کرتارپور راہداری: انڈین کابینہ کی منظوری، پاکستان کا کام شروع کرنے کا اعلان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کرتارپور میں بابا گُرو نانک کی آخری آرام گاہ بھی ہے

انڈین کابینہ نے انڈین سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں واقع گرودوارہ دربار صاحب تک انڈین یاتریوں کو رسائی دینے کے لیے خصوصی کوریڈور تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستان نے انڈین کابینہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قدم دونوں ممالک میں امن کی خواہشمند لابی کی جیت ہے اور پاکستانی وزیراعظم رواں ماہ ہی کرتارپور میں راہداری کے حوالے سے کام کا افتتاح کریں گے۔

جمعرات کو کابینہ کے اجلاس کے بعد نئی دہلی میں صحافیوں کو تفصیل بتاتے ہوئے انڈین وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے بتایا کہ حکومت انڈین پنجاب کے ضلع گروداسپور میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی سرحد تک راستہ تعمیر کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

سکھ برادری کرتارپور بارڈر کھلنے کے لیے بیتاب کیوں؟

کرتار پور بارڈر کے کھلنے کا انحصار انڈیا پر: پاکستان

ان کا کہنا تھا کہ یہ راستہ بنانے کا مقصد ان انڈین یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو پاکستانی علاقے میں دریائے راوی کے کنارے واقع گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@SMQureshiPTI

پاکستان کا ردعمل

انڈین کابینہ کی جانب سے خصوصی کاریڈور تعمیر کرنے کی منظوری کے بعد کرتارپور سرحد کھلنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ پاکستانی حکومت پہلے ہی سکھ یاتریوں کے لیہ سرحد کا یہ حصہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان پہلے ہی انڈیا کو بابا گرونانک کی 550ویں سالگرہ کے حوالے سے کرتارپورہ راہداری کھولنے کے فیصلے سے آگاہ کر چکا ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 28 نومبر کو کرتارپورہ میں اس حوالے سے کام کا افتتاح کریں گے۔

انھوں نے اس موقع پر پاکستان میں مقیم سکھ برادری کو مدعو بھی کیا کہ وہ کرتارپورہ آئیں اور اس تقریب میں شریک ہوں۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے انڈین حکومت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین کابینہ کی جانب سے کرتارپور سرحد کھولنے کے حوالے سے پاکستانی تجویز کی تائید دونوں ممالک کی امن کی خواہشمند لابی کی جیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درست سمت میں اٹھایا جانے والا قدم ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایسے اقدامات سے سرحد کی دونوں جانب امن اور دانائی کی باتیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

کرتارپور کہاں ہے؟

کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔

یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔

راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

Image caption کرتارپور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔

کرتاپور سکھوں کے لیےاہم کیوں ہے؟

کرتارپور کا گرودوارہ سکھوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے۔ یہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔

گرو نانک نے اپنی 70 برس اور چار ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا اور کرتارپور میں انھوں نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے لمبا عرصہ ہے۔

یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس وقت کیا صورتحال ہے؟

انڈیا میں مقیم دربار صاحب کرتارپور کے درشن کے خواہش مند افراد اب بھی اس کو دیکھ ضرور سکتے ہیں مگر چار کلومیٹر دور سرحد کے اُس پار سے۔

انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے ایسے دید کے خواہش مندوں کے لیے سرحد پر ایک 'درشن استھل' قائم کر رکھا ہے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے دربار صاحب کا دیدار کرتے ہوئے اپنی عبادت کرتے ہیں۔

سنہ 1947 میں بٹوارے کے وقت گردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ایک لمبے عرصے تک یہ گردوارہ بند رہا۔

جب تقریباً اٹھارہ برس قبل کھلا تو بھی انڈیا میں بسنے والے سکھ برادری کے تقریباً دو کروڑ افراد کو یہاں آنے کا ویزہ نہیں ملتا تھا۔

معاہدے کے تحت ہر سال بابا گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کی زیارت پر پاکستان آنے والے چند سکھ یاتریوں کو کرتارپور کا ویزہ حال ہی میں ملنا شروع ہوا، تاہم ان کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں رہی۔

کرتارپور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان اب تک کیا ہوا؟

کرتار پور- ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں انڈیا اور پاکستان میں مشاورت کی گئی تھی۔

پاکستان میں تحریکِ انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد ستمبر 2018 میں سرکاری طور پر کہا گیا تھا کہ پاکستان جلد ہی انڈیا سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دے گا جس کے بعد یاتری ویزے کے بغیر گرودوارہ دربار صاحب کے درشن کر سکیں گے۔

پاکستان کے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس کے بعد کہا تھا کہ سکھ یاتریوں کے لیے سرحد کھولنے کے حوالے سے ایک نظام وضع کیا گیا ہے۔

تاہم پاکستان نے کہا تھا کہ کرتارپور بارڈر کے کھلنے کا انحصار انڈیا کے ردِعمل پر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں