مختصر حکم سے یہ واضح اشارہ دیا کہ اس کے خیال میں ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس سول سوٹ کو ترجیحی بنیاد پر سنا جائے۔ نئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ اب یہ کیس ان کے سامنے جنوری میں پیش کیا جائے جس کے بعد وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ سماعت روزانہ ہونی چاہیے یا نہیں اور سماعت کے لیے نیا بنچ تشکیل دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

بابری مسجد کو ہندو رضاکاروں یا کار سیوکوں نے چھ دسمبر سنہ 1992 کو مسمار کر دیا تھا۔ اس وقت وہاں بی جے پی کی تقریباً پوری اعلی قیادت موجود تھی اور ان رہنماؤں کو ہجوم کے جذبات بھڑکانے کےالزامات کا سامنا ہے۔ ہندو مانتے ہیں کہ جہاں مسجد تعمیر تھی، اسی مقام پر ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے اور اس لیے وہ وہاں ایک عالیشان مندر بنانا چاہتے ہیں۔

Image caption مندر کی تعمیر کی تیاریاں کافی حد تک مکمل ہوچکی ہیں

اس سے پہلے سنہ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازع زمین کو تینوں فریقوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کیس میں دو فریق (رام للا اور نرموہی اکھاڑہ) ہندو ہیں اور ایک مسلمان۔ تینوں نے ہی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق عدالت کا فیصلہ حکمراں بی جے پی کے لیے بری خبر ہے کیونکہ اگر مقدمے کی سماعت آئندہ چند ماہ تک روزانہ جاری رہتی تو پارٹی کے لیے اس تنازع کو سرخیوں میں رکھنا اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا آسان ہوجاتا۔

لیکن اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا حکومت رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون وضع کرے گی جیسا کہ بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور پارٹی کے رہنما سبرامنیم سوامی سمیت بہت سے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد کی کہانی، تصویروں کی زبانی

انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا ’مشکل ترین مقدمہ‘

اسی ماہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ ہندو عقیدت مند لمبے عرصے سے انتظار کر رہے ہیں اور اب حکومت کو مندر کی تعمیر کے لیے قانون وضع کرنا چاہیے۔

عدالت کے حکم کے بعد پارٹی کے سینیئر رہنما سبرامنیم سوامی نے بھی کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمان سے بالاتر نہیں ہے اور پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت بعد میں صرف یہ دیکھ سکتی ہے کہ یہ قانون آئین کی کسوٹی پر کھرا اترتا ہے یا نہیں۔

حکومت کو لوک سبھا میں بھاری اکثریت حاصل ہے لیکن راجیہ سبھا میں وہ اقلیت میں ہے اور وہاں اس کے لیے کسی بھی قانون کو زبردستی منظورکرانا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اگر حکومت کو لگتا ہے کہ اس وقت مندر کی تعمیر کا اعلان سیاسی لحاظ سے اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے، تو وہ ایک آرڈیننس جاری کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو ایسے فیصلے نہیں سنانے چاہییں جن کا اطلاق ممکن نہ ہو۔ اگرچے انھوں نے یہ بات کیرالہ کے سبری مالا مندر کے تناظر میں کہی تھی، جہاں عدالت نے دس سال سے پچاس سال کی عمر کی عورتوں کے داخلے پر عائد پابندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن ان کے اس بیان کو بابری مسجد کیس کے تنظر میں اہم مانا جارہا ہے کیونکہ بہت سی ہندو جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ 'آستھا' یا عقیدے کا سوال ہے اور اس پر کوئی عدالت فیصلہ نہیں سنا سکتی۔

اگر حکومت واقعی آرڈیننس جاری کرتی ہے تو یہ غیر معمولی صورتحال ہوگی۔ حزب اختلاف کانگریس کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہوگا کیونکہ اگر وہ قانون کی مخالفت کرتی ہے تو ہندو ووٹروں کو پیغام جائے گا کہ وہ مندر کی تعمیر کے خلاف ہے۔ اس لیے ممکنہ طور پر پارٹی یہ موقف اختیار کرسکتی ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کو نظرانداز اور کمزور کر رہی ہے اور فریقوں کو عدالت عظمی کےفیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسک گئی

بابری مسجد مقدمہ: ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر

اگر واقعی کوئی آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اسے فوری طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور ایسے میں بی جے پی کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ وہ مندر کی تعمیر کے لیے جو کرسکتی تھی، کر رہی ہے لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں اور عدالتیں راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی کا موقف ہے کہ بی جے پی ہر انتخابات سے پہلے مندر کا مسئلہ اٹھاتی ہے اور اس مرتبہ وہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ملکیت کے اس مقدمے میں ہزاروں دستاویزات کا ترجمہ کرایا گیا ہے اور عدالت کو ان پر غور کرنے میں ہی مہینوں لگ جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @AMITSHAH
Image caption امت شاہ

لیکن فیصلہ کسی کے بھی حق میں جائے کچھ سوال ہیں کہ جن کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

اب یہ ملکیت کا مقدمہ ہے، مسلمانوں کے حق میں گیا تو اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ متنازع مقام پر نصب مورتی کون ہٹائے گا؟ اور ہندوؤں کے حق میں گیا اور مندر کی تعمیر شروع ہوگئی تو کیا ہوگا؟

فریقین عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ لیکن فیصلہ آنے کے بعد بھی اپنے موقف پر قائم رہیں گے یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا کیونکہ جیسا بی جے پی کے صدر امت شاہ کہہ چکے ہیں عدالت کے ایسے حکم صادر نہیں کرنے چاہییں جن پر عمل درآمد ممکن نہ ہو۔

عدالت عظمی کا فیصلہ آنے کے بعد ہی جمہوریت کی آزمائش شروع ہو گی۔

اسی بارے میں