’مسلمانوں کی خاموشی انڈیا کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوگی‘

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دلی کی جامع مسجد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

مبصرین کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ خاموشی ملک کے مستقبل کے لیے اچھی نہیں ہے

گذشتہ دنوں معروف اداکار نصیرالدین شاہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ زہر پورے ملک میں پھیل چکا ہے اور اس کے جلد قابو میں آنے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔

انھوں نے تمام معقولیت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ ماحول سے خوف نہ کھائیں بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ نصیرالدین شاہ ایک اعلیٰ درجے کے تھیٹر آرٹسٹ اور اداکار ہی نہیں بلکہ ایک حساس دانشور بھی ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں ملک کے سرکردہ اخبار انڈین ایکسپریس کے صحافیوں کے ساتھ مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے راج موہن گاندھی کی بات چیت کی تفصیل اخبار میں شائع ہوئی۔ راج موہن ایک مورخ ہیں اور امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں جنوبی ایشیائی مطالعے کے مرکز میں پروفیسر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اب یہ سوچنے لگی ہے کہ اسے خاموش رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم جیسے لوگوں کے لیے جن کا تعلق اکثریتی برادری سے ہے مسلمانوں کی خاموشی ایک انتہائی تکلیف دہ حقیقت ہے‘۔

پچھلے دنوں ملک کے 80 سے زیادہ سرکردہ سابق اعلیٰ سرکاری اہلکاروں نے ملک کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نفرت اور ٹکراؤ کی سیاست کے خلاف جنگ کے لیے متحد ہو جائیں۔ ان اہلکاروں نے کہا کہ ’ملک کی دائیں بازو کی سیاست ان بنیادی اصولوں کو تباہ کرنا چاہتی ہے جن پر انڈین جمہوریت قائم کی گئی تھی‘۔

ملک میں مذہبی منافرت اور ٹکراؤ کی جو فضا بنائی گئی ہے اس کا اصل محور مسلمان ہیں۔ موجودہ حالات پر کئی حلقوں کی طرف سے تشویش ظاہر کی جا رہی ہے لیکن مسلمانوں نے پوری طرح خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

راج موہن گاندھی کا کہنا تھا کہ 'ہم جیسے لوگوں کے لیے جن کا تعلق اکثریتی برادری سے ہے مسلمانوں کی خاموشی ایک انتہائی تکلیف دہ حقیقت ہے'

تاج محل کو مندر میں تبدیل کرنے کی باتیں ہوں، فیض آباد کا نام ایودھیا اور الہ آباد کا نام پریاگ رکھنے کا فیصلہ ہو۔ ایودھیا کی متنازع زمین پر مندر تعمیر کرنے کے نعرے ہوں، مسلمان اب مشتعل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی ردعمل ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ خاموشی مصلحت آمیز ہے۔ یہ خاموشی درد میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ اس بے بسی کی عکاس ہے جس میں انڈیا کے اٹھارہ کروڑ مسلمان اس وقت محصور ہیں۔

انڈیا کے مسلمانوں کو جن حالات کا سامنا ہے وہ ملک کی کئی نسلوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے۔ مسلمانوں کو سماجی، اقتصادی اور تعلیمی، ہر شعبے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ملک کی سیاست میں وہ حاشیے پر جا چکے ہیں۔ سیاسی نمائندگی میں اس وقت وہ سب سے نیچے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں وہ پہلے کے مقابلے پیچھے ہو گئے ہیں۔

ملک کے مسلمان اس وقت ایک طرح کے خوف کے احساس سے گزر رہے ہیں۔ لیکن کیا اس خوف اور بے بسی کا حل خاموشی ہے؟

مبصرین کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی یہ خاموشی ملک کے مستقبل کے لیے اچھی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بے بسی صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے۔ معاشرے کے کئی دوسرے طبقے بھی مشکلوں سے گزر رہے ہیں۔ لیکن حالات کا سامنا کرنے کے بجائے پیچھے ہٹنا اور آواز اٹھانے کے بجائے خاموش ہو جانا انڈین جمہوریت کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہوگا۔

کوئی بھی نظریہ، سیاست اور حکومت جو ملک کے تمام شہریوں کو برابری کی نظر سے نہ دیکھتی ہو وہ کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ منافرت اور تقریق پر مبنی نظام کسی ایک برادری کو نہیں، اجتماعی طور پر پورے ملک کو نقصان پہنچائے گا۔