کرتار پور راہداری پر بھی تلخیاں اور الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption پاکستان نے بدھ کو کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا ہے

پاکستان کے علاقے ناروال میں انڈیا کی سرحد کے قریب کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل باجوہ سے خالصتان تحریک سے منسلک رہنما گوپال چاولا سے ہاتھ ملانے اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنی تقریر میں کشمیر کا حوالہ دینے پر انڈیا نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

عمران خان کی طرف سے کشمیر کی بات کرنے پر انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر ایک مرتبہ پھر شدت پسندوں کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو اس بات کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاس کرتے ہوئے اپنی سرزمین سے سرحد پار جا کر دہشت گردوں کو روکنے اور ان کی مدد بند کرنے کے لیے موثر اور قابل اعتماد اقدامات کرے۔

کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کو مقدس قرار دیتے ہوئے انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے۔

انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان نے ایک مقدس تقریب میں بلا ضرورت کشمیر کی بات کر کے سیاست کرنے کی کوشش کی۔

دوسری طرف انڈین میڈیا میں جنرل قمر جاوید باجوا کی گوپال چاولا سے ہاتھ ملانے کی تصویروں پر بھی شدید اعتراض کیا جا رہا ہے۔

انڈین میڈیا پر نشر اور شائع ہونے والی خبروں کے جواب میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ کی جس میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

آصف غفور نے کہا کہ انڈین ذرائع ابلاغ آرمی چیف کو صرف گوپال چاولا سے ہاتھ ملاتے ہوئے دکھا کر تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جنرل باجوہ بلا امتیاز تمام مہمانوں سے ملے۔ امن کے لیے اس طرح کے اقدام کو پروپیگنڈہ کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں