انڈیا: خبردار! صبح سات سے شام سات تک نائٹی نہ پہنیں

تصویر کے کاپی رائٹ PRIYA KURIYAN

جنوبی انڈیا میں ایک گاؤں کے چند بزرگوں نے خواتین پر دن کے اوقات میں نائٹی یا شب خوابی کا لباس پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔

جیسا کہ اس ڈھیلے ڈھالے لباس کے نام نائٹیز سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ اصل میں رات کو سوتے وقت پہنے جانے والا لباس تھا، لیکن چند سالوں کے دوران انڈیا کے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں لاکھوں خواتین کا دن میں پہنے جانے والا پسندیدہ لباس بھی بن گیا ہے۔

چار ماہ قبل انڈین ریاست آندھرا پردیش کے ٹوکالاپلی گاؤں کی نو ارکان پر مشتمل ایک کونسل نے جس کی سربراہی بھی ایک خاتون ہی کر رہی تھیں، خواتین اور لڑکیوں کو حکم دیا کہ وہ صبح سات بجے سے شام سات بجے تک نائٹی نہیں پہن سکتیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو انھیں دو ہزار انڈین روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

مہندی کے بارے میں تو سنا ہے، یہ برائیڈل شاور کیا ہے؟

زارا کی ایک لُنگی ہزاروں روپے میں

یہی نہیں اگر کوئی اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی خاتون کے بارے میں اطلاع دیتا ہے تو اسے ایک ہزار روپے بطور انعام دیا جائے گا۔

گاؤں والے اس پابندی پر سختی سے عمل کر رہے ہیں اور تاحال اس کی خلاف ورزی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

اسی گاؤں کے ایک بزرگ بالی وشنو مورتھی نے وہاں کا دورہ کرنے والے بی بی سی تیلگو کے صحافی کو بتایا کہ اس پابندی کا مقصد خواتین کو اپنے جسم ظاہر کرنے سے روکنا ہے۔ ’گھر پر نائٹی پہننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اسے گھروں سے باہر پہننے سے توجہ ان کی جانب ہو سکتی ہے اور اسے پہننے والی کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔‘

بعض رہائشیوں جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں نے کہا ہے کہ انھوں نے اس حکم کی مخالفت کی لیکن انھیں اسے ماننا ہی پڑا کیونکہ انکار کی صورت میں انھیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا جو کہ مچھیروں کے اس گاؤں والوں کے لیے ایک بڑی رقم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRIYA KURIYAN

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یہ لباس زیر عتاب آیا ہے۔ سنہ 2014 میں ممبئی کے قریب ایک گاؤں میں خواتین کے ایک گروپ نے دن کے اوقات میں نائٹی پہننے کو ’غیر اخلاقی عمل‘ قرار دیا تھا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر پانچ سو روپے کا جرمانہ عائد کرنے کو کہا تھا۔ تاہم یہ پابندی عائد نہ ہو سکی کیونکہ خواتین نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

لیکن ایسا کیوں ہے کہ ایک عام سے کپڑے کے ٹکڑے پر اتنے شدید جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے؟ اور ایک ایسا کپڑے کا ٹکڑا جسے عام طور پر فیشن کے مداح کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے؟

سعودی خواتین کا انوکھا احتجاج، ’عبایہ الٹا پہنوں گی‘

سوشل میڈیا پر خواتین کا لباس مسلسل نشانے پر کیوں؟

اخبار منٹ میں وائس آف فیشن کے موجودہ مدیر شفالی وسودیو نے 2014 میں لکھا تھا: ’نائٹی آلو کی بوری، اور بےمزہ پرانے مارشمیلو جیسی دکھتی ہے، اور اسے انڈیا کے ٹاپ فڈی ڈڈی گارمنٹ بنایا جا رہا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شفالی وسو دیو نے کہا کہ ان کے خیال میں گاؤں کی کونسل کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی ’فیشن پولیس‘ کی بجائے ’مورل پولیس‘ کی طرف سے لگوائی گئی ہے۔

نائٹیز لاکھوں ڈالرز کا کاروبار ہے اور ملک کے بازار تیار نائٹیز سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور پھولدار ڈیزان ہے جسے کم سے کم سو روپے میں خریدا جا سکتا ہے، تاہم اس میں اچھی کوالٹی والی نائٹیز کی قیمت ہزاروں میں بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRIYA KURIYAN

ڈیزائنر رم زم دادو کہتی ہیں کہ نائٹی خاتونِ خانہ کا پسندیدہ لباس ہے کہ کیونکہ روایتی طور پر ساڑھی جیسے لباس گھریلوں کاموں کے لیے زیادہ اچھا یا آرام دہ نہیں، جبکہ نائٹی سے انھیں کام کرنے کی آزادی ملتی ہے۔

اس بارے میں ڈیزائنر ڈیوڈ ابراہم کہتے ہیں: ’یہ کوئی خوبصورت لباس نہیں ہے لیکن یہ خواتین کے لیے یونیفارم بن گیا ہے کیونکہ یہ آرام دہ اور پریکٹیکل ہے۔ یہ ان کی تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ یہ ایک کپڑے کے ٹکڑے سے بنتی ہے اس لیے آپ جلدی اور آرام سے اسے پہن لیتے ہیں، یہ ٹخنوں تک ہوتی ہے اور پورے جسم کو ڈھانپ لیتی ہے۔‘

دونوں رم زم دادو اور ابراہم اس پابندی پر حیران ہیں۔ مس دادو نے اسے ’شرمناک‘ اور ابراہم نے ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔

نائٹیز کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ برطانوی دور میں انڈیا آئی کیونکہ انگلش خواتین اسے پہنا کرتی تھیں۔ پھر اسے با اختیار انڈین خواتین نے پہننا شروع کر دیا۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ نائٹی بیڈ روم سے گلیوں میں کب آئی، لیکن شفالی وسو دیو کہتی ہیں کہ 70 کی دہائی میں گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پلتے بڑھتے ہوئے انھوں نے ’ماؤں اور آنٹیوں‘ کو دن کے اوقات میں قریبی مقامی بازاروں میں بھی نائٹی پہنے دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRIYA KURIYAN

جب نوے کی دہائی میں وہ دلی آگئیں تو ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ خواتین اپنے بچوں کو سکول بس تک چھوڑنے کے لیے آتے ہوئے یا سڑک کنارے کھڑے سبزی فروشوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے نائٹی ہی پہنے دکھائی دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ آنکھوں کو انتہائی برا لگتا ہے جب خواتین ’کپڑے کے باریک ہونے کی وجہ سے بالکل ہی الگ سا گھاگرا پہن لیتی ہیں اور کچھ ماڈرن دکھنے کے لیے کاٹن کا دوپٹہ اوڑھ لیتی ہیں۔‘

لیکن وہ اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ نائٹی کو سیکسی اور فحش نہیں کہا جا سکتا۔ ’اصل میں یہ ایک ایسی بیکار چیز ہے جس کا جنس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ نائٹی کو اس لیے ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ’یہ مغربی ہے، ماڈرن ہے اور فحش ہے۔‘

اسی طرح ابراہم کہتے ہیں کہ ’گاؤں کی کونسل کا حکم جنس پر مبنی ہے اور اس کا تعلق قبائلی نظام اور طاقت سے ہے۔‘

’کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ گاؤں کی کونسل میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرد کیا پہنیں گے؟ یہ ہمیشہ خواتین کے لباس پر ہوتا ہے۔ آج مورل پولیس کا نائٹی کے بارے میں یہ خیال ہے کل کیا خبر؟‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں