سدھو مشرقی پنجاب میں 'ہیرو،' انڈیا میں 'غدار' کیوں؟

سدھو کے خلاف مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سدھو کے خلاف مظاہرے میں ایک بینر پر لکھا ہے ’وائے گرو کرتے کرتے تو بن گیا پاکستانی‘

سابق کرکٹر اور حالیہ انڈین سیاست دان کئی ہفتوں سے آندھیوں کی زد میں ہیں۔ جب سے کرتارپور راہداری کھلی ہے، وہ مشرقی پنجاب میں خاصے مقبول ہو گئے ہیں، خاص طور پر سکھوں میں۔ پنجابی سوشل میڈیا میں انھیں 'امن کا پیام بر اور خالص سکھ' مانا جاتا ہے۔

لیکن پنجاب سے باہر معاملہ مختلف ہے جہاں پاکستانی آرمی چیف کو گلے لگانے اور عمران خان کی تعریفیں کرنے کی پاداش میں سدھو کو'غدار' کہا جا رہا ہے۔

اپنے دور کے مقبول کھلاڑی اور ٹیلی ویژن سٹار نے آخر ایسا کیا کر دیا کہ انھیں ولن سمجھا جانے لگا ہے؟

اسی بارے میں مزید

’کرتارپور راہداری نے مثبت سیاست کی بنیاد رکھ دی‘

کرتار پور راہداری پر بھی تلخیاں اور الزامات

کرتارپور راہداری: سشما کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے معذرت

سکھوں کے لیے کرتارپور کی اہمیت

کرتارپور صاحب پاکستان کے اندر انڈیا کی سرحد سے صرف چار کلومیٹر دور ایک مقام ہے جہاں سکھ مت کے بانی گرو نانک نے پانچ صدیاں قبل زندگی کے آخری 18 برس گزارے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ قصبہ سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے جہاں سکھوں کے علاوہ غیر سکھ بھی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

اس سے قبل انڈیا سے آنے والے یاتریوں کو واہگہ اور لاہور کے راستے ایک سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کرتارپور آنا پڑتا تھا اور اس مقصد کے لیے خصوصی ویزے لینے پڑتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یونین منسٹر ہرسمرت کور اس موقعے پر پاکستان آئیں اور تقریر کے دوران آبدیدہ ہو گئیں

تاہم بابا گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ کے موقعے پر انڈیا اور پاکستان کی سرحد کے دونوں طرف بڑے پیمانے پر تقریبات بپا ہوئیں۔

سکھوں کے لیے کرتارپور کی اہمیت کے پیشِ نظر اس راہداری کو کھولنے کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ اس سلسلے میں عشروں تک ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔ آخر جب پاکستانی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سدھو کے ذریعے اس سرحد کو کھولنے کا عندیہ دیا تو سکھوں کے اندر سدھو کا ہیرو بن جانا یقینی تھا۔

منفی ردِ عمل سے سکھوں کو تکلیف‘

سدھو کو جب پاکستانی آرمی چیف نے گلے لگایا تو پنجاب کے علاوہ انڈیا میں تہلکہ مچ گیا۔ خاص طور پر ہندی بیلٹ کے سوشل میڈیا نے انھیں نشانے پر رکھ لیا۔ پنجاب میں سکھوں کی روایتی جماعت اکالی دل نے بھی سدھو کی مذمت کی، جب کہ دوسری طرف مشرقی پنجاب صوبے کے وزیرِ اعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ کرتارپور راہداری کا کھلنا ناگزیر تھا۔

سیاسی امور کے امور ماہر ہریش پوری کہتے ہیں: 'اکالی دن کی جانب سے سدھو کی مذمت سے الٹا سدھو کو فائدہ ہوا کیوں کہ بہت سے پنجابی اکالی دل کے ساتھ نہیں ہیں۔'

اکالی دل سے تعلق رکھنے والی یونین منسٹر ہرسمرت کور اور ان کے شوہر سُکھبیر سنگھ بادل نے سدھو کو غدار تک کہہ دیا۔

بعد میں ہرسمرت کور خود سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان آئیں، جہاں نہ صرف سدھو بلکہ پاکستانی فوج کے سربراہ بھی موجود تھے۔ اس پر ان کا خاصا مذاق اڑایا گیا۔

پنجابی مبصر اور مصنف جگتار سنگھ کہتے ہیں: 'قومی تقاضے تو سمجھ میں آتے ہیں، لیکن پنجاب سے باہر کرتارپور کے معاملے پر ہونے والا ردِ عمل حیرت انگیز تھا۔ ماضی میں پنجاب اور کشمیر دونوں میں بالواسطہ اور براہِ راست جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ تو پھر پنجاب کی امن کی خواہش میں برا کیا ہے؟ سکھوں کے بعض اہم ترین مذہبی مقامات پاکستان میں ہیں اور بہت سے سکھوں کو اس بات سے تکلیف ہوئی ہے ان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے کی خواہش کو ان کے بہت سے ہم وطنوں نے شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان نے سفارتی پتے اچھے کھیلے

عمران کا بڑا دل رکھنے والے کا تاثر

عمران خان نے اپنے سابق ساتھی کھلاڑی سدھو کو پیام بر بنا کر اپنے سیاسی اور سفارتی کارڈ اچھے طریقے سے کھیلے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس سے انڈین قیادت دنگ رہ گئی۔ پہلے خبر آئی کہ انڈین صدر سنگِ بنیاد رکھیں گے، پھر اعلان ہوا کہ نائب صدر یہ کام کریں گے۔ پاکستان نے خارجہ امور کی وزیر سشما سوراج کو آنے کی دعوت دی تو انھوں نے انکار کر دیا جب کہ اپنی جگہ دو سکھ وزیروں کو بھیج دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک وزیر وہی تھا جس نے سدھو کا مذاق اڑایا تھا۔

اس دوران بہت سے سکھوں کے لیے عمران خان بڑے دل والی شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے، جب کہ اس کے مقابلے پر انڈین قیادت کا تاثر یہ بنا کہ وہ سکھوں کے مطالبے پورے کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، اور اس نے راہداری کھولنے پر اسی وقت اتفاق کیا جب اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

کرتارپور میں سفارتی فٹبال

کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد انڈیا اور اور پاکستان کے درمیان سفارتی فٹبال بن کر رہ گیا۔ سشما سوراج نے کہا: 'انڈین حکومت پچھلے 20 سال سے کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہے، اور اب کہیں جا کر پاکستان نے مثبت جواب دیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب دوطرفہ مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔'

ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا جا رہا تھا۔ پنجابی سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا گیا کہ سکھوں کے لیے اس انتہائی اہم موقعے پر اس قسم کے بیانات کیوں دیے جا رہے ہیں؟

بہت سے لوگوں نے اس کی ذمہ داری انڈیا میں ہونے والے انتخابات پر ڈالی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سدھو کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد لوٹے تو ان کا استقبال کیا گیا

'دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں' کی بات انڈین حکومت ایک عرصے سے کر رہی ہے۔ حال ہی میں اجانوالا میں ایک دستی بم حملہ ہوا جس کے الزام میں دو سکھ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ ان کا تعلق خالصتان لبریشن فورس سے ہے اور وہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے کام کر رہے تھے۔

اسی دوران مشرقی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ امریندر سنگھ نے پاکستانی فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کو سرحد پر انڈین فوجیوں پر ہونے والے حملوں اور صوبے میں آئی ایس آئی کی مبینہ کارروائیوں پر کڑی تنبیہ کی۔ تاہم اسی دوران انھوں نے کرتارپور راہداری کا خیرمقدم کیا۔

لیکن امریندر سنگھ کو یہ فائدہ ہے کہ ان پر سکھ اعتماد کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے 1984 میں امرتسر آپریشن کے بعد پارلیمان کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

تاہم بہت سے دوسرے رہنماؤں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔

پروفیسر پوری کہتے ہیں: 'بہت سے غیر پنجابیوں کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سے پنجابی متاثر ہوتے ہیں۔ وہ سرحد پر دونوں پنجابوں کے درمیان اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ اس لیے صوبے سے باہر کے لوگوں کو پنجاب کے یہ جذبات سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔'

سدھو کی مقبولیت

جس دن راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اسی دن مشرقی پنجاب میں اکالی دل اور کانگریس کے درمیان زبردست تو تو میں میں دیکھنے میں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سابق وزیرِ اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کا نام سنگِ بنیاد پر کھدا ہوا تھا۔ پنجاب میں کانگریس حکمران ہے جس نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ اکالی دل کے سربراہ سکھ بیر سنگھ بادل اس دن سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک وزیر نے تو پرکاش سنگھ بادل کے نام پر ٹیپ چپکا دی۔

اس دوران سدھو کو بادل کا سب سے موثر سیاسی حریف سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں دونوں بادلوں نے سدھو کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ تاہم سدھو کی جس قدر مخالفت ہوتی ہے، ان کا قد اتنا ہی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں