مسلمان سہیلی کی جان بچانے کو گردہ دینے کو تیار، مگر والد آڑے آ گئے

سمرین
Image caption سمرین کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جموں کے ضلع اُدھم پور کی رہنے والی منجوت سنگھ کوہلی ایک انوکھی قانونی لڑائی کی تیاری میں مصروف ہیں۔ کئی ماہ سے وہ اپنے آبائی علاقے سے دُور سرینگر میں وہ اپنی مسلم سہیلی سمرین کی جان بچانے کی تگ و دو کر رہی ہیں۔ سمرین کے گردے ناکارہ ہیں اور منجوت نے اعلان کیا ہے کہ وہ انھیں اپنا گردہ عطیہ کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کی ضيافتیں

سشما سوراج کے گردے فیل، ٹرانسپلانٹ کے لیے ٹیسٹ

گذشتہ کئی ہفتوں سے ہسپتال کی انتظامیہ نے انہیں طبی معائنے کے متعدد مراحل سے گزارا لیکن آخر وقت پر منجوت کے والد گردیپ سنگھ کوہلی کے اعتراض نے منجوت کی خواہش میں روڑے اٹکا دیے، کیونکہ ہسپتال انتطامیہ نے ان کا آپریشن کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب منجوت عدالت سے رجوع کررہی ہیں۔

Image caption منجوت اپنی سہیلی کو گردہ عطیہ کرنا چاہ رہی ہیں

22 سالہ منجوت کوہلی کی ملاقات راجوری کی رہنے والی اپنی ہم عمر سمرین اختر سے چار سال قبل جموں شہر میں ایک سیمینار میں ہوئی تھی۔

دونوں کے مذاہب الگ الگ ہیں اور دونوں کے آبائی اضلاع میں ہمالیہ کا پیرپنچال سلسلہ حائل ہے اور ان کے بیچ 500 کلومیٹر کی مسافت ہے، لیکن منجوت اور سمرین کی قربت اور دوستی اس قدر گہری ہو گئی کہ جب چند ماہ قبل سمرین گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو گئیں اور ٹرانسپلانٹ کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا تو منجوت نے اپنی سہیلی کو اپنا گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

منجوت کہتی ہیں کہ پہلے پہل ان کے والد نے ان کا ساتھ دیا لیکن اب وہ اعتراض کر رہے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے کئی ہفتوں کی مشاورت کے بعد منجوت کا آپریشن کرنے سے انکار کر دیا اور اُن کے والد گردیپ سنگھ کوہلی کے اُس خط کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ منجوت ان کی واحد اولاد ہے اور وہ ایسا کسی دباؤ میں کر رہی ہیں۔

اب منجوت نے ہسپتال انتظامیہ سے فیصلے کی نقل طلب کی ہے اور وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی۔

’ہمارا کیس مضبوط ہے۔ قانونی طور پر ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ میرے والد کا اعتراض جذباتی ہے، ان کے اندر سے ایک باپ بول رہا ہے جو نہیں چاہتا کہ ان کی بیٹی کا گردہ نکالا جائے۔ رشتے بچانا اس وقت اہم نہیں ہے، رشتے بدلیں گے نہیں، لیکن اس وقت میری سہیلی کی جان بچانا زیادہ اہم ہے۔‘

منجوت کہتی ہیں کہ انھوں نے وکیل سے رابطہ کیا ہے اور وہ عدالت سے رجوع کرنے والی ہیں۔

سوشل میڈیا پر منجوت کے فیصلے کی خوب پذیرائی ہو رہی ہے. انھیں دوستی، جذبہ ایثار اور قربانی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مسٹر کوہلی کی بلکتی فریاد بھی سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہے۔

اپنے پیغام میں منجوت کے والد کہتے ہیں: ’خدارا میری بیٹی کو بچاؤ، حادثے میں میرا جسم چور ہے، میں اپاہج ہوں، چل پھر بھی نہیں سکتا، میرا کون ہے۔ ضرور میری بیٹی کسی دباؤ میں ہے، وہ کئی ماہ سے گھر نہیں لوٹی، وہ گھر آ جائے، جو مرضی کرے، لیکن گردہ سہیلی کو دے دیا تو میں مرجاؤں گا۔‘

Image caption منجوت کے والد اپنی بیٹی کو گردہ عطیہ کرنے سے منع کر رہے ہیں

سمرین شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیرعلاج ہیں۔ وہ فی الوقت ڈائلیسز کے سہارے زندہ ہیں کیونکہ ان کے دونوں گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ سمرین اور منجوت کے گردوں کی مطابقت جاننے کے لیے ہسپتال میں دونوں کے متعدد ٹیسٹ کیے گئے اور ان کے ضروری معائنے بھی کیے گئے۔ تاہم منجوت کے والد نے اعتراض کیا تو یہ عمل رُک گیا۔

منجوت کہتی ہیں کہ فی الوقت سمرین کی حالت بہتر ہے، تاہم وہ وقت ضائع کیے بغیر عدالت سے رجوع کریں گی تاکہ جلد سے جلد سمرین کا ٹرانسپلانٹ ہو سکے۔

منجوت سنگھ کے مطابق بھارت کی ریاست راجھستان میں ایسے ہی ایک معاملے میں طویل سماعت کے بعد عدالت نے بالآخر عطیہ کی اجازت دے دی تھی، اب دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر کی عدالت کیا فیصلہ سناتی ہے اور گردے کی محتاج سمرین کو اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں