ایودھیا میں مندر بنانے کے لیے پھر ایک بڑا ہجوم جمع ہو رہا ہے

ایودھیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملک بھر میں جگہ جگہ مندر کے لیے مذہبی رسومات ادا کی جا رہی ہیں

انڈیا کا معروف شہر ایودھیا ایک بار پھر زبردست سکیورٹی کے حصار میں ہے۔ شہر میں جگہ جگہ پولیس، نیم فوجی دستے اور فساد شکن فورسز تعینات کی گئی ہیں اور فلک شگاف نعرے لگ رہے ہیں۔

شہر کی فضا میں گھبراہٹ اور بے چینی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہفتے کے روز مہاراشٹر کی اہم سیاسی پارٹی شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے پہلی بارایودھیا آئے ہیں۔

ادھو ٹھاکرے کے جلسے میں 'جے شری رام'، 'مندر وہیں بنائیں گے'، 'ہر ہندو کی یہی پکار، پہلے مندر پھر سرکار' جیسے نعرے بار بار لگتے رہے۔ اس سے قبل بھی اس طرح کے نعرے وہاں کئی دنوں سے سنے جا رہے ہیں۔

مہاراشٹر کے بہت سے علاقوں سے شیو سینا کے کارکن ٹرین بک کروا کر، بسوں، لاریوں اور موٹر سائیکل سے ایودھیا پہنچے ہیں۔ شوسینا کے کارکن انتہائی جارحانہ نظر آ رہے تھے اور جوشیلے نعرے لگا رہے تھے۔

اپنے لیڈر ادھو ٹھاکرے کے ایک ایک بیان پر دیر تک نعرے لگا رہے تھے اور انھی نعروں کے زور پر ادھو ٹھاکرے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو مندر کی تعمیر کے معاملے پر کٹہرے میں کھڑا کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times/Getty Images
Image caption ایودھیا میں لکشمن گھاٹ پر شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے رام مندر کی جلد از جلد تعمیر پر زور دیا

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ وہ 'کمبھکرن (رزمیہ مہابھارت کا ایک کردار) کی نیند میں سوئی ہوئی حکومت کو بیدار کرنے کے لیے ایودھیا آئے ہیں۔'

ادھو ٹھاکرے نے عارضی رام مندر کا درشن (زیارت) کیا جس کے بعد انھوں نے حکومت سے ایک آرڈینینس جاری کرکے مندر کی تعمیر کی تاریخ کے تعین کی بات کہی۔

آج یعنی اتوار کو وشو ہندو پریشد کی 'دھرم سبھا' (مذہبی اجلاس) کے پروگرام کے بارے میں انھوں نے کہا کہ کوئی بھی مندر کی تعمیر کرسکتا ہے اور شوسینا اس کی حمایت کرے گا۔

شیوا سینا اور وی ایچ پی کے پروگراموں کو دیکھتے ہوئے، ایودھیا میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے علاوہ، پی اے سی، آر ایف اے اور اے ڈی جی کی 48 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

متنازع مقام پر عارضی رام مندر کے گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ وی ایچ پی اور اس کی ہمنوا تنظیم کے کارکن پڑوسی اضلاع سے 'بھکت مال بگیا' میں جمع ہو رہے ہیں جہاں ان کی دھرم سبھا منعقد ہونے والی ہے۔ ہزاروں وہاں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔

دھرم سبھا میں شرکت کرنے والے مذہبی پیشواؤں کے لیے ایک بڑا سٹیج بنایا گيا ہے جہاں سے وہ لوگوں سے خطاب کریں گے۔ سٹیج کے بیک گراؤنڈ میں رام مندر تحریک کے سرکردہ لیڈر اشوک سنگھل، رام چندر پرمہنس اور دوسرے رہنماؤں کی تصاویر نمایاں طور پر لگائی گئی ہیں۔

اس سے قبل شیو سینا کا کہنا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کسی سیاسی مقصد کے لیے یہاں نہیں آ رہے۔ ان کا مقصد صرف رام مندر کی تعمیر پر زور دینا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ شیو سینا کے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ ان میں بعض پوسٹروں پر ایک نعرہ لکھا ہوا ہے 'پہلے مندر پھر حکومت'۔

پارٹی کے سینیئررہنما سنجے راؤت نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'بابری مسجد کو منہدم کرنے میں صرف 17 منٹ لگے تھے تو مندر کی تعمیر کے لیے آرڈیننس جاری کرنے میں کتناوقت لگے گا؟' شیو سینا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مندر کی تمعیر کے لیے بلا تاخیر ایک آرڈیننس جاری کرے اور تعمیر کی ایک تاریخ مقرر کرے۔

یہ بھی پڑھیے

ایودھیا کا تنازع زندہ کرنے کا الزام

الیکشن جیتنے کے لیےبی جے پی کو بابری مسجد کی ضرورت

پریشد کے رہنما سریندر جین کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں 1992 سے بھی زیادہ لوگ جمع ہوں گے۔ پریشد کے کارکن ریاست کے ہر ضلع میں اپنے حامیوں کو ایودھیا کی ریلی کے لیے موبلائز کر رہے ہیں۔ پورے ملک سے آئے ہوئے بڑے بڑے مذہبی رہنما اور سادھو ریلی سے خطاب کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مندر کی تعمیر کے لیے برسوں سے تیاریاں کی جا رہی ہیں یہاں ایک سنگ تراش کو کندہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے

اتر پردیش کی اہم سیاسی جماعت سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھیلیش یادو نے کہا ہے کہ بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں انتخابات کے پیش نظر ملک کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو ایودھیا میں فوج اتاردی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

'رام مندر کے خلاف فیصلہ آیا تو خانہ جنگی کا خطرہ'

رام مندر: مودی کے سیاسی ترکش کا آخری تیر

شہر کی انتظامیہ نے ایودھیا کے باشندوں کو یقین دلایا ہے کہ صورتحال پوری طرح پر امن ہے اور کسی گبھراہٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں اتوار کو مندرریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کی توقع ہے۔

شہر کی فضا میں بے یقینی اور بے چینی کا ملا جلا تاثر ملتا ہے۔ لوگ یہ امید کر رہے ہیں کہ اس بار کوئی انہونی نہیں ہوگی ۔ لیکن بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ اندیشے بھی ہیں کہ اگر لاکھوں لوگ یہاں ایک بار پھر باہر سے آ کر جمع ہوئے تو کیا اتنی بڑی بھیڑ قابو میں رہ پائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption بڑی تعداد میں شیو سینا کے رضا کار مہاراشٹر سے اترپردیش کے شہر ایودھیا کا رخ کر رہے ہیں

ان کے ذہن میں دسمبر1992 کی یادیں بسی ہوئی ہیں۔ چھبیس برس قبل ایودھیا میں اسی طرح لاکھوں کارسیوک (ہندو رضاکار) پورے ملک سے جمع ہوئے تھے۔ بے قابو کارسیوکوں نے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں بابری مسجد مسمار کر دی تھی۔ پورے ملک میں فسادات برپا ہوئے تھے جن میں ہزاروں لوگ مارے گئےتھے۔

رام مندر کی تحریک ایک بار پھر جارحانہ رخ اختیار کر رہی ہے۔ ایودھیا میں سخت گیر وشو ہندو پریشد کے لاکھوں حامیوں کی متوقع آمد سے لوگوں کے ذہن میں اندیشہ پیدا ہونا فطری ہے۔ ماضی میں ایودھیا میں اسی طرح کی ایک بھیڑ بے قابو ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں