چینی صدر شی جن پنگ: پیپلز لبریشن آرمی کو جنگ کی صورت حال کے لیے تیار رہنا ہوگا

چینی فوج تصویر کے کاپی رائٹ EPA

چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین بحران کے دور سے گزر رہا ہے اور پیپلز لبریشن آرمی یعنی پی ایل اے کو جنگ کی صورت حال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

جمعہ کو سینٹرل ملیٹری کمیشن کے بیجنگ میں منعقدہ اجلاس میں کمیشن کے چیئرمین شی جنپنگ نے اعلیٰ اہلکاروں کو متنبہ کیا کہ ملک میں کئی طرح کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

’دا گلوبل ٹائمز‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں شی جن پنگ نے کہا کہ ’دنیا بھر میں ایسی تبدیلیاں آ رہی ہیں جو گذشتہ ایک صدی میں نہیں آئی تھیں۔ اور چین اب اس صورت حال میں ہے جس میں اس کے لیے ترقی اور سفارتی مواقع بہت اہم ہیں۔‘

اخبار کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوجیوں کی تربیت کے لیے ضروری اعلان پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’اسلامائزیشن‘ سے چین متفکر

ڈونلڈ ٹرمپ چین پر برس پڑے، ٹوئٹر کے ذریعے تنقید

’امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں فریق نہیں‘

چین کے ایک اور اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ ’سبھی فوجی دستوں کو صحیح معنی میں قومی سلامتی کے موضوع اور ترقی کی رفتار کو سمجھنا ہوگا اور ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

جنگ کی تیاری کی کیا وجہ ہے؟

’دا گلوبل ٹائمز‘ نے سکیورٹی معاملات کے ماہر سونگ جونگپنگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس حکم میں کہا گیا ہے کہ ’پیپلز لبریشن آرمی کے سبھی دستوں کی چین کی قیادت کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر تھیانمین چوک میں پریڈ ہوگی جس میں پیپلز لبریشن آرمی کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس موقعے پر ایسی فوج کی جھلک دیکھنے کو ملے گی جو جنگ جیتنے کی قابلیت رکھتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین بحیرۂ جنوبی چین میں اپنی موجودگی ہی نہیں بلکہ کنٹرول بھی بڑھانا چاہتا ہے۔ اس کے امریکہ کے ساتھ تجارت کے مسائل اور تائیوان کے ساتھ رشتے بھی کشیدگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔

چین اور امریکہ دنیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں اور دنیا بھر کے بازار پر کنٹرول رکھنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ہاں سے ہونے والی درآمدات پر مزید ٹیکس لگا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک دسمبر کو ہونے والے جی20 ممالک کے اجلاس میں شی ژن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ

شی جن پنگ نے اجلاس میں کہا کہ ’ایمرجنسی کی صورت حال میں فوج کو فوری طور پر حرکت میں آنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا۔ ہمیں مشترکہ آپریشنز کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا اور جنگ کے نئے طریقوں پر پورا اترنا ہوگا۔‘

یہ بھی پڑھیے

جنوبی بحیرۂ چین پر امریکہ کا چین کو انتباہ

شی جن پنگ: ’تائیوان چین میں ضم ہو کر رہے گا‘

’ون چائنا پالیسی کو چیلنج کیا تو آبنائے تائیوان میں امن متاثر ہو گا‘

تاہم سکیورٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ صدر شی جنپنگ نے یہ بیان فوج کی حوصلہ افزائی اور دنیا کو اپنی طاقت کا احساس کرانے کے لیے دیا ہے۔

بحیرۂ جنوبی چین میں کشیدگی

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایشیا ری ایشورینس انیشیٹیو ایکٹ‘ کو منظور کر کے اسے قانونی جامہ پہنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption چینی صدر شی ژن پنگ

گذشتہ دنوں شی جن پنگ نے کہا تھا کہ تائیوان چین کا ہی حصہ ہے اور اسے چین میں ضم ہوکر ہی رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے یقینی بنانے کے لیے چین کے پاس طاقت کے استعمال کا اختیار بھی ہے۔

تائیوان کے ساتھ تعلقات بحال ہونے کے 40 برس مکمل ہونے کے موقعے پر کی جانے والی تقریر میں انھوں نے اس بات کو دوہرایا تھا کہ چین ’ایک ملک دو نظام‘ والے طریقہ کار کے تحط پر امن طریقے سے تائیوان کو چین میں ضم کرنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل چین میں متعدد ہائی پروفائل امریکی شہریوں کی گرفتاری کے بعد امریکہ کی وزارت خارجہ نے چین جانے والے اپنے شہریوں سے مزید چوکنا رہنے کے لیے کہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

چین کا سفر کرنے والوں سے کہا گیا تھا کہ سفری پابندیوں کو زبردستی عائد کر کے لوگوں کو زبردستی ملک میں رکھا جا رہا ہے۔

شی جنپنگ سنہ 2012 میں چین کے صدر اور سینٹرل ملیٹری کمیشن کے چیئرمین بنے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک انھوں نے مسلسل اپنی توجہ چینی فوج کو مزید مضبوط کرنے پر مرکوز رکھی ہے۔

خیال رہے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے چین بین الاقوامی سیاست میں مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وہ چین کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں