انڈیا میں آزادی اظہار پر پابندیاں، صحافیوں کی زباں بندی

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption کشورچندرا وانگ کھم

ستائیس نومبر کی دوپہر کو سادہ کپڑوں میں ملبوس لگ بھگ آدھا درجن پولیس اہلکار دو گاڑیوں میں سوار ہوکر ملک کی شمال مشرقی پہاڑی ریاست منی پور میں کیبل نیوز چینل سے وابستہ ایک صحافی کے دو منزلہ گھر پر آئے۔ اس ریاست کی سرحدیں میانمار سے ملتی ہیں۔

پولیس والوں نے 39 برس کے کشور چندرا وانگکھم کو بتایا کہ شہر کے پولیس سربراہ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

مسٹر وانگ کھم کی بیوی رنجیتا ایلنگ بام کے مطابق پولیس والوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوگا، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

جب پولیس آئی تھی تو اس وقت مسٹر وانگ کھم اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ہمراہ کھانے کے لیے تیار ہورہے تھے۔ ان کی ایک بیٹی پانچ جبکہ دوسری ایک برس کی ہے۔ انہوں نے پولیس والوں سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے وکیل کو فون کریں۔ انہوں نے فون کرنے سے منع کیا اور انہیں کہا کہ پانچ منٹ میں تیار ہوکر روانہ ہوں۔

ان کی بیوی اور بھائی بھی دوسری گاڑی میں ان کے پیچھے روانہ ہوئے۔ وہ پانچ گھنٹے تک پولیس سٹیشن میں انتظار کرتے رہے اور اس دوران وانگ کھم سے پوچھ گچھ جاری رہی۔ شام میں جب سردی ہونا شروع ہوئی تو رنجیتا گھر سے کچھ گرم کپڑے لانے چلی گئیں۔ جب وہ واپس آئیں تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے شوہر کو دارالحکومت امفال کے مضافات میں واقع انتہائی سکیورٹی والی جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔

رنجیتا نے بتایا، 'مجھے بہت حیرت ہورہی تھی۔ پولیس سٹیشن کے چیف انسپیکٹر نے پہلے ملنے سے انکار کردیا اور جب بعد میں ملا تو بتایا کہ میرے شہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے کچھ گرم کپڑے اور کمبل لے جائیں۔ ہمیں دوسرے دن کے اخبار سے معلوم ہوا کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔' مس ایلنگ بام پیشے سے آکیوپیشنل تھیراپسٹ ہیں۔

مسٹر وانگ کھم کا جرم کیا تھا؟

وہ یہ تھا کہ انہوں نے 19 نومبر کو اپنے فیس بک صفحے پر چار وڈیوز اور کچھ کمینٹ لگائے تھے جن میں ہندو قوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقامی حکومت پر تنقید کی گئی تھی اور چیف منسٹر کو وزیر اعظم نریندر مودی کا پٹھو قرار دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسٹر وانگ کھم کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں

پولیس انسپیکٹر کے بوبی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ انہوں نے فیس بک پر سرفنگ کے دوران یہ وڈیوز دیکھیں جو حکومت کے خلاف نفرت اور عدم اطمینان پھیلاتی ہیں یا پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے رپورٹ میں یہ بھی لکھا کہ مسٹر وانگ کھم نے غیر آئینی الفاظ استعمال کیے اور حکومت کو اپنے الفاظ میں درمیانی انگلی دکھائی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ مسٹر وانگ کھم کو اپنی فیس بک پوسٹس کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہو۔

انہیں اگست کے مہینے میں بھی گرفتار کرکے چار دن تک جیل میں بند کردیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے بی جے پی کو 'بدھو جوکر پارٹی' کہہ کر اس کا مذاق اڑایا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ پوسٹس اشتعال انگیز ہیں۔

مسٹر وانگ کھم کو، 19 نومبر کی پوسٹس کے بعد، 20 نومبر کو دوبارہ اٹھایا گیا۔ چھ دن پولیس کی حراست کے بعد ان کو ایک میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا لیکن عدالت نے پولیس کے مقدمے کو مسترد کردیا اور یہ کہہ کہ انہیں رہا کردیا کہ ان کے تبصرے ایک حکومت کے طریقہ کار سے متعلق ان کی رائے ہے جو محض بازاری زبان میں دی گئی ہے۔

عدالتی حکم سے مایوسی کے بعد، دوسرے ہی دن پولیس نے مسٹر وانگ کھم کو دوبارہ گرفتار کرلیا اور اس مرتبہ ان پر 38 برس پرانے ایک نام نہاد قومی سلامتی کے سخت قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس قانون کو متعدد حکومتیں آزادی اظہار اور مخالفت کو صلب کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو قومی سلامتی کو خطرے کے پیش نظر ایک برس تک کوئی الزام عائد کیے یا مقدمہ چلائے بغیر قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ تو واضع نہیں کہ مسٹر وانگ کھم کی پوسٹس کس طرح قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں جبکہ ان کی وجہ سے کوئی حالات خراب نہیں ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption منی پور چار دہائیوں سے تشدد کی لپیٹ میں ہے

یہ حقیقت ہے کہ منی پور گزشتہ چار دہائیوں سے مسلح تشدد کا شکار ہے اور قبایلی انڈیا سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مسٹر وانگ کھم کے لیے جج پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ان کے خیالات امن کو خراب کرنے کی کوشش نہیں ہیں۔

یہ سخت قوانین حکومتیں اپنے مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتی رہیں ہیں۔

شمالی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت نے اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے ایک سو ساٹھ مسلمانوں کو گزشتہ برس گرفتار کیا۔ اس قانون کے نقاد کہتے ہیں کہ یہ امتیازی قانون ہے اور انسانی حقثق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

مسٹر وانگ کھم انڈیا میں حراساں کیے جانے والا تازہ ترین صحافی ہے۔ اس سے قبل دہلی میں مقیم کلم نگار اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ابھیجیت آئیر مترا کو طنزیہ ٹویٹس چھاپنے کی پاداش میں 44 دن تک قید کردیا گیا تھا۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈزر کی صحافتی آزادی کی عالمی فہرست میں انڈیا کا نمبر 138واں ہے۔

مسٹر وانگ کھم کے وکیل کے مطابق یہ سب کچھ سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال اور آزادی اظہار پر حملے کے سوا کچھ نہیں۔

اسی بارے میں