سنگلز ڈے: چینی آن لائن کمپنی علی بابا کے میگا شاپنگ میلے کے بارے میں پانچ اہم حقائق

Countdown event for 11.11.2017 تصویر کے کاپی رائٹ Alibaba Group
Image caption علی بابا نے 30 ارب ڈالر سے زیادہ کی فروخت کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا

بلیک فرائیڈے اور سائبر منڈے امریکی سہی لیکن چین میں اسی قسم کی ایک سیل نے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

دنیا کے اس سب سے بڑے شاپنگ ایونٹ کو ’سنگلز ڈے‘ کہا جاتا ہے اور یہ ہر سال 11 نومبر کو منعقد کی جاتی ہے۔ اس سال کی کمائی 30 ارب 80 کروڑ ڈالر ہے۔

علی بابا نے گذشتہ برس سنگلز ڈے کے موقعے پر 24 گھنٹوں کے اندر 25 ارب ڈالر کمائے تھے، لیکن اس بار کمپنی نے یہ سنگ میل 16 گھنٹوں میں عبور کر لیا۔

یہ سلسلہ 1990 کی دہائی میں ویلنٹائنز ڈے کے رد میں شروع ہوا تھا اور اس کا مقصد اکیلے رہنے والے افراد کو اپنا دن منانے کا موقع دینا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alibaba Group
Image caption علی بابا کے اس میگا سیلز میلے کو لائیو دکھایا گیا

11 نومبر کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ اس دن چار ایک آتے ہیں، یعنی 11/11۔ 2009 میں علی بابا نے اس دن کو اپنی سالانہ سیل کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ذیل میں اس میگا ایونٹ کے بارے میں چند دلچسپ حقائق پیش ہیں:

1. یہ بلیک فرائیڈے اور بلیک منڈے سے کہیں بڑی سیل ہے

علی بابا کے مطابق چینی صارفین نے 11 نومبر 2017 کو 25.3 ارب ڈالر کمائے تھے، جب کہ اس سال یہ رقم 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alibaba Group
Image caption علی بابا کی صرف ایک ویب سائٹ پر پانچ لاکھ مصنوعات فروخت کے لیے پیش کی گئیں

یہ اعداد و شمار صرف علی بابا کی سائٹس Tmall اور Taobao سے متعلق ہیں۔ اس کے مقابلے پر پچھلے سال امریکی صارفین نے بلیک فرائیڈے پر پانچ ارب اور سائبر منڈے پر 6.6 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔

آن لائن اور سٹوروں کے اندر کی جانے والی سیل کو ملا کر امریکیوں نے 2017 میں تھینکس گِونگ اور سائبر منڈے کے دوران پانچ دنوں میں 19.6 ارب ڈالر خرچ کیے جو سنگلز ڈے سے 11.2 ارب ڈالر کم ہیں۔

2. دسواں ایڈیشن، نئے ریکارڈ

علی بابا نے کہا تھا کہ اس سال کا ایونٹ سب سے بڑا ہو گا۔ اس کی ویب سائٹ نے اس موقعے پر پانچ لاکھ اشیا سیل پر رکھیں اور دنیا بھر کے ایک لاکھ 80 ہزار برانڈ پیش کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alibaba Group
Image caption علی بابا صرف چین تک محدود نہیں بلکہ اس نے بیرونِ ملک بھی خدمات پیش کی ہیں

3. چین سے باہر بھی

علی بابا نے 2017 میں 25 ارب ڈالر کی جو مصنوعات فروخت کیں ان میں سے 40 فیصد کا تعلق بیرونِ ملک سے تھا۔ اس سال علی بابا نے سنگلز ڈے پر بیرونِ چین صارفین پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی ہے۔

علی بابا سے منسلک سنگاپور میں قائم لازدا سٹور چھ ملکوں سنگاپور، ملائشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن اور ویت نام میں بھی خدمات پیش کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ نیدرلینڈز، برطانیہ، جرمنی اور بیلجیئم میں بھی لوگوں کو رعایتی نرخوں پر اشیا فروخت کی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption علی بابا چند دنوں کے اندر اندر ایک ارب آرڈرز کی ترسیل کرے گا

4. 85 سیکنڈ میں ایک ارب ڈالر

اس سال علی بابا نے سیل شروع ہونے کے صرف 85 سیکنڈ کے اندر اندر ایک ارب ڈالر کما لیے، جب کہ پہلے گھنٹے میں اس کی بِکری دس ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔

مجموعی طور پر صارفین نے اس دن کل 30.8 ارب ڈالر خرچ کیے، جو گذشتہ برس سے 27 فیصد زیادہ ہے۔

اس سال کل ملا کر کمپنی کو 230 ملکوں سے ایک ارب سے زیادہ آرڈر موصول ہوئے جب کہ 237 برانڈ ایسے تھے جن کی سیل دس کروڑ آر ایم بی سے زیادہ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alibaba Group
Image caption علی بابا کے گوداموں میں روبوٹ کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے ترسیل کا وقت بےحد کم ہو جاتا ہے

5. ماحول پر اثر

اس ایونٹ کا ماحولیاتی اثر اس قدر شدید ہے کہ گرین پیس نے اسے ’ماحول کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا ہے۔

ادارے کے مطابق 2016 میں سنگلز ڈے کی وجہ سے 52 ہزار ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوئی۔

اتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کے لیے سوا پانچ لاکھ درخت درکار ہیں جو ساری زندگی ایسا کرتے رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین میں انٹرنیٹ کے 82 کروڑ صارف ہیں جن کی قوتِ خرید میں اضافہ ہو رہا ہے

گرین پیس کے مطابق اتنی بڑی مقدار میں مصنوعات کی تیاری، پیکنگ اور ترسیل کا ماحول پر بےحد برا اثر پڑتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ’ایک کلک سے خریدے جانے والا ڈسپوزبل فیشن مسقبل میں شاپنگ کا پائیدار ماڈل پیش نہیں کرتا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں