سبودھ کمار سنگھ کی ہلاکت: ’گائے کی ہلاکت‘ کی خبر پر پولیس افسر کیسے ہلاک ہوئے؟

انسپکٹر سبودھ کمار تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY: SUMIT SHARMA
Image caption انسپکٹر سبودھ کمار ہجوم کو پرسکون کرنے کی کوشش میں جان سے گئے

شمالی انڈیا میں ایک پولیس افسر کو ایک مشتعل ہجوم نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ لوگوں کو پرسکون رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بی بی سی کے نتن سری واستو بلند شہر گئے جہاں اس پولیس افسر کا قتل ہوا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر اس دن ہوا کیا تھا۔

47 سالہ انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ بلند شہر کے سیانا پولیس تھانے کے انچارج تھے۔ انھیں صبح اطلاع ملی تھی کہ پانچ کلومیٹر دور ایک گاؤں چگراوتی میں بلوائی اکٹھے ہو گئے ہیں۔ بعض بلوائیوں نے کہا کہ انھیں کھیتوں میں گائیوں کی لاشیں ملی ہیں۔ جلد ہی وٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز گردش کرنے لگیں، جس میں ایک ٹریکٹر پر لاشیں لدی تھیں۔

ہندو مت میں گائے کو مقدس جانور مانا جاتا ہے اور حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر ان کے مارے جانے کی خبریں پھیلنے کے بعد مشتعل بلوائیوں کے ہاتھوں کئی لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا گائے کا گوشت کھانے سے کیرالہ میں سیلاب آیا؟

'مسلمان گائے کا گوشت ترک کرکے پہل کریں'

ہر گائے کا ہو گا اپنا نشان!

سبودھ کمار کو پتہ چلا کہ چگراوتی میں ہجوم پھیل رہا ہے اور اب تک 300 سے زیادہ لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس فوری طور پر گائے کو مارنے والوں کو گرفتار کرے۔

تھانے میں موجود اہلکاروں نے فوری طور پر صوبائی ہیڈکوارٹر میں فون کرنے شروع کر دیے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سبودھ کمار خود چگراوتی گئے یا انھیں حکامِ بالا نے اس کا حکم دیا تھا۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ چگراوتی پہنچے تو انھوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں پستول تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلوائیوں نے تھانے کے باہر کھڑی گاڑیاں جلا دیں

پولیس کو اس لیے بھی تشویش تھی کہ بلند شہر میں کئی ہزار مسلمان ایک مذہبی تقریب میں شرکت کرنے اکٹھے ہوئے تھے۔ انھیں ڈر تھا کہ کہیں فرقہ وارانہ فساد نہ شروع ہو جائے۔

تاہم سبودھ سنگھ اور دوسرے پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر ہجوم کا اشتعال کم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا گیا۔

ایک سکول ٹیچر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اور ہجوم کے درمیان آدھے گھنٹے تک لڑائی ہوتی رہی اور اس دوران کئی گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ انھوں نے خود کو سکول کے باتھ روم میں بند کر لیا تھا۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض بلوائیوں کے پاس ریوالور تھے اور انھوں نے پہلے فائر کیا۔ تاہم کچھ اور عینی شاہدین نے کہا کہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جس کے بعد ہجوم کی طرف سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔

پولیس ڈرائیور رام اسرے نے بتایا کہ ہجوم نے تھانے اور اس کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی اور پولیس پر پتھر اور اینٹیں برسائیں۔ پولیس اہلکار جانیں بچانے کے لیے اندر گھس گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہجوم کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دوسرے علاقوں سے بھی پولیس بلائی گئی

اسرے نے کہا کہ 'اسی وقت سبودھ کمار کو اینٹ لگی اور وہ بےہوش ہو کر گر گئے۔'

انھوں نے اپنے افسر کو کار میں ڈالا اور ہجوم سے دور لے جانے کی کوشش کی، لیکن ہجوم نے سڑک بند کر رکھی تھی، جس پر اسرے نے گاڑی کھیتوں میں موڑ دی۔

'گاڑی کے پہیے کھیتوں میں دھنس گئے، ہمارے پاس بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔'

اسرے کا کہنا ہے کہ ہجوم نے ان کا پیچھا کیا اور گاڑی پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

خود اسرے کو بھی چوٹیں آئیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ سبودھ کمار کیسے ہلاک ہوئے۔

پیر کو وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سبودھ کمار کو گاڑی سے باہر نکالا گیا۔ ان کی جسم میں کوئی حرکت نہیں دیکھی جا سکتی اور ویڈیو میں مرد ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ جبکہ پس منظر میں گولیوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

انسپکٹر سبودھ کمار نے ایک بیوہ اور دو بچے سوگوار چھوڑے ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انھیں گولی لگی تھی۔ ان کا پستول اور تین موبائل بھی غائب ہیں۔

ان کے علاوہ ایک 18 سالہ نوجوان بھی مارا گیا۔ پولیس نے چار ملزموں کو حراست میں لے لیا ہے، جب کہ 23 دوسرے لوگوں کی تلاش جاری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں