انڈیا کی یونیورسٹیوں میں سوچ پر پابندی

  • شکیل اختر
  • بی بی سی نامہ نگار، دہلی
اے بی وی پی
،تصویر کا کیپشن

آر ایس ایس اور بی جے پی مذہبی قوم پرستی کی علم بردار ہیں، ان کا نظریہ اعتدال پسند سیاسی، سماجی اور ثقافتی نطریے سے متصادم ہے

انڈیا کے سرکردہ مورخ اور دانشور رام چندر گوہا نے ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم کی مخالفت کے بعد گجرات کی احمدآباد یونیورسٹی میں نہ پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ اکتوبر یونیورسٹی نے انھیں آرٹس اینڈ سائنس کے سکول میں پروفیسر مقرر کیا تھا۔ پروفیسر گوہا کی تقرری کے اعلان کے ساتھ ہی آر ایس ایس کی سٹوڈنٹ شاخ اکھل بھاریتہ ودھیارتھی پریشد یعنی اے بی وی پی نے ان کی تقرری کی مخالفت شروع کر دی۔

وائس چانسلر کو دی گئی ایک عرضداشت میں اے بی وی پی نے کہا ہے کہ پروفیسر گوہا ٹیچر یا اکیڈ مک نہیں یلکہ ایک کمیونسٹ ہیں اور اگر انھیں احدآ باد یونیورسٹی میں پڑھانے کی اجازت دی گئی تو جے این یو کی طرح یہاں بھی 'ملک دشمن 'جذبات کو ہوا ملے گی۔

اے بی وی پی نے ان کی کتابوں سے بعض اقتباسات بھی پیش کیے ہیں جنھیں تنظیم نے ملک دشمن بتایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پروفیسر گوہا کی تحریروں میں ہندو ثقافت کی توہین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اے بی وی پی کی تحریک کے بعد احمد آباد یونیورسٹی زبردست دباؤ میں تھی۔ اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ کیمپس میں پروفیسر گوہا محفوظ نہیں ہونگے۔ ان حالات کے پیش نظر گوہا نے وہاں پڑھانے سے معذرت کر لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ادھر دلی یونیورسٹی کی ایک سٹینڈنگ کمیٹی نے ملک کے معروف مفکر اور دلت ادیب کنچن الییاہ کی تین کتابوں کو یونیوسٹی کے پوسٹ گریجویٹ کورسز سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ 'وھائی آئی ایم ناٹ اے ہندو'، 'بدھاز چیلنج ٹو برہمنزم' اور 'اے پوسٹ ہندو انڈیا' یونیورسٹی کے ماسٹڑز کورسز کے نصاب میں شامل تھیں۔ سٹینڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کتابوں میں ہندو ازم کی توہین کی گئی ہے۔

یونیورسٹی علم حاصل کرنے اور جستجو کا مرکز ہوتی ہے۔ جہاں تحقیق و تجزیے میں کسی ایک تصور، نظریے یا سوچ کو سامنے نہیں رکھا جاتا۔ یونیورسٹی تعلیم کا ایک ایسا مرکز ہے جو سبھی تصورات کے لیے کھلا ہوتا ہے اور جہاں بحث و مباحثے اور تنقید کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یونیورسٹیز جمہوری نظام کا بھی ایک اہم ادارہ ہیں جہاں علم و دانش کے ذریعے آرٹس، سائنس اور دوسرے شعبوں میں نئے تصورات ابھرتے ہیں اور نئے خیالات جنم لیتے ہیں۔

انڈیا میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد ملک کی یونیورسٹیز کی خودمختاری کو کافی حد تک کمزور کیا گیا ہے۔ ملک کی سب سے سرکردہ یونیورسٹی جے این یو کو 'ملک دشمن' قرار دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جے این یو کے ایڈمنسٹریٹو بلاک کے پاس کا منظر جہاں طلبہ عام طور پر دھرنے کے لیے یکجا ہوتے ہیں

مسلسل دباؤ کے نتیجے میں یونیورسٹیز میں بحث و مباحثے اور سیمنار وغیرہ کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یونیورسٹیز اب ایسے موضوعات پر بحث و مباحثے اور سیمنار کرانے سے ڈرتی ہیں جن سے حکومت یا آر ایس ایس کے ناراض ہونے کا خدشہ ہو۔

دائیں بازو کی سیاست کے اس دور میں سب سے گہری چوٹ علم و جستجو کے اداروں اور اظہار کی آزادی پر ماری گئی ہے۔ ایک عرصے سے دانشور، پروفیسرز، ادیب اور اعتدال پسندی میں یقین رکھنے والے طلبہ یونیورسٹیز کی خود مختاری اور اکیڈ مکس کو حکومتی مداخلت سے آزاد رکھنے کے لیے پوری شدت سے ہر طرح کے دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

لیکن ریاست کی طاقت رفتہ رفتہ ملک کے تعلیمی اداروں کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ ایک کھلے معاشرے اور جمہوری نظام کے لیے یہ یقیناً ایک برا اور مایوس کن وقت ہے۔