انڈیا میں ’اسلامی‘ ناموں کے خلاف ’جنگ‘

الہ آباد کا نام پریاگ راج رکھا گیا ہے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الہ آباد کا نام پریاگ راج رکھا گیا ہے

نام میں کیا رکھا ہے؟ انڈین شہروں اور دیہات میں بظاہر، بہت کچھ رکھا ہے۔

انڈیا کی آزادی کے بعد 100 سے زیادہ جگہوں کے نام تبدیل کیے گئے جن میں کئی معروف اور بڑے شہر بھی شامل تھے جیسے کہ بمبئی سے ممبئی، کلکتہ سے کولکتہ، مدراس سے چنئی۔

برطانوی حکمرانوں کی جانب سے بگاڑے ہوئے ناموں کو درست اور نوآبادیاتی ناموں کو مسترد کیا گیا۔

ماضی میں اپنی شناخت پر فخر، ثقافت سے لگاؤ، اور لسانی قومیت، تمام کا تعلق نام تبدیل کرنے سے رہا ہے۔ اور اب، اپنے ہندو قوم پرست حامیوں کو خوش کرنے کے لیے نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ناموں کی تبدیلی کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔

اس کا آغاز جولائی میں اتر پردیش میں، جہاں بی جے پی کی ہی حکومت ہے، برطانوی دور کے مشہور ریلوے سٹیشن مغل سرائے کا نام تبدیل کرنے سے ہوا، اور اسے جماعت کے نظریہ ساز رہنما دین دیال اپادھیائے کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

گذشتہ ماہ اترپردیش کے ہی شہر الہ آباد کا نام پریاگ راج رکھ دیا گیا تھا جس کا بظاہر مقصد بحیثیت ہندو مقدس مقام اس شہر کی قدیم شناخت کو بحال کرنا تھا۔ یہ شہر تین مقدس دریاؤں کے سنگم پر واقع ہے۔

اس سے بڑھ کر بی جے پی حکمران اس امر پر زیادہ ناراض کے تھے کہ شہر کا 435 سال پرانا نام ایک مسلمان حکمران کا دیا ہوا تھا۔ اتنا ہی نہیں ایک متنازع ہندو مذہبی رہنما کی سربراہی میں قائم مقامی حکومت نے فیض آباد ضلع کا نام ایودھیہ رکھ دیا، جو ہندو بھگوان رام کی جائے پیدائش کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

سنہ 1992 میں ایودھیہ میں سخت گیر ہندوؤں نے قدیم بابری مسجد کو گرا دیا تھا، جسکے بعد ملک بھر میں ہونے والے مذہبی فسادات میں تقریباً 2000 لوگ مارے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دلی کی اورنگزیب روڈ کا نام تبدیل کر کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام روڈ رکھا گیا

اب بی جے پی رہنما تاج محل کے شہر آگرہ اور گجرات میں احمد آباد کو ’ہندو‘ نام دینا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل رواں سال ہی راجستھان میں حکمراں جماعت بی جے پی نے تین دیہات کے نام تبدیل کیے کیونکہ وہ بظاہر 'اسلامی' نام تھے۔

بی جے پی ناموں کی اس تبدیلی کو انڈیا کے ’شاندار‘ ہندو ماضی کا نام دیتے ہوئے اسلامی تہذیب سے حقارت ظاہر کرتی ہے۔ عام انتخابات میں محض ایک ہی سال رہ گیا ہے اور وزیراعظم مودی کے ناقدین اس امر کو انڈیا میں مذہبی ہم آہنگی کو دھچکا قرار دیتے ہیں۔

دلی یونیورسٹی کے گگن پریت سنگھ کہتے ہیں کہ انڈیا میں ناموں کی تبدیلی کی سیاست کی جڑیں عام طور پر ’تہذیب کو قومیت کے دائرے میں لانے سے جڑی ہوتی ہیں۔‘

سنہ 2014 میں مودی سرکار نے وسطی دلی میں مغل حکمران اورنگزیب عالمگیر کے نام سے منسوب سڑک کا نام انڈیا کے میزائل پروگرام کے بانی سابق صدر اے پی جے عبدالکلام آزاد کے نام سے تبدیل کر دیا تھا۔

مصنف اور کالم نگار آتش تاثیر کا کہنا ہے کہ ’بی جے پی کی جانب سے ایک مسلمان ولن کے نام کو ایک محب وطن مسلمان کے نام سے تبدیل کیا گیا۔‘

یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انڈیا کی اکثریتی ہندو آبادی اپنی نمائندگی کا فقدان کیوں محسوس کرتی ہے یا بی جے پی انہیں مظلوم اکثریت کے طور پر کیوں دیکھتی ہے۔

انڈیا کے 677,000 دیہات میں سے 7000 سے زیادہ دو مشہور ہندو بھگوان رام اور کرشنا کے نام سے منسوب ہیں۔ اس کے مقابلے میں مغل بادشاہ اکبر کے نام پر محض 234 دیہات ہیں۔

دنیا بھر میں شہروں اور جگہوں کے نام مختلف وجوہات کی بنا پر تبدیل کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ وجوہات انڈیا سے بھی مماثلت رکھتی ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اسلامی ناموں کو ختم کرنے کا مقصد انڈیا کے مسلمانوں کو اختیار سے محروم کرنا اور ملک کی تاریخ میں ان کے کردار کو ختم کرنا ہے۔

وہ اس کا موازنہ ہمسایہ ملک پاکستان سے کرتے ہیں جہاں بیشتر سڑکوں اور مقامات کے نام مسلمان شخصیات کے نام سے تبدیل کر دیہ گئے ہیں۔ مؤرخ عرفان حبیب کہتے ہیں کہ ’سیاست میں ہمیشہ سب سے پہلا نشانہ تاریخ بنتی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کا نام بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے

انڈیا کے عام انتخابات میں صرف پانچ ماہ رہ گئے ہیں، اور بی جے پی کے نام تبدیل کرنے کی روش کو ووٹرز کو قائل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

مارچ میں وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ انھیں مختلف ریاستوں سے مختلف دیہات، قصبوں اور ریلوے سٹیشنوں کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر درخواستیں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں ہریانہ اور راجستھان سے تھیں۔

ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ ناموں کی تبدیلی سے پارٹی کے ووٹوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ حالیہ ناموں کی تبدیلی کے حق میں کوئی احتجاج نہیں ہوئے اور نہ ہی ایسا ہونے کے بعد لوگوں میں کوئی ا اطمینان یا خوشی نظر آتی ہے۔

ماہر عمرانیات سنجے سری واستو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اصل سماجی بہبود میں وسیع تر بہتری کی عدم موجودگی میں نام کی تبدیلی، تبدیلی کا احساس دلاتی ہے۔‘

اسی بارے میں