کشمیری سیاست کا ڈرامائی دن: گورنر آفس کی فیکس مشین خراب، اسمبلی تحلیل

مفتی محبوبہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میڈیا میں گورنر کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’یہ ناممکن ہے کہ مخالف سیاسی نظریات رکھنے والی جماعتیں مل کر مستحکم حکومت بنا سکیں‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ڈرامائی دن جس میں فیکس مشین خراب ہوئی اور ہنگامی ٹویٹس کی گئیں لیکن اس دن کا اختتام اسمبلی کی تحلیل پر ہوا۔

حزب اختلاف کی تین جماعتوں کے اتحاد نے بدھ کو گورنر آفس کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کے لیے فیکس کرنے کی ناکام کوشش کی۔

دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر کو ٹویٹ کر دی۔

اس ٹویٹ کے ایک گھنٹے میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کر دی اور وجہ یہ بتائی کہ ان تین جماعتوں کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

مقامی میڈیا نے گورنر کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ مخالف سیاسی نظریات رکھنے والی جماعتیں مل کر مستحکم حکومت بنا سکیں۔

محبوبہ مفتی کی جماعت سے بی جے پی کی جانب سے اتحاد ختم کرنے کے بعد سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جون سے گورنر راج ہے۔

گورنر کو اس وقت تک چارج دے دیا گیا جب تک یا تو کوئی نیا اتحاد نہ بن جائے یا دوبارہ انتخابات نہ ہو جائیں۔

اس تذبذب میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ایک اور سیاستدان سجاد لون نے بھی گورنر کو ٹویٹ کیا کہ ان کو حکومت بنانے کے لیے حمایت حاصل ہے۔

سجاد لون نے کہا کہ ان کو گورنر آفس کی فیکس مشین کے ساتھ مسئلہ پیش آیا۔

کانگریس کے سربراہ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا کہ گورنر آفس کو فوری طور پر نئی فیکس مشین کی ضرورت ہے۔

اسمبلی کی تحلیل سے قبل محبوبہ مفتی نے گورنر ستیا پال ملک کو بدھ کی رات دو ٹویٹس کیں کہ وہ گورنر آفس فیکس بھیجنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انھوں نے اپنی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے اپنا خط بھی ٹویٹس کے ساتھ لگایا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اتنی نشستیں ہیں کہ وہ حکومت بنا سکیں۔

محبوبہ مفتی کی جماعت کی بات چیت کانگریس کے ساتھ کچھ عرصے سے چل رہی تھی لیکن نیشنل کانفرنس کا اس اتحاد میں شامل ہونا بہت سے تجزیہ کاروں کے لیے حیران کن ہے۔

واضح رہے کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس ایک دوسرے کے مخالف رہی ہیں۔

اسی بارے میں