فاطمہ رسول صدیقی: مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی واحد مسلم امیدوار

فاطمہ رسول تصویر کے کاپی رائٹ FATIMA RASOOL
Image caption اس سیٹ پر فاطمہ کے والد ماضی میں کامیابی کا پرچم لہرایا کرتے تھے

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں حکمراں جماعت بی جے پی نے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں تمام 230 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں لیکن ان میں بھوپال کی ایک نشست پر سب کی نظر ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ یہ وہ واحد سیٹ ہے جہاں سے بی جے پی نے کسی مسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں کھڑا کیا ہے۔

فاطمہ رسول صدیقی شمالی بھوپال کی اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کی امیدوار ہیں اور یہ سیٹ نہ صرف بی جے پی بلکہ اس کی امیدوار کے لیے بھی وقار کی لڑائی بن گئی ہے۔

پارٹی کے لیے اس لیے کہ گذشتہ 15 سالوں تک اقتدار میں ہونے کے باوجود بی جے پی کبھی یہاں سے جیت نہ حاصل کر سکی۔

اور فاطمہ صدیقی کے لیے اس لیے کیونکہ اس سیٹ پر ان کے والد کامیابی کا پرچم لہرایا کرتے تھے۔ رواں سال ہونے والے انتخابات میں وہ اپنے والد کی شکست کا بھی بدلہ لینا چاہیں گی۔

شیر بھوپال کہے جانے والے رسول احمد صدیقی اس اسمبلی نشست سے کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر دو بار ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے اور کانگریس کی حکومت میں وزیر بھی رہے تھے۔

لیکن سنہ 1993 میں عارف عقیل کے ہاتھوں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ FATIMA RASOOL

اس انتخاب کے 25 سال بعد بی جے پی نے عارف عقیل کو چیلنج دینے کے لیے رسول احمد صدیقی کی بیٹی فاطمہ رسول کو میدان میں اتارا ہے۔

یہ مقابلہ آسان نہیں ہے کیونکہ یہ نشست کانگریس کا گڑھ کہی جاتی ہے اور عارف مسلسل پانچ بار وہاں سے منتخب ہوئے ہیں۔

فاطمہ کے والد کانگریس کی جانب سے وزیر اعلی کے عہدے کے مضبوط دعویدار سندھیا کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کی بیٹی نے ہاتھ کا ساتھ چھوڑ کر کنول کے پھول کا سہارا کیوں لیا۔ یہی سوال بی جے پی کے لیے بھی ہے کہ اس نے اقلیتی برادری سے کسی دوسرے کو اپنا نمائندہ بنانے کے بجائے رسول احمد جیسے کانگریسی کی بیٹی کو کیوں منتخب کیا۔

یہ بھی پڑھیے

مسلمان چار کروڑ، امیدوار ایک بھی نہیں

گجرات اسمبلی انتخابات میں چار مسلم امیدوار کامیاب

سیاست کی اس بساط کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے شمالی بھوپال کی نشست کو سمجھنا ضروری ہے۔ شمالی بھوپال کی اسمبلی نشست مسلمان اکثریتی والا علاقہ ہے۔ ایسے میں مسلم امیدوار کا میدان میں آنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن فاطمہ کا انتخاب حیرت انگیز ہے۔ حیرت انگیز اس لیے کہ بی جے پی میں شامل ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی انھیں امیدوار بنا دیا گیا۔

تاہم فاطمہ اسے عجیب نہیں کہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: 'یہ سچ ہے کہ میں اس سے پہلے کسی بھی پارٹی میں نہیں تھی۔ یہ میری پہلی پارٹی ہے اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ پارٹی نے یہ خیال کیا کہ میں جوان ہوں، میں کام کرنا چاہتی ہوں اس لیے مجھے اپنا امیدوار بنا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ FATIMA RASOOL

ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ کانگریس نے ان پر بھروسہ کیوں نہیں کیا۔

فاطمہ کا کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ سیاست کی سمجھ ان میں ان کے والد سے آئی ہے اور وہ ایک کانگریسی تھے لیکن اب کانگریس کی وہ شکل و صورت نہیں رہی۔

فاطمہ کہتی ہیں: 'نہ اب وہ کانگریس رہی نہ ہی کانگریس کے وہ لوگ رہے۔ پرانا زمانہ مختلف تھا۔ اب کانگریس بہت بدل چکی ہے۔ لیکن وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان میں مجھے اپنے والد سے ملنے والی سیاسی سمجھ نظر آئی۔

اپنے تمام تر خطاب میں فاطمہ گنگا جمنی مشترکہ تہذیب کی بات کرتی ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ہندو مسلم کے نام پر سیاستی فائدے حاصل کیے جاتے ہیں۔

لیکن فاطمہ کے الفاظ ابہام بھی پیدا کرتے ہیں۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس میں جانا چاہتی تھیں لیکن کانگریس نے انھیں کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا۔

انھوں نے کہا: 'میرے والد اس علاقے کے لیے جتنے اچھے کام کیے وہ اب بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ لیکن کانگریس ان کے کام اور ان کی خدمات بھول گئی۔'

اس سے یہ واضح ہے کہ ان کی پہلی پسند کانگریس تھی لیکن وہاں سے انھین کوئي مثبت جواب نہ مل سکا۔ دوسری جانب بی جے پی کو امیدوار کی تلاش تھی جہاں سے انھیں دعوت ملی اور وہ بی جے پی کی 'فاطمہ' بن گئیں۔

فاطمہ کا خیال ہے کہ بھوپال میں ہر جگہ امن ہے لیکن شمالی بھوپال ایسا علاقہ ہے جہاں بدامنی ہے اور انتخابات جیت کر وہ وہاں امن قائم کرنا چاہتی ہیں۔

انھیں اپنی کامیابی کا یقین ہے کیونکہ وہ ترقی کے مسئلے کے ساتھ میدان میں ہیں۔ لیکن بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا مترادف کہے جانے والے رام مندر کے معاملے پر براہ راست کچھ بھی نہیں کہتیں۔

وہ کہتی ہیں: 'ہم اس پر کچھ کہنے کے لیے ہم ابھی چھوٹے ہیں، لیکن ہمیں یہ یقین ہے کہ جو فیصلہ کیا جائے گا وہ سب کے مفاد میں ہوگا۔

والد کے نام پر انتخاب میں آنے والی فاطمہ کیا اقربا پروری کی سیاست کو فروغ نہیں دے رہی ہیں؟ وہ بھی اس پارٹی کی امیدوار ہیں جو جس نے اپنے مخالف پر ہمیشہ اقربا پروری کے الزامات عائد کیے۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھیں ٹکٹ صرف ان کے والد کے نام پر نہیں بلکہ ان کے نوجوان ہونے پر ملا ہے۔

اگر فاطمہ اپنی فتح کا دعوی کر رہی ہیں تو ان کے کانگریسی حریف عارف عقیل کی اس علاقے میں اچھی پکڑ ہے۔ سنہ 2013 میں منعقد اسمبلی انتخابات میں، انھوں نے بی جے پی کے عارف بیگ کو تقریبا آٹھ ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔

بی جے پی نے مسلم خاتون کو اپنا امیدوار بنا کر اپنی چال تو چل دی ہے لیکن اس چال کے درست ہونے کا فیصلہ تو انتخابی نتائج ہی کریں گے۔

اسی بارے میں