'گجرات سے مسلم نشانیاں دانستہ مٹائی جا رہی ہیں'

روضہ شاہ عالم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریاست گجرات میں واقع شاہ عالم کا مقبرہ عہد وسطی کی فن تعمیر کا نمونہ ہے

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی اور نائب وزیر اعلی نتن پٹیل نے حال ہی میں کہا ہے کہ حکومت گجرات کے سب سے بڑے شہر احمدآباد کا نام کرناوتی کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ان کے بیان میں مسلم مخالف جھلک صاف نظر آتی ہے۔

یہ امر اپنے آپ میں متنازع فیہ ہے کہ احمد آباد کا نام پہلے کبھی کرناوتی ہوا کرتا تھا۔

عہد وسطی کے مسلم حکمراں احمد شاہ نے سنہ 1411 میں اس شہر کی تعمیر کی تھی اور یہ ایک فصیل بند شہر ہوا کرتا تھا۔

بہر حال موجودہ حکومت کے لیے اس کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کو 'راکشش' یعنی عفریت کے طور پر پیش کرنے پر کمربستہ ہے جو کہ ہندتوا کے منصوبے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا گجرات کے مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں؟

گجرات کے مسلمانوں میں اعتماد کی واپسی

اس کے ذریعہ نہ صرف گجرات کی تاریخ میں مسلمانوں کے اثرات اور اہمیت کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے بلکہ اس کے ساتھ گجراتی مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد، عدم مساوات، سماجی و اقتصادی فرق، اور مسلمانوں کے وہاں گھر نہ خریدنے کی کہانیوں کو بھی معرض وجود میں نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کا اہم عنصر مذہبی یادگاروں کی تباہی رہی ہے۔ ان کا مقصد ہمیشہ مختلف رہا ہے۔ ان میں قتل و غارت گری کے ساتھ کاروبار کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption احمد آباد سے 35 کلو میٹر کے فاصلے پر یہ مبارک سید کا مقبرہ ہے جو اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے

مثال کے طور پر گجرات میں سنہ 1969 میں ہونے والے فسادات کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جسٹس جگن موہن ریڈی کمیشن نے کہا تھا کہ فسادات میں مساجد، قبرستانوں، درگاہوں سمیت مسلمانوں کے تقریبا 100 مذہبی مقامات کو تباہ کیا گیا تھا۔

سنہ 1980 اور 1992 کے فسادات کے دوران بھی یہ کارروائیاں ہوئیں اور سنہ 2002 فسادات کے دوران یہ سب سے زیادہ نظر آیا جب مسلمانوں سے منسلک 500 سے زائد مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا یا انھیں تباہ کیا گيا۔

سنہ 2007 میں سپریم کورٹ نے گجرات ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت مسمار اور منہدم کی جانے والی مذہبی املاک کو حکومت گجرات کی طرف سے صرف 50 ہزار روپے تک امداد دیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

گجرات فسادات: ’ریاستی حکومت ہرجانہ دینے کی پابند نہیں‘

انڈیا میں ’اسلامی‘ ناموں کے خلاف ’جنگ‘

اس معاملے میں ولی محمد ولی کے مقبرے کو تباہ کرنے کا ذکر بھی ذکر کیا گیا تھا۔ سنہ 2002 میں ہوئے فسادات میں اسے مکمل طور سے تباہ کر دیا گیا اور اس کی مرمت کرنے کے بجائے احمد آباد میونسپل کارپوریشن نے راتوں رات اس مقبرے کے اوپر پکی سڑک بنا دی۔

یہ مقبرہ احمد آباد کے شاہی باغ علاقے میں واقع پولیس کمشنر کے دفتر سے زیادہ دور بھی نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیدی سید کی تاریخی مسجد کی جالیاں اپنی منفرد فن تعمیر کے لیے معروف ہیں اور وزیر اعظم مودی جاپان کے وزیر اعظم کے ساتھ یہاں کا دورہ کر چکے ہیں

مودی نے کہا مقبرے کا کوئی ثبوت نہیں

ولی محمد ولی یا ولی دکنی کو ولی گجراتی کےنام پر بھی جانا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف اردو کے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ پہلے ایسے فلسفی تھے جنھوں نے گجرات کو ایک پہچان دی۔ گجرات کے بارے میں ان کے احساسات ان کی غزلوں میں نظر آتے ہیں جس میں وہ گجرات سے رخصتی کے وقت اداسی میں ڈوب جاتے ہیں۔

ایمنسٹی انڈیا کے حالیہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آکار پٹیل نے جب گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی سے ولی گجراتی کے مقبرے کی دوبارہ تعمیر کی بات کی تھی تو مودی نے پٹیل سے کہا تھا کہ اس کے وافر ثبوت نہیں ہیں کہ وہاں کسی ولی کا مقبرہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مسلمان چار کروڑ، امیدوار ایک بھی نہیں

مسلمانوں کے لیے احمد آباد میں گھر خریدنا مشکل کیوں؟

اسی طرح کئی مرتبہ اسلامی وراثت اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ جیسے كنكڑيا جھیل (پہلے حوض قطب) کے بارے میں سننے کو ملتا رہا ہے کہ پہلے یہ كرنا ساگر جھیل تھی جو چالكیہ خاندان کے حکمران كرن دیو سولنکی نے بنوائی تھی۔

بہر حال اس جھیل کے متعلق وافر شواہد نہیں جو ان دعووں کی تصدیق کر سکیں۔ تاہم ایک ماخذ سے پتہ چلتا ہے شمالی گجرات کے پاٹن ضلعے میں ایک کرنا ساگر نامی جھیل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 15ویں صدی کی شاہی بیگمات کا مقبرہ اپنی تباہی کی داستان خود ہی بیان کر رہا ہے

تاریخ کے انکار کے ساتھ ساتھ حال میں موجود اسلامی ورثہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مثال کے طور پر احمد آباد کے مقبرے کے بیرونی حصے میں موجود سرحیز روضے کو مناسب طور سے محفوظ نہیں کیا گیا ہے۔

احمد آباد کی شان کہی جانے والی اس عمارت سے منسلک جھیل ہر سال خشک ہو جاتی ہے اور اس کے پڑوس میں رہنے والے افراد اس میں کرکٹ کھیلتے ہیں۔

بی جے پی کی دوہری پالیسی

یہ واضح طور پر سیاسی قیادت میں مسلمانوں کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بی جے پی کی طرف سے مسلمانوں کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اب تک ایک بھی مسلم امیدوار اس جماعت سے اسمبلی تک نہیں پہنچا ہے۔

در حقیقت کانگریس پارٹی نے ہندتوا کا 'سافٹ برانڈ' اپنا لیا ہے۔ سنہ 2017 میں اسمبلی انتخابات کے دوران راہل گاندھی نے مسلم مذہبی مقامات پر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption احمدہ آباد کا سرخیز روضے سے منسلک مسجد میں لوگوں کو نماز ادا کرتے دیکھا جا سکتا ہے

کرناوتی کے صحیح تاریخی ثبوت کے بغیر احمد آباد کا نام تبدیل کرنا مشکل ہے۔ اگر حکومت یونسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل اس شہر کا نام تبدیل کرنا چاہتی ہے تو پھر اسے یونیسکو سے بھی منظوری لینی ہوگی۔

اس کے ساتھ بی جے پی کی اسلامی وراثت کے متعلق اس کی دوہری پالیسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی ثقافتی وراثت کے شہروں میں شامل ہونے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے وہ گجرات کے عہد سلطنت کی یادگار عمارتوں پر منحصر ہے۔

دوسری جانب وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مشکوک تاریخ کی حمایت کرتی ہے۔ اس مجموعی حکمت عملی کا واحد مقصد سنہ 2019 کے عام انتخابات سے پہلے مسلمانوں کی تاریخ کو مٹا کر ریاست کا ماحول خراب کیا جانا ہے۔

(یہ مصنف کے ذاتی خیالات ہیں اور اس کے لیے بی بی سی جوابدہ نہیں ہے)

اسی بارے میں