'مغلوں کی انڈیا میں کبھی حکمرانی ہی نہیں تھی'

ہندو نظریاتی تنظیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں الہ آ باد اور فیض آباد کا نام بدلنے کے بعد اب ریاست میں آگرہ، لکھنؤ اور علی گڑھ کے نام بھی بدل کر ہندو ناموں پر رکھنے کی مانگ شروع ہو گئی ہے۔

ادھر گجرات کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ احمدآباد کا نام بدل کر کرناوتی کرنے جا رہی ہے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ وجے روپانی نے گذشتہ روز نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے لوگ ایک عرصے سے احمدآباد کا نام بدل کر کرناوتی رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور حکومت ان کی مانگ پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نام بدلنے کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں آئی تو آئندہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے احمدآباد کا نام تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس کے لیے مطلوبہ منظوری حاصل کرنے اور قانونی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ احمدآباد نام ہندوؤں کی غلامی کی علامت ہے جبکہ کرناوتی ہندوؤں کے افتخار، وقار، ثقافت اور خود مختاری کا غماز ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’تاج محل مغل لٹیروں کی نشانی ہے‘

کیا اورنگزیب واقعی ہندوؤں سے نفرت کرتے تھے؟

پڑوسی ریاست مہاراشٹر میں بھی کم از کم دو شہروں کے نام بدلنے کی مانگ سامنے آئی ہے۔ حکمراں شیو سینا کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے الہ آباد کا نام پریاگ راج اور فیض آباد کا نام ایودھیا کر دیا، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اورنگ آباد کا نام سمبھا جی نگراور عثمان آباد کا نام دھارا شیو نگر کب رکھیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ ANKIT SRINIVAS
Image caption الہ آباد کے خسرو باغ میں مغل سلطنت کے متعدد اہم افراد دفن ہیں

راؤت نے کہا کہ ان دونوں شہروں کے نام بدلنے کا مطالبہ بہت پرانا ہے لیکن ماضی کی حکومتوں نے مسلمانوں کی ناراضگی کے خدشے سےاس کا نام تبدیل نہیں کیا۔

جنوبی ریاست تلنگانہ میں بھی ایک ہندو نواز رہنما نے کہا ہے کہ اگر ان کی حکومت اسمبلی انتخابات میں اقتدار میں آگئی تو وہ بقول ان کے حیدرآباد اور جڑواں شہر سکندر آباد کے اسلامی ناموں کو بدل دے گی۔

نام بدلنے کے پیچھے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ان کے موجودہ نام ہندوؤں کی غلامی کی علامت ہیں۔ بقول ان کے یہ سبھی شہر دور قدیم میں ہندوؤں اور ہندو مذہبی کرداروں کے نام پر تھے جنھیں مسلم حکمرانوں بالخصوص مغلوں نے تبدیل کر دیا۔ مسلم حکمرانوں کو وہ حملہ آور، لٹیرے اور غاصب کہتے ہیں جنھوں نے بقول ان کے صرف ہندوؤں کی حکمرانی ہی نہیں ختم کی بلکہ ہندو تہذیب و تمدن کی علامتوں، آثار، تسلسل اور ارتقا کو تباہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین ریاست میں مغل تاریخ خارج

دیوبند کا نام تبدیل کرنا کتنا آسان ہے؟

آئندہ چند مہینوں میں پارلمیانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ جیسے جیسے یہ انتخابات قریب آرہے ہیں، ہندو نواز تنظیموں اور رہنماؤں کی جانب سے مسلم ناموں والے شہروں کے نام بدلنے کے مطالبات میں تیزی آتی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANKIT SRINIVAS

مبصرین کا خیال ہے کہ نام بدلنے کے پیچھے ماضی کی نام نہاد عظمت اور تہذیبی وراثت کو بحال کرنا نہیں بلکہ دور حاضر کے مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ جمہوری انڈیا کی تہذیب و تمدن کا مطلب ہندو تہذیب و تمدن ہے اور اس تہذیب میں مسلمانوں اور ماضی کے مسلم حکمرانوں کا کوئی کردار اور رول نہیں ہے۔ وہ مسلم حکمرانوں کی علامتوں اور نشانیوں کو مٹانا چاہتے ہیں۔

ملک میں نہ صرف شہروں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں بلکہ تاریخ کے نصابوں اور متن میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی جنگوں کی تشریح ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی جنگ کے طور پر کی جارہی ہے۔

ہندو حکمرانوں کو فقط راجہ نہیں ہندو مذہب کے ہیرو اور چیمپیئن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ماضی کے ہندو حکمرانوں کے دور کو مثالی ریاست بتایا جاتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کے نام کی سڑکوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کرنے کے لیے زور بڑھتا جا رہا ہے۔ تاج محل، پرانا قلعہ، اور جامع مسجد جیسی تاریخی عمارتوں کے گرد نئے تنازعے کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ بیشتر تاریخی عمارتوں کے بارے میں یہ بھرم پیدا کیا جا رہا ہے کہ یہ عمارتیں ہندو مندروں کو توڑ کر بنائی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں جتنے سیاح آتے ہیں ان میں سے ایک چوتھائی تاج محل کو دیکھنے کے لیے بھی آتے ہیں

انڈیا میں مذہبی دائیں بازو کی ایک تاریخ رہی ہے۔ وہ باتیں جو پہلے دبے لہجے اور ڈھکے لفظوں میں ہوتی تھیں وہ اب کھل کر ہو رہی ہیں۔ مذہبی قوم پرستوں کو محسوس ہوتا ہے کہ انڈیا کی سیاست میں ان کا وقت آ گیا ہے۔ لیکن وہ ایک متبادل نظریہ اور تاریخ کی ایک متبادل قابل فہم توجیہ پیش کرنے کے بجائے تاریخ کے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمہوری نظام اکثریت کی بنیاد پر چلتا ہے اور وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اسی اکثریت کا سہارا لے رہے ہیں۔ لیکن شہروں کے نام بدلنے، تاریخی عمارتوں کو نیا نام دینے اور نصابوں میں حقائق اور سائنسی تصورات کے بجائے نظریاتی عصبیت داخل کرنے سے تاریخ کے حقائق نہیں بدلا کرتے۔ جمہوری نظام میں حقیقتیں نہیں بدلتیں، حکومتیں بدلا کرتی ہیں۔

اسی بارے میں