میرے جمعہ پڑھنے کی سزا ’گل بانو کو ملی‘

اویغور خاتون تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کاشغر کی ایک نوجوان اویغور خاتون (فائل فوٹو)

ایک اطلاع کے مطابق چین کے صوبہ سنکیانگ میں حالیہ دنوں میں منظر عام پر آنے والے ’ری ایجوکیشن سنٹرز‘ میں دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں کو یہ کہہ کر رکھا گیا ہے کہ انھیں تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔

چینی حکام کس بِنا پر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو ان کیمپوں میں لایا جائے؟

ہم نے یہ سوال ایسے پاکستانی شہریوں کے سامنے رکھا جن کی بیویاں ان کیمپوں میں بند ہیں۔ انھوں نے جو کہانیاں سنائیں ان سے وہ وجوہات ظاہر ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر لوگوں کو پکڑا جاتا ہے۔

٭ ان کہانیوں میں فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں کیوں کہ ان لوگوں کو خطرہ ہے کہ ان کی شناخت ظاہر ہونے سے ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

سنکیانگ کے کیمپوں کے بارے میں بی بی سی کی خصوصی سیریز سے مزید

چین کے خفیہ کیمپ

’چین میں قید ہماری بیویوں کو رہا کروایا جائے‘

'چینی کیمپ میں میری بیوی کو برہنہ کیا گیا'

شاہد زمان

میں نے گل بانو نامی ایک خاتون کے ساتھ مل کر چین میں کنسلٹنٹ کا کاروبار شروع کیا۔ اس کا تعلق صوبہ سنکیانگ کے مسلمان خاندان سے ہے۔

ہم پاکستانی تاجروں کو ویزا سے لے کر مارکیٹ، سپلائر، خریداری اور ترسیل کی خدمات فراہم کی جاتی تھیں۔ یہ کاروبار کافی کامیاب ثابت ہوا۔

2016 کے آخر میں ہمارے ایک کاہگ نے ایک بڑا آرڈر دیا۔ میں نے جب اس بارے میں گل بانو سے بات کی تو اس نے مجھے بتایا کہ وہ صوبہ سنکیانگ میں اپنے آبائی علاقے میں ہے۔ میں نے اس سے پہلے چین کے تمام سفر ہوائی سفر کیے تھے۔ یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ میں سڑک کے راستے آتا ہوں اس طرح وہ علاقہ بھی دیکھ لوں گا اور دونوں مل کر اس پروجیکٹ کی بھی تیاری کر لیں گے۔

مجھے یاد ہے کہ اس نے مجھے روکنا چاہا مگر میں نہیں رکا اور پھر ایک روز میں سڑک کے ذریعے سے سفر کرتے ہوئے اس علاقے تک پہنچ گیا، جہاں پر اس نے میرے قیام کے لیے ایک ہوٹل کا انتظام کر رکھا تھا۔

مجھے اس علاقے میں پہنچ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہاں کی اکثریت مسلمان ہے اور کچھ مساجد بھی نظر آئیں۔ میں وہاں پر ایک رات رکا تو دوسرے دن گل بانو نے مجھ سے کہا کہ وہ نہیں چاہتی کہ میں اس علاقے میں زیادہ دن رکوں اس لیے مجھے چاہیے کہ میں آج ہی چلا جاؤں اور وہ بعد میں جلد پہنچ جائے گی۔

میں نے اس کی ایک نہ سنی اور کہا کہ دو تین دن میں علاقہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ میری ضد کے آگے بے بس ہو گئی۔ اس نے مجھے منع کیا تھا کہ میں مسجد میں نماز پڑھنے نہ جاؤں۔

میں نے ایک بار پھر اس کی ہدایت پر عمل نہیں کیا اور جمعے کی نماز مسجد میں پڑھی، علاقہ دیکھا اور پھر واپس بیجنگ چلا گیا۔ گل بانو بھی تین دن بعد بیجنگ پہنچ گئی۔

وہ کچھ پریشان تھی۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ سکیورٹی حکام نے اس سے میرے متعلق پوچھ گچھ کی ہے۔ میں اس سے پہلے صوبہ سنکیانگ کے حالات کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اس نے مجھے تفصیل سے بتایا تو میں بھی پریشان ہو گیا اور مجھے افسوس ہوا۔ تاہم اس نے مجھے تسلی دی کہ کچھ نہیں ہو گا۔

ہم دونوں نے اپنا پروجیکٹ پورا کیا۔ کاہگ مکمل طور پر مطمئن ہوا اور ایک بڑی رقم ہمارے حصے میں آ گئی۔ میں گل بانو کے ساتھ اچھا وقت گزار کر پاکستان چلا آیا۔

2016 کے آخر میں میں پاکستان آیا ہوا تھا کہ یہاں سے گل بانو سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ جب کافی دن تک اس سے رابطہ نہیں ہوا تو میں نے اپنے مشترکہ جاننے والوں سے رابطے کیے۔ حیرت انگیز طور پر کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ گل بانو کہاں ہے۔

یہ بہت پریشانی کی بات تھی۔ میرے لیے دہری پریشانی تھی کہ اس کے بغیر میرا کاروبار چلنا ممکن نہیں تھا اور وہ میری گرل فرینڈ بھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اویغور خواتین (فائل فوٹو)

اس کے بعد جب میں نے چین جانے کی کوشش کی تو مجھے بیجنگ ایئر پورٹ پر بتایا گیا کہ میں چین میں داخل نہیں ہو سکتا۔ میں نے امیگریشن حکام کو بتایا کہ میں چین میں پڑھتا رہا ہوں، میرے پاس ویزا ہے اور میں کئی مرتبہ آ جا چکا ہوں، مگر انھوں نے میری ایک نہ سنی اور مجھے کہا کہ مجھے پہلی دستیاب پرواز سے ملک بدر کر دیا جائے گا کیوںکہ مجھے چین میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

ایسے بہت سے لوگوں سے میری بات ہوئی۔ ان کو جب میں نے اپنے ساتھ گزرنے والے حالات بتائے تو ان کا کہنا تھا کہ میرے جمعے کی نماز مسجد میں پڑھنے کے سبب سے گل بانو زیر عتاب آئی ہے۔ وہ کب آئے گی اور رہا ہو کر میرے ساتھ رابطہ کرے گی یا نہیں، مجھے کچھ پتہ نہیں، مگر میں اس کو اکثر بہت شدت سے یاد کرتا ہوں۔

محمد جمیل

میرا تعلق صوبہ سندھ کے خانہ بدوش قبیلے سے ہے۔ ہمارا کاروبار سانپ، بچھو، کچھوے وغیرہ پکڑنے کا ہے جو پاکستان میں غیر قانونی ہے مگر ہمارے لیے کبھی زیادہ مسائل پیدا نہیں ہوئے۔

میں نے یہی جانور اور ان کے اعضا چین سپلائی کرنے کا کام شروع کر دیا اور چین آنے جانے لگا۔

ایک دوست نے چینی لڑکی کے ساتھ شادی کے فوائد بتائے تو میں فوراً تیار ہو گیا اور 2016 میں میری شادی ایک غیر مسلم چینی خاتون سے ہو گئی۔ میں نے اسے بیجنگ میں گھر بھی دلا دیا۔

میری بیوی میرے کاروبار کے لیے بھی بہت اچھی شراکت کار ثابت ہوئی اور اب میرا زیادہ وقت بیجنگ میں گزرتا تھا۔ 2017 میں میری بیوی نے پاکستان دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر میں اس کو لے کر اسلام آباد پہنچ گیا۔

میرے گھر والے بھی میری بیوی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے۔ چند دن رہنے کے بعد ہم دونوں واپس بیجنگ پہنچ گئے۔

یہ 2017 کے آخری دن تھے۔ میری بیوی حاملہ ہو چکی تھی۔ ہماری زندگی میں کوئی مسائل نہیں تھے۔ مگر ایک رات چین کے سکیورٹی حکام نے میرے گھر پر مجھ سے میرا پاسپورٹ طلب کیا اور پھر میری بیوی کے کاغذات دیکھے اور اس کو ساتھ چلنے کو کہا۔ میں نے وجہ پوچھنا چاہی تو جواب ملا کہ جلد واپس آ جائے گی، اس کو لازمی تربیت کی ضرورت ہے۔

مجھے انھوں نے حکم دیا کہ یہ گھر میری بیوی کے نام ہے، اس لیے میں اسے فوری طور پر خالی کر دوں۔

میں اس صورتحال سے بوکھلا گیا۔ اپنے اسی دوست سے رابطہ کیا تو اس نے ایک ایسی خبر سنائی جس سے میرے ہوش اڑ گئے۔

اس نے کہا کہ اس کی بیوی کو بھی چند دن پہلے سکیورٹی حکام یہی کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے کہ اس کو بھی تربیت کی ضرورت ہے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ کیا کروں، کیونکہ میں بہت زیادہ لوگوں کو بھی نہیں جانتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی مسلمان خواتین (فائل فوٹو)

آخر دوست کے پاس گیا۔ وہ کئی لوگوں کو جانتا تھا، ہم سب کے پاس گئے۔ حکام کے پاس بھی گیا اور ان کو بتایا کہ میرا اور میری بیوی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے ان کے سامنے اسلام میں حرام اشیا بھی استعمال کیں مگر ان کا ایک ہی جواب تھا کہ انتظار کرو۔

کئی ماہ چین میں رہنے کے بعد واپس پاکستان آ چکا ہوں۔ میرا چین کا ویزا ابھی بھی موجود ہے مگر چین جانے کا دل نہیں چاہتا کیونکہ نہ تو میرا اور نہ ہی میری بیوی کا اسلام سے کوئی تعلق تھا پھر بھی پتہ نہیں اس کو کس بات کی سزا دی گئی ہے۔ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ میری حاملہ بیوی کا کیا بنا۔

جواد حسین

میرا تعلق پنجاب کے شہر گجرات سے ہے۔ ہم لوگ خاندانی طور پر کپڑے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ہمارے کاروبار کا زیادہ سلسلہ کئی سالوں سے بھارت کے ساتھ تھا، مگر دونوں ملکوں کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہم نے اب چین کا رخ کر لیا۔

میں جب بھی چین جاتا تھا تو سنکیانگ کے شہر ارومچی کی ایک مسلمان خاتون میرے لیے مترجم کے فرائض انجام دیتی تھی۔ میں نے اس کو انتہائی ایماندار پایا تھا۔ چین میں قوانین کی وجہ سے شادی ضرورت بھی تھی جس وجہ سے اس کے گھر والوں کو شادی کا پیغام دیا جو قبول کر لیا گیا اور 2005 ہی میں ہماری شادی ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی مسلمان (فائل فوٹو)

2005 سے لے کر 2014 تک تقریباً ہر سال وہ میرے ہمراہ پاکستان آتی رہی۔ اس دوران ہمارے دو بچے پیدا ہوئے۔ 2015 میں اس کی خواہش پر میں نے اس کے ہمراہ حج بھی کیا۔

2016 تک زندگی میں کوئی بھی مسائل نہیں تھے مگر جب اسی سال کے آخری میں ہمارے گھر سکیورٹی حکام آئے۔ انھوں نے مجھ سے میرا پاکستانی پاسپورٹ طلب کیا۔ میں سمجھا کہ روٹین کی کوئی کارروائی ہے۔ میرے پاسپورٹ کے بعد انھوں نے بچوں اور بیوی کو طلب کیا اور ان کے بھی پاسپورٹ طلب کیے۔ پھر وہ پاسپورٹ اپنے ساتھ لے کر چلے گے اور ہمیں بتایا کہ تحقیقات ہو رہی ہیں اور ان تحقیقات تک یہ سب پاسپورٹ ضبط رہیں گے۔

اس موقعے پر میں نے اپنا پاسپورٹ واپس لینے کی کوشش کی مگر انھوں نے نرمی سے کہا کہ تعاون کرنا میرے مفاد میں ہو گا۔ جس پر میں خاموش ہو گیا۔

اسی پر بس نہیں ہوا کہ بلکہ دو تین روز بعد مقامی پولیس اہلکار آئے اور انھوں نے بتایا کہ میری بیوی اوربچوں پر علاقہ چھوڑنے پر پابندی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کی پابندیاں لگائی گئیں۔ صبح شام مقامی پولیس کے پاس حاضری کو یقینی قرار دیا گیا۔

پہلے تو میں سمجھا کہ یہ سب کچھ عارضی ہے اور جلد ہی حالات بہتر ہو جائیں گے، مگر یہ میری خام خیالی تھی۔ 2016 سے لے کر اب تک پابندیاں برقرار ہیں، بلکہ یہ پابندیاں روز بروز سخت تر ہوتی جا رہی ہیں۔

مجھے میرا پاسپورٹ تو ایک سال قبل واپس کر دیا گیا ہے مگر میرے بیوی بچوں کا پاسپورٹ ابھی تک ضبط ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں