انڈیا: دو برس کی تلاش کے بعد آدم خور شیرنی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ India wild lift department
Image caption انڈیا میں شیروں کی کل آبادی بائئس سو کے قریب ہے

انڈیا میں دو برس کی تلاش کے بعد تیرہ افراہ کو ہلاک کردینے والی آدم خور شیرنی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

انڈیا کی جنوبی ریاست مہاراشٹر کے جنگلات میں چھ برس کی اس شیرنی کی گزشتہ دو سال سے تلاش جاری تھی۔

گزشتہ ماہ جنگلی حیات کے محکمے کے اہلکاروں نے اس شیرنی کو پکڑنے کے لیے پروفیومز کا استعمال بھی کیا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے لوگوں نے اس شیرنی کو ہلاک نہ کیے جانے کے لیے کوششیں کیں لیکن ملک کی اعلی ترین عدالت نے کہا کہ اگر حکام کے پاس اس کو ہلاک کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تو وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

انڈیا کے آدم خور شیروں سے کیسے نمٹا جائے؟

انڈیا کا مقبول ترین شیر ہلاک

محکمۂ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ شیرنی جسے ٹی ون کا نام دیا گیا تھا آخری مرتبہ جس جگہ نظر آئی تھی اس مقام پر ایک گاڑی میں شکار کرنے والی بندوقوں اور بے ہوش کردینے والی کارستوں سے لیس اہلکار گھات لگا کر بیٹھ گئے تھے۔

شیرنی کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات حاصل ہونے کے بعد ایک گشتی ٹیم کو بوراتی نامی گاؤں کی طرف روانہ کیا گیا تھا۔

محکمۂ جنگلات کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ شیرنی کے نظر آتے ہی گشتی ٹیم نے اسے بے ہوشی کے ڈارٹ سے نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن شیرنی نے گشتی ٹیم کی گاڑی پر حملہ کر دیا اور اس دوران دس میٹر کے فاصلے سے چلائی جانے والی ایک گولی سے وہ ہلاک ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آدم خور شیرنی کی تلاش دو سال جاری رہی

اس سال اگست میں اس شیرنی اور اس کے نو ماہ کے دو بچوں نے یاوتمال ضلع کے ایک گاؤں میں تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس گاؤں میں بسنے والے پانچ ہزار افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

کھیتی باڑی کرنے والوں اور مویشی چرانے والے دیہاتیوں کو شام ڈھلتے ہی گاؤں واپس لوٹنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی اور انھیں تناہ جنگل میں جانے سے سختی سے منع کیا گیا تھا۔

اس شیرنی کی تلاش میں سو سے زیادہ کیمرے نصب کیے گئے اور بہت سی جگہوں پر گھوڑوں اور بکریوں کو مختلف جگہوں پر درختوں سے باندھ کر گھات لگائی گی۔

محکمۂ جنگلی حیات کے اہلکاروں نے مشہور زمانہ پرفیوم کیلون کلائن اور آبسیشن فار مین کا استعمال بھی کیا کیونکہ امریکہ میں ایک تجربے سے پتہ چلا تھا کہ شیر ان خوشبؤں سے مائل ہوتے ہیں۔

ٹی ون نے سنہ 2016 کے بعد بیس ماہ کے عرصے میں دس افراد کو ہلاک کیا تھا اور اس سال اگست میں مزید تین افراد کی جانیں لیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا میں آدم خور شیرنی کی تلاش

زخمی ہونے والے تیرہ افراد کے زخموں سے حاصل کیے جانے والے لعاب کے نمونوں سے پتا چلا کہ ان پر مادہ شیرنی حملہ آور ہوئی ہے۔

شیرنی نے جن افراد کو ہلاک کیا ان کی لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں کیونکہ وہ لاشوں کو گھسیٹ کر جنگل میں لے جاتی تھی۔ انسانی گوشت شیرنی کے منہ اس وقت لگا جب وہ ایک شخص کی ٹانگ کھا گئی۔

انڈیا میں مختلف نسل کے بائیس سو شیر موجود ہیں اور دنیا بھر میں شیروں کی کل آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ صرف انڈیا میں موجود ہے۔ صرف مہارشٹر میں دو سو کے قریب شیر ہیں جن کی اکثریت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مخصوص جنگلات میں رہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں