’برسوں کی محنت سے کھڑا کیا کاروبار پل بھر میں تباہ ہو گیا‘

اویغور خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اطلاعات کے مطابق چین کے صوبہ سنکیانگ میں حالیہ دنوں منظر عام پر آنے والے ری ایجوکیشن سنٹرز میں دس لاکھ کے قریب لوگوں کو بند کیا گیا ہے جن کی اکثریت اویغور مسلمانوں کی ہے۔

بہت سے پاکستانیوں نے اس لیے وہاں پر شادیاں کیں کہ وہ اپنی بیوی کے نام پر جائیداد خرید کر اپنے کاروبار کو مستحکم کر سکیں، کیونکہ بقول ان کے، وہ سمجھتے تھے کہ چین پاکستان کا دوست ہے اور وہ پاکستانی شہریوں کو چین میں کبھی بھی نقصاں نہیں پہنچائے گا۔

ذیل میں ایسے پاکستانیوں کی کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں جنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیویاں ان مراکز میں بند ہیں، جس کی وجہ سے جہاں ان کے خاندان بکھر گئے، وہیں ان کے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

٭ ان کہانیوں میں فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں کیوں کہ ان لوگوں کو خطرہ ہے کہ ان کی شناخت ظاہر ہونے سے ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

سنکیانگ کے کیمپوں کے بارے میں بی بی سی کی خصوصی سیریز سے مزید

’بچے رشتے داروں کے گھروں میں رُل رہے ہیں‘

میرے جمعہ پڑھنے کی سزا ’گل بانو کو ملی‘

چین کے خفیہ کیمپ

’چین میں قید ہماری بیویوں کو رہا کروایا جائے‘

'چینی کیمپ میں میری بیوی کو برہنہ کیا گیا'

عبدالکریم

عبدالکریم کا خاندان گذشتہ 40 برس سے گلگت بلتستان اور سنکیانگ کے درمیان کاروبار کر رہا ہے۔ انھوں نے 22 سال قبل چین میں شادی کی تھی۔

انھوں نے اپنی کہانی کچھ یوں سنائی:

'چین کے صوبہ سنکیانگ میں میری اور دیگر کئی پاکستانی کاروباری افراد کی اپنی محنت سے کمائی ہوئی جائیدادیں ہیں مگر قانونی تقاضوں کے سبب سے یہ سب بیویوں کے نام پر ہیں۔

'اگر چین میں کاروبار کامیاب ہو جائے تو وہاں شادی ضرورت بن جاتی ہے کیوں کہ وہاں پر کوئی غیر ملکی زمین، جائیداد نہیں خرید سکتا اور اکثر پاکستانیوں نے اس لیے بھی وہاں پر شادیاں کیں کہ وہ اپنی بیوی کے نام پر جائیداد خرید کر اپنے کاروبار کو مستحکم کر سکیں، کیونکہ سب کا خیال تھا کہ چین پاکستان کا دوست ہے اور وہ کم از کم پاکستانی شہریوں کو چین میں کبھی بھی نقصاں نہیں پہنچائے گا۔

'مگر اب اس کے الٹ ہو رہا ہے۔

'میں نے چین میں 22 سال پہلے محبت کی شادی کی تھی اورمیرے تین بچے ہیں۔ 2014 سے پہلے کے حالات تو ٹھیک تھے مگر 2014 کے بعد چینی حکام، جو پہلے وہاں کے مقامی مسلمانوں کو نشانہ بنایا کرتے تھے، اب انھوں نے پاکستانیوں اور ان کی چینی بیویوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ اور میرے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا ہے۔

'جب میرے آس پاس یہ ہونے لگا تو ہم نے غیر محسوس طور پر اور آہستہ آہستہ اپنا کاروبار سمیٹنا شروع کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'2017 کے آغاز پر مجھے پاکستان آنا پڑا۔ ابھی پاکستان آئے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے کہ مجھے اطلاع ملی کہ رات کے وقت سکیورٹی حکام میری بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں، اور میری بیوی کے قریبی رشتہ داروں کو اطلاع دی کہ وہ بچوں کا خیال رکھیں۔

'یہ اطلاع میری لیے کسی بم سے کم نہیں تھی۔

'اس کے اگلے روز ہی میں نے سڑک کے راستے چین میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر مجھے سرحد ہی پر چینی حکام نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میرے ویزے کی مدت میں صرف 18 دن باقی ہیں، اور مجھے چاہیے کہ میں دوبارہ ویزا لگوا کر چین جاؤں۔ میں نے واپس آ کر اسلام آباد میں چین کے سفارت خانے میں ویزے کے لیے درخواست جمع کروائی، مگر وہ مسترد ہو گئی اور نہ ہی بتایا گیا ہے کہ مجھے ویزا کیوں نہیں دیا جا رہا۔

'برسوں کی محنت سے کھڑا کیا کاروبار تباہ ہو چکا ہے اور اب صرف یہ چاہتا ہوں کہ بچوں کو کسی طرح پاکستان لے آؤں اور جب بیوی آزاد ہو تو اس کو بھی پاکستا ن لے آؤں۔ مگر مجھے ویزا ہی نہیں دیا جا رہا۔ میں عالمی برادری اور حکومت پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہماری مدد کریں کہ میری بیوی پر کوئی الزام نہیں ہے تو اس کو رہا کیا جائے اور اگر کوئی الزام ہے تو مقدمہ چلایا جائے اور میرے بچے میرے حوالے کیے جائیں۔

شاہد زمان

ان کا تعلق پنجاب کے ایک متوسط خاندان سے ہے۔ چین میں تعلیم کرنے کے دوران ان کی ملاقات ایک مسلمان چینی خاتون گل بانو سے ہوئی، جس کے ساتھ مل کر انھوں نے کاروبار شروع کر دیا۔ اس میں وہ پاکستان کے کاروباری افراد کو گل بانو کی مدد سے کنسلٹنسی فراہم کرتے تھے۔

جلد ہی یہ کاروبار چل نکلا اور شاہد نے اپنا دفتر بھی کھول لیا۔ تاہم 2016 میں وہ گل بانو کے آبائی علاقے سنکیانگ چلے گئے اور وہاں گل بانو کے منع کرنے کے باوجود ایک مسجد میں نماز بھی پڑھ لی۔ شاہد زمان کے بقول وہیں سے ان کی مشکلات کا آغاز ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان آنے کے بعد جب 'میں نے گل بانو سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ جب کافی دن تک اس سے رابطہ نہیں ہوا تو میں نے اپنے مشترکہ جاننے والوں سے رابطے کیے۔ حیرت انگیز طور پر کوئی نہیں جانتا تھا کہ گل بانو کہاں ہے۔

'یہ بہت پریشانی کی بات تھی۔ میرے لیے دہری پریشانی تھی کہ اس کے بغیر میرا کاروبار چلنا ممکن نہیں تھا اور وہ میری گرل فرینڈ بھی تھی۔

’چند ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ پھر ہمارے ایک پرانے کاہگ نے رابطہ کیا۔ گل بانو سے تو رابطہ نہیں تھا میں نے سوچا کہ چلو میں خود چین جاتا ہوں۔ جب میں بیجنگ کے ایئر پورٹ پر پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ میں چین میں داخل نہیں ہو سکتا۔ جب میں امیگریشن حکام کو بتایا کہ میں چین میں پڑھتا رہا ہوں، میرے پاس ویزا ہے اور میں کئی مرتبہ آ جا چکا ہوں۔ انھوں نے میری ایک نہ سنی اور مجھے کہا کہ مجھے پہلی دستیاب پرواز سے ملک بدر کر دیا جائے گا کیوںکہ مجھے چین میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

'اب عملاً میرا کاروبار بھی ختم ہو چکا تھا۔ کاہگ رابطہ کرتے تھے مگر گل بانو کے بغیر میں ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، چنانچہ میں نے ایک جگہ پر ملازمت کر لی۔ گل بانو کا آج تک کوئی پتہ نہیں چلا۔'

محمد ظہیر

محمد ظہیر چین سے گارمٹنس کی درآمد برآمد کا کاروبار کرتے تھے، اور اسی دوران انھوں نے صوبیہ نامی ایک چینی خاتون سے شادی کر لی تھی جس سے ان کے دو بچے بھی ہیں۔

انھوں نے بتایا:

'میری شادی اور کاروبار سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ صوبیہ میری کاروباری شراکت دار تھی اور چین میں موجود زیادہ تر کاروباری معاملات وہی دیکھتی تھی جبکہ میں خود پاکستان کے معاملات دیکھتا تھا۔

'ہماری محنت کے بل بوتے پر ہمارا کاروبار روز بروز ترقی کرتا جا رہا تھا۔ ہم نے ایک بڑا مکان، دکان، گودام اور زمنیں خرید لی تھیں۔

'زندگی ہر لحاظ سے خوش گوار تھی، مگر 2015 سے حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔ میں پاکستان میں تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ چین کے سکیورٹی اداروں نے ہماری دکان پر چھاپہ مارا ہے۔

'صوبیہ نے بتایا کہ حکام کو گارمنٹس کی ان اشیا پر اعتراض کیا ہے جن کا کوئی نہ کوئی اسلامی تعلق بنتا تھا۔ اس واقعے کے بعد میں فوراً چین پہنچا اور مقامی حالات کی سن گن لی تو پتہ چلا کہ چین کے حکام کو اسلامی کلچر کے فروغ پر تشویش لاحق ہے۔ بہت سے لوگوں نے بتایا کہ حکام نے علاقے میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

'اس صورتحال پر صوبیہ کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم نے چین کے قوانین اور حکام کی ہدایات کی پابندی کرنی ہے اور گارمنٹس کی وہ اشیا جو کسی نہ کسی طرح اسلامی کلچر کی نمائندگی کرتی تھیں، ان کو فی الفور تلف کر کے اس کی اطلاع حکام کو بھی دی۔

'ان اشیا کی کم از کم مالیت پاکستانی دو کروڑ روپیہ سے زائد تھی۔ یہ ایک بڑا نقصان تھا مگر ہمارا کاروبار چلا ہوا تھا اور ہم نے یہ نقصان اس امید پر برداشت کیا تھا کہ چین کے سکیورٹی حکام بھی مطمئن ہو جائیں گے اور ہمارے لیے مزید مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔

'2016 میں وہ صوبیہ کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ہمراہ لے گئے اور اس کو اتنی مہلت بھی نہ دی کہ وہ میرے ساتھ بات کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'چینی حکام نے صوبیہ کو نو ماہ تک تربیتی مرکز میں رکھا۔ اس دوران سکیورٹی حکام کی جانب سے دکان پر آنے جانے سے مقامی لوگوں، کاروباری اور معاشرتی تعلق رکھنے والوں میں خوف پیدا ہو گیا۔ یہاں تک کہ سیلزمینوں نے بھی جواب دے دیا اور اب کوئی میری دکان پر کام کرنے کو تیار نہیں تھا۔

'ان حالات نے صورتحال یہاں تک پہنچا دی کہ میرا چلتا ہوا کاروبار بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ مقامی لوگوں نے بات چیت کرنا اور میرے ساتھ کاروبار کرنا چھوڑ دیا۔ چین میں جن لوگوں نے مجھے سے کاروبار کے پیسے لینے تھے وہ روزانہ میرے پاس پہنچ جاتے اور جنھوں نے میرے پیسے دینے تھے وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔

'مجبور ہو کر میں پاکستان چلا آیا۔ اب میرے چین کے ویزے کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور میں چین جانا چاہتا ہوں جس کے لیے میں نے درخواست بھی دے رکھی ہے مگر ویزا نہیں دیا جا رہا حالانکہ چین میں میری زمینیں، دکانیں، کاروبار، مکان اور بیوی ہے۔ ایسا اس سے پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔

'میں چاہتا ہوں کہ ایک مرتبہ چین جا کر اپنی تمام جائیداد مال وغیرہ فروخت کر کے صوبیہ کو واپس لے کر واپس پاکستان آ جاؤں مگر ایسا تبھی ممکن ہے جب مجھے ویزا اور صوبیہ کو پاسپورٹ واپس ملے۔

'میرا کاروبار تباہ ہو چکا ہے۔ پیسے مارکیٹ میں پھنس چکے ہیں۔ میں اس وقت گزر اوقات کے لیے پاکستان میں ایک ادارے میں سیلز مین کی نوکرری کر رہا ہوں۔ میرا ایک ایک لمحہ انتہائی کٹھن اور صبر آزما ہے۔'

اسی بارے میں