پیلٹ گنز کا نشانہ بننے والی 19 ماہ کی کشمیری بچی سے ملیے!

سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے حبا کی دائیں آنکھ زخمی ہوئی تصویر کے کاپی رائٹ Basit zargar
Image caption سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے حبا کی دائیں آنکھ زخمی ہوئی

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائر کی گئی پیلٹ گن سے ایک 19 ماہ کی بچی کی آنکھیں بری طرح زخمی ہوئیں جس سے وادی میں ایک بار پھر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

منگل کو کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں میں حبا جان ہسپتال سے گھر واپس آئیں تو متجسس ہمسائے جن میں بہت سارے بچے بھی شامل تھے، چھروں کا ’نشانہ بننے والی کم عمر‘ بچی کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

ایک ہمسائی امینہ راتھر نے حبا کے گالوں کو پیار کرتے ہوئے کہا کہ 'تمھیں کیا ہوگیا ہے، میری گڑیا۔'

'مجھے چھوڑو'، حبا چلاتے ہوئے اپنے زخمی دائیں آنکھ کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ملنے کی کوشش کرنے لگی۔ ان کی ماں مرسلہ جان نے اس کے ہاتھ پیچھے ہٹائے۔

چند لمحے بعد، اس کی ماں نے مہمانوں سے بھرے کمرے میں اعلان کیا کہ اس کی بیٹی کی بدھ کو ایک اور سرجری ہوگی۔ اس اعلان سے کمرے میں ٹھنڈی آہیں اور صحت یابی کی دعائیں بلند ہوئیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حنا کے ابھی بہت آپریشن ہوں گے۔

حبا کا جس ہسپتال میں علاج ہوا اس کے شعبہ امراض چشم کے سربراہ سلیم تاک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دوسری سرجری کے بعد ہی ہم آنکھ کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹروں کے مطابق حبا کی دائیں آنکھ کی بینائی جا سکتی ہے

شاید وہ اپنی اس آنکھ کی بیشتر بینائی کھو دیں۔

19 ماہ کی اس زخمی لڑکی کی تصاویر نے اس مسلم اکثریتی علاقے میں عوامی غم و غصہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔

انڈیا اور پاکستان دونوں کشمیر پر دعویٰ کرتے ہیں اور دونوں ممالک نے اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ انڈیا پاکستان پر اس خطے میں بدامنی کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ اسلام آباد اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں مظاہرین پر پیلٹ گنز کے استعمال سے ایک اندازے کے مطابق خطے میں تقریباً تین ہزار افراد 'آنکھوں سے محروم ہوئے ہیں، مقامی افراد اسے 'مردہ آنکھ کی وبا' قرار دیتے ہیں۔ عوامی غصے کے باوجود انڈین سکیورٹی فورسز نے پیلٹ گنز کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔

’افراتفری میں پھنسنا‘

اتوار کو حبا اپنے گھر پر اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کھیل رہی تھی جب گاؤں کے افراد کا سکیورٹی فورسز سے تصادم ہوا، جب قریبی گاؤں کپران میں چھ علیحدگی پسند باغی پھنس گئے تھے۔ ان باغیوں کو بعد میں مار دیا گیا تھا۔

علاقے میں انڈیا مخالف نعرے بازی ہوئی اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی۔

یہ تصادم حبا جان کے گھر کے داخلی راستے سے چند میٹرز کے فاصلے تک پہنچ چکا تھا۔

'میں ناشتہ بنانے کی تیاری کر رہی تھی جب میں نے بری طرح کھانسنا شروع کر دیا۔ آنسو گیس کے شیلز کا سرمئی دھواں گھر میں داخل ہو چکا تھا'، حبا کی ماں اس کے گھر میں دو بچوں کے ساتھ اکیلی تھیں، انھوں نے بتایا کہ ' ہر گزرتے ہوئے منٹ کے ساتھ ہوا مزید سانس لینے کے قابل نہیں تھی۔'

انھوں نے بتایا کہ 'حبا نے قے کرنا شروع کر دی اور میرے پانچ سالہ بیٹے کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔'

بچوں کی حالت خراب سے خراب تر ہونے پر مرسلہ جان نے حبا کو بانہوں میں اٹھا لیا، اپنے بیٹے شہادت کا ہاتھ پکڑا اور باہر بھاگیں، لیکن وہ افراتقری میں پھنس گئیں۔

مرسلہ جان نے بی بی سی کو بتایا: 'میں نے فورسز کو اپنی جانب فائرنگ کرتے دیکھا تو میں اپنے بیٹے کو اپنے پیچھے کر لیا اور حبا کو منہ اپنے ہاتھ سے چھپا لیا۔'

ایک سپاہی کی جانب سے پیلٹ گن کی تین فائر ان کی جانب کیے گئے جو مرسلہ کے ہاتھ پر لگے لیکن ایک حبا کی دائیں آنکھ میں جا لگا۔

حبا چلائی کہ 'ماں، یہ جل رہا ہے' اور اس کی آنکھ سے خون بہنے لگا۔ مرسلہ جان اس کے بعد بے ہوش ہوگئیں۔

انھیں اس وقت ہوش آیا جب انھیں گاؤں سے ایمبولینس پر سری نگر ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا اور ان کے اردگرد ان کے ہمسائے تھے۔

Image caption بیلٹ گن

"'میں تچے دگ' یعنی میں درد میں ہوں، حبا مسلسل ٹوٹی پھوٹی زبان میں اپنی ماں کو بتا رہی تھی۔

ہسپتال میں اس کی ماں وارڈ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتے ہوئے اکثر رونے لگتیں۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی پسندیدہ ٹافیاں بھی اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں لیکن حبا نے لینے سے انکار کیا اور ہر کسی سے اسے تنہا چھوڑ دینے کو کہتی۔

پیلٹ وکٹمز ویلفیئر ٹریسٹ کے سربراہ محمد اشرف وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے پیلٹ گنز سے زخمی اور نابینا ہونے کے 3800 کیس رجسٹر کیے ہیں 'لیکن سینکڑوں ایسے کیسز ہیں جو سکیورٹی فورسز کے ڈر سے خود کو رجسٹرڈ نہیں کرواتے۔'

28 سالہ اشرف وانی کا کہنا ہے کہ اس کی تنظیم کے ساتھ 1233 افراد رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے بیشتر خودکشی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ نابینا ہوچکے ہیں۔

اشرف وانی کی اپنی دائیں آنکھ بھی پیلٹ گن سے بینائی کھو چکی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ’وہ تنگ ہوتے ہیں، وہ شور سننا نہیں چاہتے۔ وہ تنہا رہنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Basit zargar
Image caption حالیہ مہینوں میں پیلٹ گنز سے 1000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں

دو دن تک حبا کو معلوم نہ ہوا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اپنی آنکھ سے پٹی ہٹانا چاہتی تھی۔ ان کے والد 40 سالہ ناصر احمد ایک مزدور ہیں اور جب یہ واقعہ پیش آیا وہ گھر سے دور ایک باغ میں کام کر رہے تھے۔

وہ اپنی بیٹی کو گلے لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'کاش پیلٹ مجھے لگ جاتے، تمھیں نہ لگتے۔‘

اس واقعے سے بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا۔ انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اسے شہ سرخیوں میں جگہ دی گئی اور پیلٹ گن کے استعمال پر پھر سوال اٹھائے جانے لگے۔ پاکستان میں اسے 'انڈیا کے ظلم کی ایک اور کارروائی' کے طور پر پیش کیا گیا۔

کشمیر میں سوشل میڈیا پر سکیورٹی فورسز کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔

حبا کے ایک انکل صوفد جان جب 15 سال کے تھے تو اس کی بھی بائیں آنکھ پیلٹ گن سے ضائع ہوگئی تھی جب وہ 15 سال کے تھے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لوگ شاید اسے یاد نہ رکھیں یا اس کے بارے میں نہ لکھیں لیکن ہم یاد رکھیں گے کہ انڈیا نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں