ایک گھر، دو امیدوار: سری لنکا پھر سے بحران کی زد میں

صدر میتری پال سیریسینا، وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے، مہندا راجا پاکسے
Image caption صدر میتری پال سیریسینا، وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے اور سابق صدر مہندا راجا پاکسے

سری لنکا میں فی الوقت جو سیاسی ہلچل جاری ہے وہ 'ہاؤس آف کارڈز' اور 'گیم آف تھرونز' اور شیکسپیئر کے رومن المیے کے درمیان کہیں فٹ آتا ہے۔

  • اس میں ایک ایسا شخص ہے جس نے اپنے رہنما کو دھوکہ دیا اور بعد میں اسے ہی واپس اقتدار میں لایا۔
  • اس میں قتل کا مبینہ منصوبہ ہے۔
  • اس میں، دو ایسے افراد ہیں جو سفید بنگلے پر اپنا اپنا دعوی پیش کر رہے ہیں۔ یہ بنگلہ سری لنکا کی سیاسی طاقت کی علامت ہے۔

اس خوبصورت ملک کو کس قسم کا آئینی بحران درپیش ہے؟ اس سوال کے بہت سے جوابات ہیں۔ ان میں سے کچھ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں:

بحران کیسے پیدا ہوا؟

اس کا جواب بہت الجھا ہوا ہے کیونکہ اس کہانی میں بہت سے موڑ اور پیچ و خم ہیں۔

گذشتہ ہفتے سری لنکا کے صدر میتری پال سیریسینا نے وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے کو عہدے سے ہٹا کر ملک کو چونکا دیا۔ سریسینا نے کابینہ اور پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کر دیا۔

مزید ڈرامہ اس وقت سامنے آیا جب سریسینا نے مہندا راجا پاکسے کو وزیراعظم کے عہدے پر مقرر کر دیا، وہی راجا پاکسے جنھیں انھوں نے سنہ 2015 کے صدارتی انتخاب میں شکست دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے اور سابق صدر مہندا راجا پاکسے کی پانچ نومبر کو ہونے والی ملاقات

مہندا راجپکشے نے 2005-2015 کے اہم دور میں ملک کی قیادت کی۔

انھوں نے اپنے دور حکومت میں سری لنکا میں کئی دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کا متنازع خاتمہ بھی دیکھا۔ ان کے خاندان اور قریبی دوستوں پر بدعنوانی، جنگی جرائم اور ملک کو اربوں ڈالر کے چینی قرضوں کے بوجھ تلے دبانے کے الزامات عائد کیے گئے۔

راجا پاکسے کے خاندان نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ آج بھی ان کا خاندان سری لنکا کے لوگوں میں مقبول ہے، خاص طور پر سری لنکا کے دیہی علاقوں میں۔ لیکن صحافیوں کا خیال ہے کہ انڈیا، یورپی یونین اور امریکہ راجپکشے کی واپسی سے خوش نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکن مسلمانوں کے خلاف تشدد کی لہر کیوں؟

سری لنکا: مسلمانوں پر حملوں کے بعد ہنگامی حالت نافذ

اب سوال یہ ہے کہ سرسینا کے اس یو ٹرن پر حیرت کیوں ہے؟ اس کے جواب کے لیے 2015 کے انتخابات پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اس وقت سیریسینا پر راجا پاکسے کو فریب دینے کا الزام لگا تھا۔ ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھنے کے باوجود سیریسینا نے راجا پاکسے کو شکست دینے کے لیے وکرماسنگھے سے ہاتھ ملا لیا تھا۔

اب جبکہ سیریسینا اور وکرماسنگھے تعلقات کشیدہ ہیں تو وہ اپنے پرانے ساتھی راجا پاکسے کی جانب لوٹ آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماضی میں ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھنے کے باوجود سیریسینا نے راجا پاکسے کو شکست دینے کے لیے وکرماسنگھے سے ہاتھ ملا لیا تھا

کیا راجا پاکسےنے عہدہ سنبھال لیا ہے؟

مکمل طور پر نہیں، کیونکہ وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے والے وکرماسنگھے نے 'ٹمپل ٹری' یعنی وزیر اعظم کا سرکاری گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سریسینا نے جو کیا وہ غیر قانونی ہے اور وہ اب بھی وزیر اعظم ہیں۔ وکرماسنگھے چاہتے ہیں کہ پارلیمان کی کارروائی شروع ہو تاکہ پارلیمان اس مسئلے پر ووٹ ڈال سکیں۔ لیکن سیریسینا ایسا نہیں ہونے دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیریسینا ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ راجا پاکسے کو وزیراعظم بنانے کے لیے انھیں ضروری اکثریت حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکا میں چین کی سرمایہ کاری کے خلاف پرتشدد احتجاج

سری لنکا: ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے سوشل میڈیا بند

دوسری طرف سیریسینا اور راجا پاکسے کا اتحاد وکرماسنگھے کے وفاداروں کو اپنی جانب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض پارلیمان کے اراکین نے الزام لگایا ہے کہ انھیں رشوت دی جا رہی ہے۔ جبکہ راجا پاکسے کی پارٹی کے لوگوں نے اس سے انکار کیا ہے۔

اس کے باوجود حکومت کا کام مکمل طور پر معطل نہیں ہوا ہے۔ مہندا راجا پاکسے نے کام شروع کردیا ہے اور ان کی کابینہ نے حلف لے لیا ہے۔ سرکاری ویب سائٹ پر وزیر اعظم کے طور پر راجا پاکسے کا نام ہے نہ کہ سریسینا کا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وکرماسنگھے کے حامی 'ٹمپل ٹریز' کے قریب جمع ہیں اور حفاظتی دائرہ بنا رکھا ہے۔ انھوں نے منتر پڑھنے کے لیے بودھ راہبوں کو بھی بلا لیا ہے

لوگ کیوں فکر مند ہیں؟

یہاں صورتحال کشیدہ ہے اور طرفین میں پہلے ہی مہلک جھڑپ ہو چکی ہے۔

وکرماسنگھے کے حامی 'ٹمپل ٹریز' کے قریب جمع ہیں اور حفاظتی دائرہ بنا رکھا ہے۔ انھوں نے منتر پڑھنے کے لیے بودھ راہبوں کو بھی بلا لیا ہے۔ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ پولیس وکرما سنگھے سے بنگلہ خالی نہ کروا پائے۔

پارلیمانی ووٹ سے یہ بحران حل کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود شکست خوردہ پارٹی کے حامیوں کی جانب سے سڑکوں پر پرتشدد احتجاج کے خدشات ہیں۔

اس کی جڑ کیا ہے؟

صدر سریسینا نے ہفتے کے اختتام پر ایک طویل بیان میں کہا کہ ان کے اور ویکرماسنگھے کے درمیان برسوں سے کشیدگی تھی۔ انھوں نے ویکرماسنگھے کو 'متکبر اور ضدی' کہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیر اعظم کے گھر کے سامنے وکرماسنگھے کے حامیوں کی بھیڑ

سریسینا نے وکرماسنگھے کا نام سری لنکا کے مرکزی بینک اور اس کے متنازع بانڈ کی سیل کے ساتھ بھی جوڑا جس کے نتیجے میں 11 ارب سری لنکن روپے کے نقصان کی بات کی جا رہی ہے۔ سیریسینا نے یہ بھی کہا کہ ایک وزیر کابینہ ان کے قتل کی سازش میں ملوث تھے اور پولیس نے ایک جانچ میں اس کا پردہ فاش کیا۔

جبکہ وکرماسنگھے ان سب کی ذمہ داری سریسینا کے غیر قانونی فیصلے پر ڈالتے ہیں۔

سری لنکا کے سیاسی ماہرین پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ سریسینا اور وکرماسنگھے کا اتحاد زیادہ عرصے تک نہیں رہے گا، لیکن اتحاد جس طرح ٹوٹا اس نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا۔

کیا یہ سب قانون کے دائرے میں ہو رہا ہے؟

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح وکرماسنگھے کو عہدے سے برطرف کیا گیا ہے وہ غیر قانونی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سری لنکن فوج

آئین کے ماہر ڈاکٹر نہال جےوکرما نے بتایا کہ تین سال پہلے ہونے والی آئینی ترمیم کی روح سے صدر کو وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار نہیں ہے۔

ڈاکٹر جے وکرما نے بتایا کہ آئین کی 19 ویں ترمیم نے صدر کے تمام تر اختیارات کو تقریبا ختم کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ترامیم خود سریسینا اور وکرماسنگھے ہی لے کر آئے تھے۔

جے وکرما کے مطابق صرف پارلیمنمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین کے تحت وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹائے۔

دوسری طرف سریسینا نے اپنے دفاع میں آئین کا ایک حصے کا ذکر کیا ہے جو صدر کو ایک نئے وزیراعظم مقرر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم آئینی امور کے ماہرین اس دلیل پر متفق نہیں ہیں۔

سری لنکا کیوں اہم ہے؟

سری لنکا ایک ایسا ملک ہے جو دہائیوں تک خانہ جنگی اور خونریز جنگ سے نبرد آزما رہا ہے۔ سری لنکا ایک ایسا ملک ہے جو حکومت اور علیحدگی پسند تمل ٹائگرز کے درمیان پستا رہا ہے۔ یہ پر تشدد دور ختم ہو چکا ہے لیکن طرفین پر انسانی حقوق کی بے انتہا خلاف ورزیوں اور مظالم کے الزامات لگے ہیں۔

اُس وقت سری لنکا کی حکومت راجپکشے کے ہاتھوں میں تھی جب ہزاروں ہزار شہریوں کے بہیمانہ قتل کا الزام ان پر عائد کیا گیا تھا اور فوج نے اس سے انکار کرتی رہی ہے۔

جنگ کی تباہی کے بعد یہ ملک ایک بار پھر سیاحوں کا مرکز بنا اور بہت حد تک اس نے اپنا کھویا مقام حاصل کر لیا۔ لیکن موجودہ صورت حال سے سری لنکا کی شبیہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

یورپی یونین نے پہلے ہی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سری لنکا نے اقلیت تمل برادری کے حقوق کی حفاظت کے اپنے وعدوں سے منھ موڑتا ہے تو اس کے لیے فری ٹریڈ کے راستے بند ہو جائيں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں