تازہ ترین تحقیق سے دائیں بازو کے ہندوؤں کے دعووں کی نفی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کی قدیم تاریخ پر گرما گرم بحث ہوتی رہی ہے

انڈین کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟

گزشتہ چند برسوں سے ان سوالوں پر بحث بہت گرم رہی ہے۔

دائیں بازو کے ہندو سمجھتے ہیں کہ انڈین تہذیب کا ماخد وہ لوگ تھے جو خود کو آریائی نسل کہتے تھے۔ یہ جنگجو خانہ بدوش قبیلہ تھا جو گھوڑوں پر سفر کرتا اور مال مویشی پالتا تھا اور جنہوں نے ہندو مذہب کی قدیم ترین کتابیں وید لکھیں تھیں۔

ان دائیں بازو کے ہندوؤں کے مطابق آریا نسل کا آغاز انڈیا سے ہوا اور پھر وہ ایشیا اور یورپ کے وسیع علاقوں میں پھیل گئے جہاں انہوں نے انڈو یورپی زبانوں کی بنیاد رکھنے میں مدد دی جو آج تک بولی جاتی ہیں.

انیسویں صدی کے متعدد یورپی لسانی اور نسلی ماہرین، اور نازی جرمنی کے لیڈر اڈولف ہٹلر کو یقین تھا کہ آریا اعلیٰ نسل ہے جس نے یورپ فتح کیا تھا۔ تاہم ہٹلر ان کی نسل کو نوردک نسل سے جوڑتا تھا۔

جب محققین آریا کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو ان کی مراد انسانوں کا وہ گروپ ہوتا ہے جو انڈو یورپی زبانیں بولتے ہیں اور خود کو آریی نسل کہتے ہیں۔ اور ہم نے بھی اسی تناظر میں اسے استعمال کیا ہے۔ اس سے مراد ایک مخصوص نسل نہیں ہے جیسے ہٹلر سمجھتا تھا یا جیسے بعض ہندوں دائیں بازو کے لوگ تصور کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہڑپہ اور وادی مہران کی تہذیب حالیہ شمال مغربی انڈیا اور پاکستان کے علاقوں میں ابھری

کئی انڈین محققین نے' انڈیا سے شروعات' کے نظریے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ یہ آریا لوگ یا انڈویورپی زبانیں بولنے والے، اُن قبل از تاریخ مہاجرین کے کئی سلسلوں میں سے ایک ہوسکتے ہیں جو پہلے موجود ایک تہذیب کی تباہی کے بعد انڈیا آئے ہوں گے۔ وہ پہلی تہذیب ہڑپہ یا وادی مہران کی تہذیب تھی۔ یہ تہذیب موجودہ شمال مغربی انڈیا اور پاکستان کے علاقوں میں اس وقت پروان چڑھ رہی تھی جب مصر اور میسوپوٹیمیا کی تہذیبیں اپنے عروج پر تھیں۔

تاہم دائیں بازو کے ہندو سمجھتے ہیں کہ ہڑپہ کی تہذیب بھی آریا یا ویدوں کی تہذیب تھی۔

ان دونوں نقطہ نظر رکھنے والے گروہوں کے درمیان کشیدگی گزشتہ چند برسوں میں بڑہی ہے، خاص طور پر جب سے ہندو قومپرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی 2014 میں اقتدار میں آئی ہے۔

اور اس تنازع کے بیچ انسانی آبادیوں کی جینیات کا نیا علم سامنے آیا ہے جو قدیم ترین ڈی این اے کا استعمال کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کن لوگوں نے کب اور کہاں ہجرت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کی ریاست گجرات کے دھولاویرا علاقے میں ہڑپہ تہذیب کا ایک مرکز

قدیم ڈی این اے کے استعمال کی وجہ سے قبل از تاریخ زمانے کی دنیا بھر کی تاریخ گویا دوبارہ لکھی جارہی ہے اور انڈیا سے متعلق بھی نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے جینیاتدان ڈیوڈ ریخ کی قیادت میں اس موضوع پر تازہ ترین تحقیق مارچ 2018 میں شایع ہوئی، جس میں ان کو پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے 92 محققین کا تعاون حاصل رہا اور یہ ماہرین جینیات، تاریخ، آرکیالوجی اور انتھراپولوجی کے بڑے نام ہیں۔

اس اسٹڈی کا نام 'دی جینومک فارمیشن آف ساوتھ اینڈ سینٹرل ایشیا ہے اور اس میں بڑے چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔

اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس ہزار برس میں انڈیا کی جانب دو بڑی ہجرتیں ہوئی ہیں۔ پہلی جنوب مغربی ایران کے زگروز علاقے سے ہوئی، جو کہ بکریاں پالنے والا سب سے اولین خطہ کہا جاتا ہے۔ اس ہجرت سے زراعت کرنے اور مال مویشی پالنے والے لوگ انڈیا آئے۔

یہ ہجرت سات ہزار سے تین ہزار برس قبل مسیح میں ہوسکتی ہے۔ یہ لوگ جنوبی ایشیا کے پہلے سے آباد لوگوں میں مل گئے۔ اس سے قبل جو لوگ آباد تھے وہ افریقہ سے 65 ہزار برس قبل انڈیا آئے تھے اور انہوں نے مل کر ہڑپہ کی تہذیب کو جنم دیا۔

دو ہزار قبل مسیح کے بعد کی صدی میں انڈیا کی جانب دوسری ہجرت ہوئی جو کہ آریا لوگوں کی تھی اور یہ غالباً یوریشیائی خطے یعنی قازقستان سے ہوئی۔ ہوسکتا ہے یہ لوگ اپنے ساتھ سنسکرت زبان کی ابتدائی شکل کے ساتھ گھوڑے پالنے اور دیگر ہنر اور ثقافتی روایات لائے ہوں جیسا کہ جانوروں کی قربانی وغیرہ، جنہوں نے ہندو مت کی ابتدائی شکل کی بنیاد رکھی۔

دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انڈیا کی جانب اور بھی کئی ہجرتیں ہوئی ہیں، مثال کے طور پر جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں کی جو اسٹرو ایشیاٹک زبانیں بولتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption واراناسی، انڈیا میں نوجوان ہندو تربیت کے دوران

دائیں بازوں کے کئی ہندوؤں کے لیے یہ انکشافات قبل قبول نہیں۔ وہ سکولوں کی تدریسی کتابیں تبدیل کرانے کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں تاکہ ان میں سے آریا لوگوں کی ہجرت کی باتوں کو نکالا جاسکے۔

ہندو قومپرست اگر یہ مان لیتے ہیں کہ آریا انڈیا کے ابتدائی باسی نہیں تھے اور یہ کہ ہڑپہ یا وادی مہران کی تہذیب ان سے بہت پہلے سے یہاں موجود تھی اور تو یہ ان کے لیے گھاٹے کا سودہ ہوگا۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آریائی یا ان کے ویدوں کی ثقافت انڈیا کی تہذیب کا بنیادی اور واحد منبع نہیں تھی اور یہ کہ اس کی قدیمی بنیاد کہیں اور تھی۔

ہندو قومپرستوں کے لیے آبادی کے محتلف گروپوں کے مل جانے کا خیال بھی پسندیدہ نہیں ہے کیونکہ وہ نسلی پاکیزگی کو بنیادی درجہ دیتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر آریاؤں کی ہجرت کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر آریاؤں کے بعد میں آنے والے مسلمان فاتحین، جیسا کے مغل وغیرہ، بھی ایک ہی سطح پر آجاتے ہیں۔ دونوں ہی ہجرت کرکے انڈیا آئے۔

اس نئی تحقیق نے پرانی بحثوں کو اب ختم کرانے کی سعی کی ہے، لیکن یہ ہندو دائیں بازو کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ سٹڈی کے شریک مصنف پروفیسر ریخ پر حملہ کرتے ہوئے انڈیا کی حکمراں جماعت کے رکن پارلیمان اور ہارورڈ کے سابق پروفیسر سبرامنیم سوامی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہاروڈ کی تھرڈ ریخ اینڈ کمپنی کی تحقیق میں جھوٹ ہے ۔۔ جھوٹ اور اعداد و شمار۔

تاہم اس تحقیق کا اصل پیغام بہت امید افزا ہے۔ یعنی یہ کہ انڈیا کی تہذیب مختلف نسلوں اور تاریخوں سے مل کر بنی ہے

ٹونی جوزف کتاب 'دی ارلی انڈینز: دا سٹوری آف اور اینسیسٹرز اینڈ وی کیم فرام' کے مصنف ہیں جو انڈیا میں جگرناٹ نے شایع کی ہے۔

اسی بارے میں