ہندو مسلم منافرت کی دھیمی آنچ پر ابلتا بہار

سخت گیر ہندو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے سیتامڑھی شہر میں ہندوؤں کے تہوار درگا پوجا کے موقعے پر مشتعل ہجوم نے ایک 80 سالہ شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔

کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب جلوس نے اس حساس علاقے سے جانے کی کوشش کی جہاں سے انھیں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پھر دوسرے راستے کا انتخاب کیا گیا تاہم جب یہ خبر شہر کے دوسرے حصے میں پہنچ تو بڑی تعداد میں لوگوں نے اس محلے پر حملہ کر دیا۔

دونوں طرف سے پتھراؤ ہوئے۔ پولیس نے مداخلت کی، انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور پولیس کا دعوی ہے کہ انھوں نے جلد ہی صورتحال پرکنٹرول کر لیا۔

لیکن اسی دوران واپس ہونے والی بھیڑ نے 80 سالہ زین العابدین کو ہلاک کر دیا اور شواہد کو ختم کرنے کے لیے ان کی لاش کو جلانے کی کوشش بھی کی۔

پولیس نے آدھی جلی ہوئی لاش برآمد کی۔ سیتامڑھی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وکاس برمن نے بی بی سی کو بتایا: 'اس واقعے کے بعد غیر سماجی عناصر نے لاش کو لکڑی ڈال کر جلانے کی کوشش کی۔ تفصیل جانچ میں سامنے آئے گی۔' اس کیس میں پولیس نے 38 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

یہ آج کے بہار کی تصویر ہے۔ تقریبا تین دہائی پہلے سنہ 1989 میں بھاگلپور میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن اس کے بعد عام طور پر بہار پرسکون رہا۔

کیسی تبدیلی آئی؟

بہار کے وزیر اعلی نیتیش کمار نے سنہ 2017 میں جب دوسری بار بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کی تو بہار کے حالات میں تبدیلی نظر آنے لگی۔ رواں سال رام نومی کے تہوار کے موقعے پر بہت سے اضلاع میں پرتشدد واقعات رونما ہو‏ئے جن میں اورنگ آباد بھی شامل ہے۔

اس شہر کے نوواڈیہ علاقے میں ایک تنگ راستہ نعیم محمد کے گھر تک جاتا ہے۔ بےترتیب اور ٹوٹے پھوٹے گھر میں بیٹھے محمد نعیم پھوٹ پڑتے ہیں: 'بھیک مانگ کر کھا رہے ہیں اور بھیک مانگ کر علاج کروا رہے ہیں۔' ان کے مطابق ان کے شہر میں پہلے ایسے پرتشدد واقعات نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

بہار کے مسلمانوں میں افراتفری کے اسباب

'کیا ہم پاکستانی ہیں کہ ایسے گانے بجائے گئے'

انھوں نے بتایا: 'ہجوم مشتعل تھا، وہ نعرے لگا رہے تھے۔ ہاتھ میں تلواریں اور آنکھوں میں نفرت تھی۔' پرائیوٹ ایمبولینس چلانے والے محمد نعیم جب کھانے کے لیے گھر جا رہے تھے تو ایک گولی انھیں آ کر لگی۔

محمد نعیم اب معذور ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں: 'ہماری غلطی کیا تھی، ہمیں گولی کیوں ماری گئی، اب ہمارا گزر بسر کیسے ہوگا، ہماری زندگی کیسے کٹے گی؟'

رام نومی کے موقعے پر جن علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھے ان میں اورنگ آباد کے علاوہ، نوادہ، بھاگلپور ، منگیر، سیوان، روسڑا اور گیا جیسے اضلاع شامل ہیں۔

ان میں دکانیں لوٹی اور نذر آتش کی گئیں۔ ان میں سے زیادہ تر دکانیں مسلمانوں کی تھیں۔ مسلم مخالف نعرے بازی ہوئی اور ان میں پاکستان جانے، ٹوپی اتارنے، وندے ماترم اور جے شری رام کہنے کے نعرے لگائے گئے۔ بعض مسلم محلوں میں جلوس پر پتھراؤ بھی ہوئے۔

بہار میں پہلی بار اتنے سارے اضلاع میں ایک ساتھ پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔

شہر مختلف لیکن پیٹرن ایک

اورنگ آباد میں عیدگاہ کی زمین پر ہندو شدت پسند جماعت بجرنگ دل کا پرچم لگا دیا گیا۔ جلوس کو مسلمانوں کی گھنی آبادی کے درمیان سے لے جانے کی کوشش کی گئی۔ جلوس سے اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور لوگ بڑی تعداد میں تلواریں لے کر جلوس میں شامل ہوئے، چن چن کر مسلمانوں کی دکانيں جلائی گئیں۔

اسی طرح نوادہ میں مورتی توڑنے اور پوسٹر پھاڑنے کے الزامات پر کشیدگی پیدا کی گئی جبکہ روسڑا میں مقامی جامع مسجد پر حملہ کیا گیا اور بھگوا پرچم لہرایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چیتی درگا کی مورتی پر ایک مسلمان کے گھر سے چپل پھینکی گئی جس کے جواب میں پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور آگ زنی کے واقعات ہوئے۔

بھاگلپور میں 'ہندوؤں کے نئے سال' کے موقعے پر ایک ریلی نکالی گئي جوکہ بالکل نئی بات ہے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اس ریلی میں نفرت انگیز نعرے لگائے گئے۔ تلواریں لہرائی گئيں، سنگ باری ہوئی، دکانیں لوٹی اور نذر آتش کی گئيں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: اڑیسہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی، 35 افراد گرفتار

’ہماری سرکار ہے نماز ادا کرنےنہیں دیں گے‘

ان تمام علاقوں میں بی جے پی، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔ اورنگ آباد میں بی جے پی کے رہنما انیل سنگھ جیل گئے اور جب رہا ہوئے تو وہ ضلعی نائب صدر بنا دیے گئے۔ نوادہ میں تو رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر گریراج سنگھ پر ہی لوگوں کو مشتعل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، تاہم وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

بہر حال فساد بھڑکانے کے الزامات میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تو گریراج سنگھ ان سے ملنے جیل گئے جو اپنے آپ میں متنازع فیہ ہے۔

بھاگلپور میں مرکزی وزیر اشونی چوبے کے بیٹے ارجت شاشوت چوبے پر مشتعل جلوس کی رہنمائی کے الزامات ہیں۔ اس جلوس کے مسلم علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کے بعد پرتشدد فسادات ہوئے اور ارجت شاشوت کو گرفتار بھی کیا گیا۔

بھاگلپور کے سماجی کارکن ادے کہتے ہیں: 'ہر جگہ ایک سا پیٹرن تھا۔ ایک ساتھ تلوار لے کر دوڑتے لوگ، ڈی جے پر نفرت پھیلانے والے گیت، نئے نئے بہانے سے جلوس نکالنا اور اسے مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں لے جانا، ہنومان جی کے پرچم کا سرخ سے بھگوا ہونا، غرض ہرجگہ ایک سا پیٹرن تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منصوبہ بند تھا اور یہ صورت سارے بہار میں نظر آئی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں مسلمانوں کا ایک خاندان ہندو کیسے بنا؟

اب مسلمان ہندو نہیں ہیں!

ادے کہتے ہیں: 'رام نومی کے واقعات سے ہمیں محسوس ہوا کہ ایک گیت فساد کرا سکتا ہے۔ اس کی تیاری دو سال سے چل رہی تھی۔ اس کی اشتعال انگیز آواز دور دور تک لوگوں تک پہنچتی تھی۔ اس کا استعمال بڑے پیمانے پر رام نومی کے دوران کیا گیا۔ حملے کے انداز میں 'جے شری رام' کا نعرہ لگایا گيا۔'

Image caption بہار کے داخلہ سیکریٹری عامر سبحانی

حالات کی بہتری کا دعوی

بہار میں رام نومی کے دوران تشدد کے بعد ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ بہار بھر میں ایک ہی پیٹرن کے پر تشدد واقعات ہوئے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تلواروں کی آن لائن خریداری کا ذکر کیا ہے۔

بہار کے داخلہ سکریٹری عامر سبحانی کہتے ہیں: تلواروں کی آن لائن خرید کی کوئی معلومات نہیں ہے۔ جلوس کی اجازت دیتے وقت ہم یہ شرط لگا دیتے ہیں کہ کوئی ڈی جے نہیں ہوگا یا مشتعل کرنے والے گیت نہیں بجائے جائیں گے۔ اس سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے اور حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں۔'

لیکن گذشتہ دو سالوں میں، بہار میں فرقہ وارانہ تشدد کے کتنے واقعات ہوئے اس کے متعلق انھوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسے اعدادوشمار نہیں ہیں۔ بی بی سی نے بہار پولیس سے بار بار رابطے کی کوشش کی لیکن اس بارے میں حکام نے صرف یہ کہا کہ صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GIRIRAJ SINGH/TWITTER
Image caption بی جے پی رہنما اور مرکزی وزیر نے فساد کرنے کے ملزمان سے جیل میں ملاقات کی

لیکن رواں سال اپریل میں معرف اخبار 'انڈین ایکسپریس' نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا کہ جب سے نتیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ دوبارہ اتحاد کر کے حکومت بنائی ہے، فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

'انڈین ایکسپریس' کے مطابق 2012 میں بہار میں فرقہ وارانہ تشدد کے 50 واقعات ہوئے جبکہ 2017 میں ہندو مسلمان تصادم کے 270 سے زیادہ واقعات ہوئے۔ جبکہ 2018 کے پہلے تین مہینوں میں ہی بہار میں 64 فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔

آئندہ سال کے انتخابات سے قبل

سنہ 2019 کے عام انتخابات قریب آ رہے ہیں اور ایودھیا میں رام مندر کے معاملے کو دوبارہ زور شور سے اٹھایا جا رہا ہے اور نوادہ کے ایم پی گریراج سنگھ اس کے متعلق بلند بانگ بیان دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گریراج سنگھ نے کہا: '72 سال سے جب سے یہ معاملہ عدالت میں گیا ہے اس بعد کئی دہائیاں بیت چکی ہیں۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ہندو نرم خو ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے صبر کا امتحان لیا جائے۔

اس کے ساتھ انھوں نے الہ آباد کے نام کو تبدیل کیے جانے کے بعد بہار میں مغل سے تعلق رکھنے والے تمام شہروں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز دے ڈالی۔

یہ بھی پڑھیے

ہندو مسلم تنازعے کی ایجاد کا سیاسی فارمولا

گائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘

خیال رہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں کی طرف سے ان متنازع بیانات سے وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی سخت گیر ہندو تنظیموں کو جلا مل رہی ہے۔ 'ہندوؤں کو ذلیل کیے جانے' کے دعوے بھڑکائے جا رہے ہیں اور ان کی جانب سے ہندوؤں میں غصہ پیدا کرنے کی کوشش واضح طور پر نظر آتی ہے۔

بہار میں وقفے وقفے سے ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اور تہوار کے موقع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویش کا باعث ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ جمہوریت کے سب سے بڑے تہوار یعنی عام انتخابات میں فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ اس سے سیاسی مفاد حاصل ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں