ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع زمین: مندر کی تعمیر بی جے پی کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے

ادھو ٹھاکرے تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times/Getty Images
Image caption ایودھیا میں لکشمن گھاٹ پر شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے رام مندر کی جلد از جلد تعمیر پر زور دیا

آر ایس ایس اور سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے زیر اہتمام سرکردہ ہندو سادھوؤں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایودھیا کی متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کے لیے بلا تاخیر ایک آرڈیننس جاری کرے۔

پریشد کی کال پر ہزاروں ہندو رضاکاروں نے اتوار کو سینکڑوں سادھوؤں کے ہمراہ ایودھیا میں ایک ریلی میں شرکت کی۔ اس کا مقصد آرڈیننس کے لیے حکومت پر دباؤ بنانا تھا۔

ریلی سے خطاب کرنے والے سادھوؤں کا لب ولہجہ ماضی کی طرح جارحانہ نہیں تھا اور کارسیوک بھی پر امن رہے۔

1992 میں کارسیوکوں کی اسی طرح کی ایک ریلی میں ہجوم بے قابو ہو گیا تھا اور مشتعل ہجوم نے پانچ سو برس پرانی بابری مسجد مسمارکر دی تھی۔ کارسیوکوں میں اس بار وہ جوش و جزبہ نظر نہیں آیا۔

اسی بارے میں

ایودھیا میں پھر ایک بڑا ہجوم، فلک شگاف نعرے

جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسک گئی

'رام مندر کے خلاف فیصلہ آیا تو خانہ جنگی کا خطرہ'

مسجد مندر کا تنازع سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور جنوری کے بعد اس معاملے کی سماعت متوقع ہے۔

فیصلہ آنے میں کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ مندر کی تعمیر حکمراں بی جے پی کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ مودی حکومت اپنے اقتدار کے آخری مرحلے میں ہے۔ ملک میں پارلیمانی انتخابات کی فضا بن رہی ہے۔ اس وقت کئی ریاستوں میں بھی اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔

آخراس مرحلے پر بی جے پی کی نظریاتی جماعتیں اچانک مندر کا سوال کیوں اٹھا رہی ہیں۔

ایودھیا میں سماجوادی پارٹی کے ایک رہنما اور سابق وزیر تیج ناراین پانڈے کا کہنا ہے کہ ’مودی حکومت کی کار کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وہ عوام میں ایک بار پھر پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان کی زمین کھسک چکی ہے۔ عوام یہ جانتی ہے کہ مندر ان کا مذہبی سٹنٹ ہے۔ ان کو نہ رام سے مطلب ہے نہ مندر اور مسجد سے۔ یہ صرف مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں'۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمزکی مدیر سنیتا ایرن کہتی ہیں کہ آر ایس اور وشو ہندو پریشد مندر کے لیے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن مندر کے ایجنڈے کو اچھال کر ہندوتوا کی تنظیمیں مدھیہ پردیش اور راجستھان کے انتخابات کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں 'اگر بی جے پی چھتیس گڑھ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بہت اچھا نہیں کرتی تو بہت ممکن ہے کہ پارٹی کو اپنی حکمت عملی بدلنی پڑے اور وہ ایک بار پھر مندر کی جگہ ترقی کے موضوع پر واپس آ جائیں۔‘

تجزیہ کار شرت پردھان کا بھی یہی خیال ہے کہ مندر کا سوال انتخابات کے پیش نظر اچھالا جا رہا ہے۔ بی جے پی، گھبراہٹ میں ہے۔' اگر بی جے پی مدھیہ پردیش راجستھان اور چھتیس گڑھ میں سے دو ریاستوں میں شکست کھاتی ہے جس کا اندیشہ ہے تو کانگریس کی پوزیشن یکلخت بدل جائے گی اور یہ اتر پردیش میں بی جے پی کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption بڑی تعداد میں شیو سینا کے رضا کار مہاراشٹر سے اترپردیش کے شہر ایودھیا کا رخ کر رہے ہیں

شرت کہتے ہیں کہ بی جے پی شہروں کے نام بدل کر، اشتعال انگیز بیانات دے کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہی ہے 'سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں ہو رہا ہے۔ اس سے وہ فکرمند ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ ری ایکشن ہو۔ جتنا ری ایکشن ہوگا اتنا ٹکراؤ ہو گا۔ اس سے انہیں فائدہ ہو گا۔ لیکن وہ ہو نہیں پا رہا ہے۔

سادھوؤں نے ایودھیا کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ مندر کے معاملے کی فوراً سماعت شروع کرے اور جلد فیصہ دے۔ اگر عدالت عظمی جلد فیصلہ نہیں سناتی تو سادھو اپنے لاکھوں حامیوں کے ساتھ ایک بار پھردسبمر میں دلی میں جمع ہوں گے۔ بقول ان کے یہ 'یہ آر پار کی جنگ ہو گی'۔

ایودھیا کی ریلی کا مقصدر مندر کے سوال کو پس منظر سے نکال کر سامنے لانا تھا۔ اس ریلی کے بعد مندر کا ایشو ایک بار پھر ملک کی سیاست کا محور بنتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں