انڈین دولہا گولی لگنے کے باوجود بارات لے کر پہنچ گیا

شادی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں شادی کی بارات اکثر اس طرح کی بگھیوں پر لے جائی جاتی ہے

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دولہا کو اپنی بارات لے جاتے ہوئے گولی لگی لیکن اس کے باوجود وہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔

25 سالہ شخص سرجری کے چند گھنٹے کے بعد اپنی ہونے والی شریک حیات کے پاس واپس آیا اور اس نے شادی کی رسومات نبھائیں۔ اس دوران گولی ان کے کندھے میں ہی پیوست تھی۔

اب پولیس کو ان دو مشتبہ افراد کی تلاش ہے جنھوں نے پیر کو دولہے کی شادی کی تقریب میں فائرنگ کی تھی۔

انڈیا میں شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں سال اپریل میں اور سنہ 2016 میں شادی کی تقریبات کے دوران فائرنگ سے دولہے ہلاک ہو چکے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مسلح افراد حملے سے قبل موٹر سائیکل پر مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے آئے اور افراتفری کے دوران بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں!

کراچی کی دلہن، انڈیا کی قومی خبر بن گئی

اب شادی کر لیں

’پاکستانی سہیلی کے بغیر شادی نہیں‘

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور حملے سے قبل دولہے کی گھوڑا بگھی پر سوار ہوئے تھے، اور اس واقعے کے بارے میں انھیں شبہ ہے کہ یہ تشدد کا کوئی معمول کا واقعہ نہیں ہے۔

حملے سے قبل دولہے کے اردگرد اس کے دوست اور خاندان کے افراد تھے جو اونچی آواز میں موسیقی پر ناچ رہے تھے، دولہے کا الزام ہے کہ اس پر فائرنگ ’قتل کرنے کی نیت سے کی گئی۔‘

ڈپٹی کمشنر پولیس وجے کمار نے بی بی سی کو بتاتا کہ ’زخمی دولہے نے فوراً اپنے بھائی کو بتایا جو انھیں علاج کے لیے بٹرا ہسپتال لے گیا۔‘

ڈاکٹروں نے زخمی دولہے کا بہنے والا خون تو روک دیا لیکن ایک بڑی سرجری کے بغیر گولی جسم سے نہ نکال سکے۔

شادی کی تقریب مکمل ہونے کے بعد دولہا کو دوبارہ ہسپتال داخل منتقل کر دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں