بنگلہ دیش کے انتخابات میں حسینہ واجد فاتح، مگر حزب اختلاف کا نتائج تسلیم کرنے سے انکار

شیخ حسینہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیش نے شیخ حسینہ واجد کو فاتح قرار دے دیا ہے تاہم حزب اختلاف نے انتخابات کو 'مضحکہ خیز' قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور ساتھ ہی نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کی جماعت نے اب تک آنے والے نتائج کے مطابق 350 نشستوں کے ایوان میں سے 281 نشستیں جیت لی ہیں، جب کہ حزبِ اختلاف کے حصے میں صرف سات نشستیں آئی ہیں۔

تاہم بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے دیکھا کہ ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی بیلٹ بکس بھر کر پولنگ سٹیشنوں میں لائے جا رہے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے رہنما کمال حسین نے کہا: 'ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان مضحکہ خیز نتائج کو فوری طور پر کالعدم قرار دے۔

'ہم ایک غیر جانب دار حکومت کے زیرِ اہتمام نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔'

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس نے ملک بھر سے دھاندلی کے الزامات سنے ہیں اور وہ ان کی تحقیقات کرے گا۔

تشدد کے واقعات

پولنگ کے دوران پر تشدد واقعات میں آخری اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی ہے جبکہ ان واقعات میں کئی درجن پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے ایک مرکزی امیدوار کو چاقوؤں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا تھا۔

روائٹرز نے پولیس حکام سے بات کر کے خبر دی کہ حزب اختلاف کے امیداور صلاح الدین احمد پر حملے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

روائٹرز نے اپنے نامہ نگاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ان انتخابات میں پولنگ کا تناسب کم رہنے کا امکان ہے۔ تجزیہ کارروں کے مطابق ان انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں۔

انتخابات کے دوران تشدد کے خدشات کے پیش نظر ملک گیر پیمانے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور تقریباً چھ لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے طول و عرض میں تعینات کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی خدشات کے باعث ملک بھر میں بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے

انتخابات میں تقریباً دس کروڑ لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

ان انتخابات میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے جیتنے کے امکانات روشن ہیں کیونکہ ان کی اہم مخالف بیگم خالدہ ضیا بدعنوانی کے الزامات میں جیل میں ہیں۔

ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ ووٹنگ کے اختتام تک ہائی سپیڈ موبائل اور انٹرنیٹ مواصلات کو بند کر دیا گیا تھا تاکہ افواہوں اور پروپگینڈا کے نتیجے میں کوئی بدامنی نہ پیدا ہو سکے۔

ووٹنگ سے قبل بھرا بیلٹ باکس

ووٹنگ سے تھوڑی دیر قبل بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے چٹاگانگ (لکھن بازار، چٹاگانگ، حلقہ 10) میں ایک بیلٹ باکس کو ووٹوں سے بھرا ہوا پایا۔

جب اس بوتھ کے پریزائڈنگ آفیسر سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔

ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے اس پولنگ سٹیشن پر صرف سرکاری پارٹی کے نمائندے تھے اور یہی حال کئی دوسرے پولنگ سٹیشنوں کا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو طالبعلموں کے ایک بس سے کچل جانے کے بعد کئی روز تک نوجوان مظاہرہ کرتے رہے

یہ انتخابات اہم کیوں ہیں؟

بنگلہ دیش 16 کروڑ آبادی والا مسلم اکثریتی ملک ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سے لے کر غربت و افلاس اور بدعنوانی کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔

جولائی سنہ 2016 میں دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک بڑی بیکری پر دولت اسلامیہ کی جانب سے کیے جانے والے دھماکے کے بعد سے حکومت نے اسلام پسند عسکریت کے خلاف انتہائی سختی کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ ملک حال میں پڑوسی ملک میانمار کے لاکھوں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے سبب سرخیوں میں رہا ہے۔ حکومت کی بین الاقوامی سطح پر ان لوگوں کو ملک میں پناہ دینے کے قدم کی تعریف کی گئی ہے لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے اس کی سخت تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ لگاتار تیسری بار وزارت عظمی کے عہدے کی دعویدار ہیں

یہ انتخابات دسیوں ہزار نوجوانوں کے مظاہرے کے بعد ہو رہے ہیں جس میں انھوں نے سڑک پر ہونے والی اموات کے خلاف احتجاج کیے تھے۔ یہ بنگلہ دیش کے نوجوانوں کی جانب سے ‏غصے کے اظہار کا غیر معمولی اقدام تھا جسے حکام اور حکومت نواز گروپوں نے سختی سے دبا دیا تھا۔

ایک 17 سالہ لڑکے نے اگست میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: 'ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ بدعنوانی ختم ہو اور بتاشے کی طرح لائسینس دینا بند ہو۔'

پر تشدد واقعات کے ساتھ انتخابی مہم کا آغاز ہوا اور حکومت نے اپنے مخالفین کی آواز دبانے کے لیے ان پر کریک ڈاؤن کیا۔ اس حکومت کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ گذشتہ دس برسوں میں مزید آمریت پسند اور استبدادی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خالدہ ضیا کو دو مقدمات میں 17 سال کی قید سنائی گئی ہے ابھی وہ جیل میں ہیں اور ان کے انتخابات لڑنے پر پابندی ہے

دعویدار کون کون ہیں؟

شیخ حسینہ عوامی لیگ کی سربراہ ہیں اور اس پارٹی کا سنہ 2009 سے ملک میں اقتدار جاری ہے۔ وہ تیسری بار عہدے کے لیے انتخابات لڑ رہی ہیں۔

ان کے والد شیخ مجیب الرحمان جو ملک کے پہلے صدر تھے انھیں آزاد بنگلہ دیش کا بانی کہا جاتا ہے۔ انھیں سنہ 1975 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

خالدہ ضیا کی نیشنل پارٹی (بی این پی) نے سنہ 2014 میں گذشتہ عام انتخابات کا بائيکاٹ کیا تھا کیونکہ عوامی لیگ نے ایک نگراں حکومت کے زیر انتظام انتخابات کرانے سے انکار کر دیا تھا۔

اب بہت سے تجزیہ نگار اس فیصلے پر سوال کرتے ہیں کہ آیا وہ ہوشمندانہ فیصلہ تھا! پارٹی سربراہ خالدہ ضیا کو رواں سال بدعنوانی کے الزامات میں جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی انتقام ہے۔

ان کے تازہ جرم کے تحت انھیں رواں انتخابات میں انتخاب لڑنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

خالدہ ضیا کی عدم موجودگی میں عوامی لیگ کے سابق وزیر اور شیخ حسینہ کے حلیف کمال حسین حزب اختلاف جاتیہ اویکیا فرنٹ کی رہنمائی کر رہے ہیں جس میں بی این پی بھی شامل ہے۔

بہر حال 81 سالہ وکیل جنھوں نے ملک کے آئین کی تشکیل کی ہے وہ ان انتخابات میں امیدوار نہیں ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حزب اختلاف کی جیت ہوتی ہے تو کون ان کا سربراہ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملک بھر میں چھ لاکھ سکیورٹی اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے

کیا انتخابات صاف شفاف ہوں گے؟

بہت سے سرگرم کارکنوں، مبصرین اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کا پولنگ سے قبل کہنا تھا کہ یہ انتخابات صاف شفاف نہیں ہوں گے۔

بی این پی کی قیادت والے حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات واقعی صاف شفاف ہوئے تو عوامی ليگ کو اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ووٹنگ سے قبل حکومت نے دھمکانے کی مہم کا سہارا لیا ہے۔

ادارے کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا: 'حزب اختلاف کے اہم ارکان اور حامیوں کو گرفتار کر لیا گیا، بعض کو قتل کیا گیا ہے جبکہ بعض لا پتہ بھی ہیں جس سے خوف اور گھٹن کا ماحول پیدا ہوا اور یہ کسی بھی قابل اعتبار انتخابات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔'

بی این پی کا کہنا ہے کہ ان کے ہزاروں ارکان اور رضاکاروں کے خلاف گذشتہ سال پولیس مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

حکومت نے حزب اختلاف کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

جمعے کو شیخ حسینہ نے بی بی سی کو بتایا: 'ایک جانب تو الزامات لگا رہے ہیں اور دوسی جانب وہ ہماری پارٹی کے ارکان اور رہنماؤں پر حملے کر رہے ہیں۔ یہی اس ملک کا المیہ ہے۔ انھیں عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک پولنگ سٹیشن پر انتخابات میں ووٹ کرتی ہوئی خواتین کی قطار

کیا عہد و پیمان کیے گئے ہیں؟

جاتیہ اویکیا فرنٹ یا قومی اتحاد فرنٹ نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ اظہار رائے آزادی اور میڈیا پر لگی پابندی کو ہٹا لیں گے۔

وہ حکومت کے احتساب کی بھی بات کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی پارلیمان چاہتے ہیں جس میں کسی پارٹی کی مدت پر حد قائم کی جاسکے۔

بی این پی کے ساتھ شامل پارٹی جماعت اسلامی کو انتخابات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ملی ہے لیکن ان کے 20 امیدوار بی این پی کے امیداوار کی حيثیت سے میدان میں ہیں۔

شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کا اتحاد 'جنگی مجرموں' کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

جبکہ ان کی پارٹی بنگلہ دیش کی مجموعی ملکی پیداوار کی ترقی کی شرح کو دس فیصد تک لانے اور آئندہ پانچ سالوں میں ڈیڑھ کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے پر انتخابات لڑ رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں