کرتارپور راہداری: ایک ایسا یو ٹرن جس میں ’پڑوسی ملک‘ کا نام تک نہیں لیا گیا

مودی اور عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ MEA/INDIA
Image caption کیا مودی عمران خان سے کہیں گے کہ آئیے وہ دو قدم بڑھا کر دکھایے جن کا آپ نے وعدہ کیا تھا

انڈیا اور پاکستان کی سیاست میں بس مجھے ایک بات بہت اچھی لگتی ہے: تم سیر تو ہم سوا سیر۔

جو لوگ پاکستان کی سیاست کو فالو کرتے ہیں، انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان تو سنا ہی ہو گا کہ وہ رہنما ہی کیا جو یو ٹرن لینا نہ جانتا ہو۔

یہ خبر دلی بھی پہنچی ہی ہو گی جہاں ہو سکتا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کسی نے کہا ہو: سر، آپ نے عمران خان کا بیان سنا، وہ بڑے بڑے یو ٹرن لینے کا دعویٰ کر رہے ہیں، سنا ہے کہ جتنا بڑا یو ٹرن اتنا ہی عظیم رہنما، اور ہم؟ ہم نے دو تین مہینوں سے کوئی یو ٹرن نہیں لیا ہے۔

جو لوگ نریندر مودی کو جاتنے ہیں، انھیں معلوم ہو گا کہ ہوش ربا اعلان کرنے میں انہیں بہت مزا آتا ہے۔ ایک دن خیال آیا کہ کیوں نہ ملک میں بڑے کرنسی نوٹ بند کردیے جائیں، نئے نوٹ چھاپیں گے، پرانے نوٹ بہت پرانے ہو گئے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کرتارپور راہداری: انڈین کابینہ کی منظوری، پاکستان کا کام شروع کرنے کا اعلان

کرتار پور بارڈر کے کھلنے کا انحصار انڈیا پر: پاکستان

سکھ برادری کرتارپور بارڈر کھلنے کے لیے بیتاب کیوں؟

شام آٹھ بجے ٹی وی پر آئے اور اعلان کردیا کہ آج رات بارہ بجے سے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں کی کہانی ختم۔۔۔ یا پھر پاکستان کو سبق سکھانے کے وہ بلند و بانگ دعوے جو انھوں نے پارلیمانی انتخابات کے دوران کیے تھے اور پھر کسی کو بتائے بغیر وزیر اعظم نواز شریف کے یہاں شادی میں شرکت کے لیے پہنچ جانا۔

اور پھر ’سرجیکل سٹرائکس‘ اور اس کے بعد جب عمران خان وزیر اعظم بنے تو پاکستان سے ’اینگیج‘ کرنے کا فیصلہ، اور پھر جب ستمبر میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان آخرکار ملاقات طے ہوئی، تو اگلے ہی دن ’ڈس اینگیج‘ کرنے کا فیصلہ۔

اس وقت بھی انڈیا یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ بات چیت شروع کی جا رہی ہے اور مجھ سمیت بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ اگر دونوں رہنما بات نہیں کریں گے تو بات کیسے ہو گی؟

اشاروں کی زبان دونوں ہی نہیں سمجھتے شاید اس لیے ملاقات منسوخ کر دی گئی۔ یہ ایک اور بڑا یو ٹرن تھا لیکن پھر عمران خان نے اپنے بیان سے ’بینچ مارک‘ اور اونچا کر دیا۔

وزیر اعظم مودی نے گذشتہ ماہ ہی دنیا کے سب سے دراز قامت مجسمے کا افتتاح کیا ہے۔ اس لیے شاید جب کابینہ کے اجلاس میں یہ بات آئی ہو گی تو انھوں نے سوچا ہو گا کہ کچھ اس سے بھی بڑا کرتے ہیں، چلو، کرتارپور کی سرحد کھول دو، عمران خان کو ہم دکھائیں گے کہ اصلی یو ٹرن کیا ہوتا ہے! (کرتارپور صاحب گرودوارہ سکھوں کے مقدس تریم مقامات میں سے ایک ہے جہاں ان کے پہلے گرو نے وفات پائی تھی)۔

اور ہو سکتا ہے کہ یہ بھی کہا ہو کہ ہاں، کشمیر میں سیاسی جماعتیں بہت دنوں سے اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں، ہم نے نہیں کی، اب حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں اس لیے اسمبلی تحلیل کر دو، وہاں بہت سردی پڑ رہی ہے، سیاسی رہنما حکومت بنانے کی کوشش میں یہاں وہاں بھاگ دوڑ کریں گے، کہیں بیمار نہ پڑ جائیں۔

Image caption کرتارپور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے

کرتار پور بارڈر کھولنے کا اعلان وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کیا۔ ان کا شمار ملک کے سب سے قابل وکیلوں میں کیا جاتا ہے، ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی جو وہ کہنا نہ چاہتے ہوں۔

اس لیے شاید جب پریس بریفنگ میں انھوں نے یہ غیرمعمولی انکشاف کیا تو جہاں تک میں نے سنا، ایک مرتبہ بھی پاکستان کا نام نہیں لیا! انھوں نے ’اس پار‘ کہا اور زیادہ واضح کرنے کے لیے ’پڑوسی ملک‘ بھی، لیکن نام نہیں لیا! کہیں ایسا نہ ہو کہ کرتارپور بارڈر بنگلہ دیش، نیپال یا برما کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ یہ تینوں ہی ملک ’اس پار‘ بھی ہیں اور ’پڑوسی ملک‘ بھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

’جنرل باجوہ صرف ایک لائن میں مجھے اتنا کچھ دے گئے‘

انڈیا کا رویہ متکبرانہ اور منفی ہے : عمران خان

’انڈیا کا بیان مہذب دنیا اور سفارتی روابط کے منافی‘

تو سوال یہ ہے کہ یہ اس وقت یہ فیصلہ کیوں کیا گیا ہے؟ سکھوں میں بی جے پی بہت زیادہ مقبول نہیں ہے، پنجاب میں صرف دو بڑی پارٹیاں ہیں، کانگریس اور اکالی دل۔ بی جے پی ہمیشہ اکالی دل کے ساتھ اتحاد کرتی ہے اور اس کی حکومت میں جونیئر پارٹنر کے طور پر شامل ہوتی ہے۔

اس لیے صرف سکھوں کو خوش کرنے کے لیے اتنا بڑا یو ٹرن لینے کا سیاسی فائدہ زیادہ واضح نہیں ہے۔

انڈیا میں پارلیمانی انتخابات اب صرف پانچ یا چھ مہینے دور ہیں، اور اب اتنا وقت نہیں ہے کہ پاکستان سے تعلقات اچھے ہو جائیں، کشمیر میں تشدد کا زور کم ہو جائے اور مودی پارلیمانی انتخابات میں اسے اپنی حکومت کی مدبرانہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔

تو دوسری ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ ہم تو تیار تھے، فیصلہ پہلے ہم نے ہی کیا تھا، سابق کرکٹر اور پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو ہماری فوج کے سربراہ نے گلے بھی لگایا اور کان میں یہ بھی کہا کہ ہم کرتار پور بارڈر کھولنے کے لیے تیار ہیں، اور آپ نے سدھو کو قوم مخالف اور غدار کہنا شروع کر دیا۔

اس لیے یہ سوال تو پوچھا ہی جائے گا کہ آخر گذشتہ ساڑھے چار برسوں میں بات کیوں نہیں کی اور اب ایسا کیا بدلا ہے کہ سرحد کھولنے پر تیار ہو گئے؟

ظاہر ہے کہ درپردہ بات چیت پہلے سے ہی چل رہی ہو گی، حکومتیں اس طرح کے بڑے اعلانات یک طرفہ طور پر نہیں کرتیں۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ یہ کامیاب بیک چینل سفارتکاری کی ایک مثال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نوجوت سنگھ سدھو سے پاکستانی فوج کے سربراہ نے پہلی بار کہا تھا کہ وہ کرتار پور بارڈر کھولنے کے لیے تیار ہیں

عمران خان بھی جیسے تیار ہی بیٹھے تھے، انڈیا میں اعلان ہوا اور لگتا ہے کہ انھوں نے اپنے عملے سے کہا کہ کرتار پور چلنے کی تیاری کرو، اور وہی ہیلی کاپٹر نکالنا جس میں تیل کم خرچ ہوتا ہے، نریندر مودی بار بار یہ کہتے ہیں کہ ہم نے مریخ پر جو مشن بھیجا تھا اس پر فی کلومیٹر لاگت آٹو رکشا سے بھی کم آئی تھی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا کہ عمران خان کاریڈار پر کام کا افتتاح 28 نومبر کو کریں گے، انڈیا نے کہا ہم یہ کام بھی دو دن پہلے ہی کر دیں گے!

بظاہر دونوں ملک اس کاریڈار کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتے ہیں، لیکن الگ الگ، مشترکہ طور پر نہیں۔ فی الحال، شاید ایک سہرے میں دونوں کی ’ایگو‘ فٹ نہیں آتیں۔

لیکن اسے عملی شکل دینے کے لیے دونوں کو ایک معاہدہ کرنا ہی ہوگا کیونکہ فی الحال تجویز ’ویزا فری‘ سفر کی لگتی ہے یعنی سکھ عقیدت مند بغیر ویزا کرتار پور صاحب جا سکیں گے (یا سرحد پر ہی ویزا یا کسی دوسرے سفری دستاویز جاری کرنے کا نظام قائم کیا جائے گا) اور موجودہ نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اور جب کاریڈار کا افتتاح ہو گا تب کیا ہو گا؟ کیا دونوں رہنما سرحد پر کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے نظریں بھی ملائیں گے اور ہاتھ بھی،کچھ اسی انداز میں جیسے جنوبی اور شمالی کوریا کے صدور نے کیا تھا؟

اور کیا مودی عمران خان سے کہیں گے کہ آئیے وہ دو قدم بڑھا کر دکھایے جن کا آپ نے وعدہ کیا تھا، اور عمران خان انڈیا کی سرزمین پر قدم رکھ دیں گے؟

جو بھی ہو یہ ایک غیر معولی پیش رفت ہے اور یہ وہ موڑ ثابت ہو سکتا ہے کہ جس کا دونوں ملکوں کے رشتوں کو بہت عرصے سے انتظار ہے۔

شاید یو ٹرن ہمیشہ برے نہیں ہوتے!

اسی بارے میں