تسکینِ قلب کے لیے صوفی درگاہوں کا رخ کرتی کشمیر کی دکھی مائیں

ڈل جھیل کے کنارے واقع حضرت بل درگاہ پر لوگوں کی بھیر تصویر کے کاپی رائٹ Azan Shah

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جوں جوں تشدد میں شدت آ رہی ہے لوگ تسکین قلب کے لیے علاقے کی مشہور صوفی درگاہوں کا رخ کر رہے ہیں۔

سمیر یاسر نے اذان شاہ فوٹوگرافر سے بات کی جو عقیدت مندوں کے درد و اضطراب کا مرقع تیار کر رہے ہیں۔

بختی بیگم دریائے جیہلم پر موجود صوفی درگاہ خانقاہ مولا کی مستقل زیارت کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ یہ دریا سرینگر شہر کے قلب سے گزرتا ہے۔

ایک خستہ حال پلاسٹک کے بستے میں اپنے گمشدہ بیٹے کی تصویر کے ساتھ وہ چپ چاپ وہاں آتی ہیں۔ وہ اس تصویر کو درگاہ کے مقدس مقام کی جانب جانے والے زینوں پر رکھ دیتی ہیں اور اس کے ملنے کے لیے دعاگو ہو جاتی ہیں۔

'اے میرے پیر، میری سن لے۔ میں ٹوٹ چکی ہوں، میرے پیر۔' وہ 75 سالہ خاتون دعا میں ہاتھ اٹھا کر رونے لگتی ہے۔ اس کا بیٹا احمد وانی جب سنہ 2001 میں غائب ہوا تو اس وقت وہ 25 سال کا تھا۔ وہ اپنی شادی کے چند دنوں بعد سے ہی لاپتہ ہے۔

بختی بیگم تصویر کے کاپی رائٹ Azan Shah

بختی بیگم اپنے گھر سے درگاہ آنے کے لیے 80 کلو میٹر کا سفر کرتی ہیں لیکن اب تک ان کی دعا قبول نہیں ہوئی ہے۔

وہ پرنم آنکھوں سے کہتی ہیں: 'میرے پیر، میں بہت دور سے آئی ہوں۔ مجھے میرا منظور دے دیجیے۔ میں 17 سال بعد چین کی نیند سو سکوں گی۔'

بختی بيگم فوٹوگرافر اذان شاہ کے بہت سے کرداروں میں سے ایک ہیں جن کی روداد وہ یکجا کر رہے ہیں۔

اذان شاہ اس وقت سرخیوں میں آئے جب دہائیوں سے جاری کشیدگی پر مبنی ان کی لی ہوئی تصاویر دوسرے فوٹوگرافروں کی تصاویر کے ساتھ 'وٹنس' نامی ایک کتاب میں شائع ہوئی۔

خیال رہے کہ نیویارک ٹائمز نے اس کتاب کو سنہ 2017 کی دنیا کی دس بہترین تصاویری کتابوں میں شامل کیا ہے۔

سرینگر کی جامع مسجد میں ایک خاتون تصویر کے کاپی رائٹ Azan Shah

علیحدگی پسندوں نے مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں ہندوستانی حکومت کے خلاف سنہ 1989 سے پرتشدد مہم چھیڑ رکھی ہے اور یہ علاقہ انڈیا اور پاکستان کے درمیاں تلخی کا سبب بنا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس کے لیے اب تک تین بار جنگ ہو چکی ہے۔ انڈیا کشمیر میں شورش کا الزام پاکستان پر لگاتا رہا ہے جس کی پاکستان تردید کرتا رہا ہے۔

جو بغاوت سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئی تھی اس میں سنہ 2016 میں عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شدت آ گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ سنہ 1980 کی دہائی کے اواخر سے شروع ہونے والی اس پرتشد مہم میں اب تک تقریبا ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بہت سے عام شہری بھی ہیں۔ اسی سبب گلیوں محلوں میں خوف کا ماحول ہے اور لوگ سورج ڈھلنے کے بعد گھروں سے نکلنے سے کتراتے ہیں۔

بہت سے لوگ جنگ سے ملنے والے اپنے زخموں کے مداوا کے لیے صوفی درگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ صرف سرینگر سے نہیں آتے ہیں بلکہ علاقے کے دور دراز حصوں سے بھی آتے ہیں۔

سرینگر کی جامع مسجد میں ایک خاتون تصویر کے کاپی رائٹ Azan Shah

بختی بيگم کی طرح ہزاروں کشمیریوں بطور خاص خواتین کے لیے یہ صوفی درگاہیں امید کا مقام رہی ہیں۔ نفسیاتی امراض کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان میں سے بہت سی خواتین ڈپریشن، ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہیں۔

معروفہ رمضان ان میں سے ایک ہیں۔ وہ ہر ہفتے ایک ماہر نفسیات سے سرینگر کے شری مہاراج ہری ہسپتال میں ملتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان کے بیٹے کی موت کے بعد ان کی ذہنی حالت بگڑی ہے۔ اندھیرے میں انھیں اپنے بیٹے ابیر احمد کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ان کے بیٹے کو ایک مظاہرے کے دوران فوج نے گولی مارکر ہلاک کر دیا تھا۔

ڈاکٹر سے ملنے کے بعد معروفہ رمضان بس سے دستگیر صاحب کی 200 سالہ قدیم درگاہ کا رخ کرتی ہیں۔

وہ درگاہ کے صوفی سے سوال کرتی ہیں: 'وہ زندہ ہے، ہے ناں؟' پھر تھوڑی دیر بعد وہ آہستہ آہستہ دروازے کی جانب چلی آتی ہے جہاں سے بس لے کر وہ اپنے گھر واپس جاتی ہے۔

سنہ 2016 میں میڈیسنس سان فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے ایک سروے کیا جس میں انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تقریبا 18 لاکھ افراد یعنی آبادی کے 45 فیصد لوگوں کو اسی کیفیت سے دوچار پایا۔

سرینگر کی درگاہ پر ایک خاتون تصویر کے کاپی رائٹ Azan Shah

اذان شاہ درگاہ پر زائرین کی تصاویر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی اپنی ہی درد بھری کہانی ہے جو کہ کشمیر میں تشدد کا نتیجہ ہے اور جسے دانستہ طور پر دھندھلا، ناقابل اعتبار یا ایک طرف جھکا ہوا بنا دیا گیا ہے تاکہ ایک قسم کی افراتفری اور بے یقینی کی صورت حال کی عکاسی کی جاسکے۔

مسٹر شاہ کا کہنا ہے کہ وہ عقیدت مندوں کی غیر متزلزل عیقدت کی تصویر اتارتے ہیں جو بڑی تعداد میں ان درگاہوں پر آتے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'میں ایک جھکے ہوئے زاویے سے تصویر لیتا ہوں جو کہ نفسیاتی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ چیزیں اچھی حالت میں نہیں نظر آتی ہیں، غیر مربوط اور معمول سے پرے۔' وہ کہتے ہیں کہ وہ اس حقیقت کو آشکار کرنا چاہتے ہیں کہ 'آپ لوگوں کے جذبات کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔'

ڈل جھیل کے کنارے واقع حضرت بل درگاہ پر خواتین دعاؤں میں مشغول تصویر کے کاپی رائٹ Azan Shah

یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی میں اسلامیات کے پروفیسر شوکت حسین کہتے ہیں کہ 'لوگ ان درگاہوں میں اپنے اور خدا کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ تلاش کرتے ہیں۔'

اس علاقے کے ایک بڑے ماہر نفسیات ارشد حسین کہتے ہیں کہ کشمیر میں یہ مقدس مقامات دکھوں کو کم کرنے کے مقامات ہیں۔'یہ اس وقت سے ہیں جب لوگوں کے دکھوں کے مداوا کے لیے کوئی ادارہ یا طریقہ کار نہیں تھا۔ اس کے بعد یہ ان کی تہذیب کا حصہ بن گیا۔ لوگ بیماریوں اور گھریلو الجھنوں سے نجات کی دعا کے ساتھ یہاں آتے ہیں۔'

'حالیہ صورت حال میں، کسی تصادم کے بعد بہت سی غمزہ خواتین مجھ سے ملنے کے بعد ان درگاہوں پر آتی ہیں۔ وہ اپنے دکھ اور تکلیف کو کسی فرد سے بیان کرنے کے بجائے ان مقامات پر بیان کرکے زیادہ بہتر محسوس کرتی ہیں۔'

تمام تصاویر اذان شاہ کی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں