'اکبر اور مہارانا پرتاپ کی جنگ ہندو مسلمان کی جنگ نہیں تھی'

اکبر اور رانا پرتاپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپریل سنہ 1573 میں ڈونگرپور کے راول اَسكرن کو شکست دینے کے بعد جب اکبر کے سپہ سالار مان سنگھ پڑوسی ریاست میواڑ پہنچے تو وہاں کے راجہ مہارانا پرتاپ نے اودے پور کی مشہور جھیل ادے ساگر کے کنارے ان کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔

پرتاپ سنگھ کے بیٹے امر سنگھ نے مان سنگھ کا استقبال کیا لیکن مہارانا پرتاپ نے پیٹ میں درد کے بہانے اس شاہی ضیافت میں شرکت نہیں کی۔

اس ضیافت کا ذکر کرتے ہوئے جیمز ٹوڈ اپنی کتاب 'اینلس اینڈ اینٹيكويٹيز آف راجستھان' میں لکھتے ہیں: 'مان سنگھ نے کہا کہ مجھے پیٹ میں درد کا بہانہ اچھی طرح معلوم ہے۔ میں اس وقت تک ایک بھی نوالہ اپنے منہ میں نہیں ڈالوں گا، جب تک پرتاپ میرے سامنے تھالی نہیں رکھتے، پھر ہم ایک تھالی میں ساتھ مل کر کھائیں گے۔'

'پرتاپ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایسے راجپوت کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتے جس نے اپنی بوا (پھوپھی) کو شادی میں ترکوں کو دے دیا۔'

اس واقعے کا ذکر نہ تو ابوالفضل نے 'اکبرنامہ' میں اور نہ ہی عبدالقادر بدایونی نے اپنی کتاب 'منتخب التواریخ' میں کیا ہے۔

البتہ 'امرکاویہ ونشاولی' میں راج رتناکر نے اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: 'جب مان سنگھ درمیان میں ہی ضیافت چھوڑ کر اٹھنے لگے تو پرتاپ نے ان پر طنز کیا کہ انھیں اپنے پھوپھا اکبر کے ساتھ وہاں آنا چاہیے تھا۔'

'مان سنگھ کے جانے کے بعد پرتاپ سنگھ نے ان برتنوں کو دھلوايا جس میں مان سنگھ کو کھانا پیش کیا گيا تھا، تاکہ ان کی نظروں میں اس گناہ کو دھویا جا سکے جو انھوں نے اپنی پھوپھی کو شہنشاہ کو شادی میں دے کر کیا تھا۔'

Image caption ریما ہوجا کی کتاب کا سرورق

جگمال کو اپنا وارث بنایا

مان سنگھ سے پہلے ان کے والد بھگونت داس اور اکبر کے نورتنوں میں سے ایک راجہ ٹوڈرمل بھی اکبر کی طرف سے مہارانا پرتاپ کو منانے آ چکے تھے، لیکن انھیں بھی کامیابی نہیں ملی تھی۔

28 فروری سنہ 1572 کو رانا اودے سنگھ کی موت سے پہلے، اس نے اپنے نویں بیٹے جگمال کو اپنا جانشین بنایا، اگرچہ رانا پرتاپ ان کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ میواڑ کے وزیروں اور درباریوں نے بالاخر رانا پرتاپ کو ہی تخت نشین کرایا۔

'مہارانا پرتاپ - دی انونسیبل واریئر' کی مصنفہ ریما ہوجا بتاتی ہیں کہ 'رانا اودے سنگھ نے 20 سے زائد شادیاں کی تھیں۔ رانا پرتاپ ان کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ ان کے 25 بھائی اور 20 بہنیں تھیں۔ جب اودے سنگھ کی موت ہوئی تو پرتاپ روایت کے مطابق ان کے منھ میں آگ دینے نہیں گئے، کیونکہ اس وقت تک میواڑ میں یہ رواج تھا کہ سب سے بڑا بیٹا باپ کی آخری رسومات کے وقت محل میں ہی رہتا تھا، تاکہ اگر کوئی دشمن اس وقت حملہ کر دے تو وہ اس سے نمٹ سکے۔'

یہ بھی پڑھیے

'رانا پرتاپ کو نہیں اکبر کو شکست ہوئی‘

انڈین ریاست میں مغل تاریخ خارج

'جب پرتاپ کے ماموں اكھئی راج اور گوالیار کے رام سنگھ کو جو اس وقت میواڑ میں تھے شہزادہ جگمال آخری رسومات کی جگہ نہیں ملے تو انھوں نے ان کے بارے میں پوچھا۔ پتہ چلا کہ وہ شاہی محل کے اندر ہیں اور وہاں ان کی تاجپوشی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ وہ فوراً محل گئے، جہاں جگمال اس تخت پر بیٹھا تھا جس پر مہارانا اودے سنگھ بیٹھتے تھے۔'

'ان دونوں نے دائیں اور بائیں طرف سے ان کا ایک ایک ہاتھ پکڑا اور زبردستی اس جگہ پر بٹھا دیا جہاں مہارانا کے بیٹے بیٹھا کرتے تھے۔ پھر پرتاپ کی تلاش ہونے لگی۔ وہ شہر کے باہر کچھ لوگوں کے ساتھ ایک باوڑی پر بیٹھے ہوئے تھے اور ریاست سے باہر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ انھیں راجہ بننے کے لیے منایا گیا اور وہیں ایک پتھر پر ان کی تخت نشینی کی رسم ادا کی گئی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ RAJIV LOCHAN
Image caption بر صغیر کی عہد وسطی کی جو تاریخ ہے اس سے متعلق اب تک تمام مستند تاریخی کتابوں میں یہی درج ہے کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں اکبر کی فوج نے رانا پرتاپ کو شکست دی تھی

کھڑی فصل برباد کی

اس کے بعد جگمال نے غصے میں میواڑ چھوڑ دیا۔ وہ اجمیر گئے اور اکبر کے رابطے میں آئے۔ اکبر نے انھیں جہازپور کی جاگیر تحفے میں دے دی۔

اس سے پہلے ادے سنگھ کے دوسرے نمبر کے بیٹے شکتی سنگھ اپنے والد کی موت سے قبل ہی میواڑ کو خیراباد کہہ چکے تھے اور اکبر کے وظیفے پر اپنی زندگی گزار رہے تھے۔

رانا پرتاپ کے رانا بننے سے چار سال قبل سنہ 1568 میں ہی میواڑ کی راجدھانی چتوڑ پر مغلوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔

تخت سنبھالتے ہی رانا پرتاپ نے ایک طرف مغلوں سے جنگ شروع کر دی اور دوسری طرف کھڑی فصل کو تباہ کرنے کا حکم دے دیا تاکہ اکبر کی فوج کو رسد ملنے میں دقت ہو۔

ریما ہوجا بتاتی ہیں کہ 'چتوڑ کے ارد گرد کھڑی فصل کو جلا کر برباد کر دیا گیا تاکہ مغل فوجیوں کو مقامی سطح پر کھانا نہ مل سکے۔ اسی طرح چتوڑ اور اودےپور کے درمیان آنے والے سارے کنویں میں کوڑا پھینک دیا گیا تاکہ مغل فوجی اس کا پانی نہ پی سکیں۔'

'پرتاپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک ان کا چتوڑ پر دوبارہ قبضہ نہیں ہو جاتا وہ سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال نہیں کریں گے اور پلنگ کی جگہ زمین پر گھاس پر سوئيں گے۔ اس کے بعد صدیوں تک میواڑ کے لوگ اپنے راجہ رانا پرتاپ کی یاد میں اپنی تھالیوں کے نیچے پتے رکھ کر کھانا کھاتے رہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہلدی گھاٹی کی جنگ

اکبر اور رانا پرتاپ کے درمیان اس دشمنی کے نتیجے میں ہلدی گھاٹی کی جنگ ہوئی جہاں 21 جون، 1576 کو دونوں کی فوجیں تپتی گرمی میں آمنے سامنے کھڑی تھیں۔

راجہ مان سنگ مغل فوج کی قیادت کر رہے تھے۔ ابتدا میں یہ محسوس ہوا کہ راجپوت مغلوں پر حاوی ہو رہے ہیں۔

اسی وقت مغلوں کا ایک جرنیل جو پیچھے کی جانب جنگ کر رہا تھا، آگے بڑھا اور زور سے چیخا کہ شہنشاہ اکبر بذات خود میدان جنگ میں ایک بڑی فوج لے کر آ رہے ہیں۔

ابو الفضل اكبرنامہ میں لکھتے ہیں: 'یہ سنتے ہی مغل فوج کا حوصلہ بڑھ گیا اور وہ فرار ہونے کے بجائے راجپوتوں سے برسر پیکار ہو گئے۔ ایسا ممکن بھی تھا، کیونکہ اکبر اس وقت آگرہ یا دہلی میں نہیں تھے، بلکہ میدان سے کچھ ہی فاصلے پر موجود تھے۔ اس افواہ نے راجپوتوں کی ہمت توڑ دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MUKESH MUNDARA/BBC
Image caption راجستھان میں چتوڑ گڑھ کے قلعہ کی باقیات

ہاتھی رام پرساد کے مہاوت کی موت

مغلوں کو ابتدائی کامیابی اس وقت ملی جب میواڑ کی فوج کا اہم ہاتھی رام پرساد کا مہاوت ایک تیر سے مارا گيا۔

اس واقعہ کی تفصیلات دیتے ہوئے عبدالقادر بدایونی نے 'منتخب التواریخ' میں لکھا: 'مان سنگھ بہادری دکھاتے ہوئے اپنے ہاتھی کو آگے لے آئے۔ راجپوتوں نے انھیں روکنے کے لیے ہاتھیوں کا ہی استعمال کیا۔ اسی دوران مان سنگھ کی مدد کے لیے ہاتھیوں کے کمانڈر حسین خان بھی آگے آ گئے۔'

'مغلوں کے ایک ہاتھی نے رانا کی فوج کے اہم ہاتھی رام پرساد پر شدید حملہ کیا، جس میں اس کا مہاوت مارا گیا۔ مان سنگھ کی فوج کا ایک مہاوت اس پر سوار ہو گیا اور اسے مغل فوج کی طرف لے گيا۔ بعد میں جیت کی خبر رانا کے رام پرساد ہاتھی کے ساتھ میرے ذریعے شہنشاہ اکبر کو بھیجی گئی۔

ہاتھی نے رانا کے گھوڑے چیتک کے پاؤں زخمی کردیے

دریں اثنا چیتک پر سوار مہارانا پرتاپ ہاتھی پر سوار مان سنگھ کے سامنے آ گئے اور ان پر بھالے سے حملہ کر دیا۔

ریما ہوجا بتاتی ہیں: 'نیزہ مان سنگھ کو نہ لگ کر ان کے مہاوت کو لگا اور وہ وہیں مارا گیا۔ اسی وقت مان سنگھ کے ہاتھی کی سونڈ میں لگی تلوار نے چیتك کے پیروں کو بری طرح زخمی کر دیا۔ جیسے ہی چیتك کو زخم آیا مغل فوجیوں نے پرتاپ پر تیر برسانے شروع کر دیے۔

’رانا کی فوج کے جرنیلوں نے طے کیا کہ انھیں میدان جنگ سے چلے جانا چاہیے۔ مغلوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کی جگہ مان سنگھ جھالا نے لے لی۔ ان کے سر پر میواڑ کی شاہی چھتری لگی ہوئی تھی۔ اس جنگ میں مان سنگھ جھالا ہلاک ہوئے۔

'دو نسل پہلے مان سنگھ جھالا کے اجداد اجّا جھالا نے بھی اسی طرح لڑتے ہوئے پرتاپ کے دادا رانا سانگا کی جان بچائی تھی۔ رانا پرتاپ کے میدان جنگ سے جاتے ہی راجپوت فوج میں افراتفری پھیل گئی۔'

بعد میں نظام الدین نے 'طبقات اکبری' میں لکھا: 'مغلوں نے بھاگتے ہوئے راجپوتوں کا پیچھا کیا اور بہت سے لوگوں کو قتل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی دن دوپہر بعد لڑائی ختم ہوگئی۔

Image caption رانا پرتاپ کو یہاں اپنے حامیوں کے ساتھ پیش کیا گيا ہے

چیتک کی موت

دوسری جانب چیتک جس کے پاؤں سے مسلسل خون بہہ رہا تھا وہ پرتاپ کو محفوظ مقام تک لے گیا۔

ریما ہوجا بتاتی ہیں: 'ایک اچھے گھوڑے کی شناخت ہوتی ہے کہ وہ بغیر کہے ہی مالک کے ذہن میں کیا چل رہا ہے، وہ بھانپ لیتا ہے۔ چیتك میں وہ تمام خصوصیات تھی۔ زخمی ہوتے ہوئے بھی وہ پرتاپ کو اپنی پیٹھ پر لادے تھا۔ اس نے سامنے ایک خندق دیکھ کر ایک لمبی چھلانگ لگائي اور خندق کے پار پہنچ گيا۔

"لیکن اسی وقت اسے دل کا دورہ پڑا اور اس کی جان نکل گئی۔ پڑتاپ کو چیتک کی موت پر بہت صدمہ پہنچا۔ بعد میں جہاں چیتک کی موت ہوئي تھی وہاں انھوں نے چیتک کی ایک یادگار بنوائی۔'

ہلدی گھاٹی چھوڑنے کے بعد رانا پڑتاپ گوگنڈا کے مغرب میں واقع ایک قصبے کولیاری پہنچے جہاں ان کے زخمی فوجیوں کو علاج کیا جا رہا تھا۔

پرتاپ کو اندازہ تھا کہ مغل فوج فورا ہی گوگنڈا کے قلعے کی جانب آئے گي۔ اس لیے انھوں نے فوری طور پر قلعے میں رہنے والے لوگوں اور اپنے اہل خانہ کو دوسری جانب بھیج دیا۔ جب مغل فوج وہاں پہنچی تو قلعہ کی حفاظت کے لیے صرف 20 مارواڑی فوجی وہاں موجود تھے۔

قلعہ کی حفاظت کرتے ہوئے بیسوں فوجی مارے گئے۔ پرتاپ نے گوگنڈا قلعہ کی رسد روک دی جس کے سبب مغل فوجیوں کو کھانے پینے میں دقتیں پیش آئيں۔

ریما ہوجا بتاتی ہیں: 'مغل فوجیوں کو کھانے کے لیے اپنے گھوڑے تک ذبح کرنے پڑے۔ وہاں کھانے کے لیے کچھ جنگلی پھل پھول اور آم ہی دستیاب تھے جو مغل فوجیوں کے لیے کافی نہیں تھے۔'

Image caption مہارانا پرتاپ کے وزیر اعظم بھاما ساہ کے ساتھ مان سنگھ جھالا کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر ریما ہوجا کی کتاب سے لی گئی ہے

اکبر کی ناراضگی

ہلدی گھاٹی کی لڑائی کو مغلوں کی واضح جیت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ابو الفضل سمیت اس وقت کے بہت سے مورخین نے لکھا ہے کہ اکبر اس جنگ کے نتائج سے بہت خوش نہیں تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک انھوں نے مان سنگھ، آصف خان اور قاضی خان کو دربار میں حاضری کی اجازت نہیں دی تھی۔

بعض مورخین نے یہ بھی کہا ہے کہ اکبر کو مان سنگھ کی وفاداری پر بھی شبہ تھا۔ دوسری جانب اس جنگ کو ہندو اور مسلمان کی عینک سے دیکھنا بھی غلط ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مغل فوج کی قیادت ہندو جنرل مان سنگھ کر رہے تھے جبکہ مہارانا پرتاپ کی جانب سے مسلم سپہ سالار حاکم خاں سور جنگ لڑ رہے تھے۔

Image caption مہارانا پرتاپ کے بیٹے امر سنگھ کی تصویر بھی ریما ہوجا کی کتاب سے لی گئی ہے

گوریلا جنگ

ہلدی گھاٹی کی جنگ کے بعد رانا پرتاپ نے اکبر کی فوج کے خلاف اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ انھوں نے گوریلا یعنی چھاپہ مار لڑائی شروع کردی۔ وہ مغلوں پر گھات لگا کر حملہ کرتے اور پھر جنگل میں غائب ہو جاتے۔

ریما ہوجا بتاتی ہیں: 'ایسا لگتا تھا کہ مہارانا سو جگہ ایک ساتھ تھے، کیونکہ وہ خفیہ راستوں سے جنگلوں میں گھس جاتے تھے۔ سنہ 1582 میں كمبل گڑھ سے 40 کلومیٹر شمال مشرق میں پرتاپ نے مغلوں کو ديوائر کی لڑائی میں شکست دی تھی، جہاں پرتاپ کے بیٹے امر سنگھ نے مغل فوج کے کمانڈر سلطان خان پر اس شدت کے ساتھ حملہ کیا تھا کہ ان کے دو حصے ہو گئے تھے۔

گوریلا جنگ میں رانا پرتاپ اتنے متاثر کن تھے کہ مؤرخ ستیش چندرا نے لکھا ہے کہ بعد میں ملک کافور اور شیواجی نے یقینی طور پر ان سے ہی گوریلا جنگ کی تحریک لی ہوگی۔

اسی دوران رانا پرتاپ کے بیٹے امر سنگھ نے اجمیر کے گورنر خان خاناں کے اہل خانہ اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔ یہ خان خاناں کوئی اور نہیں بلکہ ہندی معروف شاعر رحیم تھے۔

ریما ہوجا بتاتی ہیں: 'جب پرتاپ کو یہ بات پتہ چلی تو وہ اپنے بیٹے پر بہت ناراض ہوئے اور ان سے فوری طور پر ان کے وارثین کو چھوڑنے کے لیے کہا۔ امر سنگھ نے باعزت طریقے سے انھیں ان کے گھر پہنچا دیا۔ بعد میں رحیم نے ان کی شان میں کئی دوہے لکھے۔'

شکار کے دوران آنے والے زخم سے موت ہوئی

سنہ 1596 میں شکار کے دوران مہارانا کو زخم آيا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اور 19 جنوری سنہ 1598 کو 57 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گيا۔ اکبر کو یہ خبر لاہور میں ان کے دربار میں دی گئی۔

ریما ہوجا بتاتی ہیں: 'اس وقت راجستھان کے ایک مشہور شاعر درسا آڑھا بھی اکبر کے دربار میں موجود تھے۔ وہ فی البدیہ شعر کہنے پر قدرت رکھتے تھے۔ رانا پرتاپ کی موت کی خبر پر بھی انھوں نے شعر کہا:

اس لیگو انداگ پگ لیگو ان نامی

گو آڈا گوڑائے جیکو بہتو گھروامی

یعنی تم نے اپنے گھوڑے پر کبھی شاہی داغ لگنے نہیں دیا۔ تم نے اپنی پگڑی کبھی نہیں جھکائی۔ تم نے اپنے گھوڑے پر شاہی مہر نہیں لگنے دی۔ تم نے کبھی شاہی جھروکے کے نیچے عرض حال نہیں کیا۔ تم کبھی نوروز میں بادشاہ سے ملنے نہیں آئے۔

آج جب تمہاری موت کی خبر دربار میں آئی ہے، تو دیکھو بادشاہ کا سر جھک گیا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ہیں اور اس نے اپنی زبان کو اپنے دانتوں میں دبا لیا ہے۔ تم جیت گئے پرتاپ۔. "

راجستھان میں یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ اکبر نے اس نظم کو سننے کے بعد درسا آڑھا کو انعام دیا تھا۔ شاید یہ رانا پرتاپ کی حقیقی کامیابی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں