انڈیا کے ماڈرن کباڑیے: جو کچرے سے پیسے کمانے کا ہنر جانتے ہیں

کباڑیا تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL

حال ہی میں ایک اتوار کی شام کچرے کے انبار سے گِھرے گووند کہتے ہیں کہ ان کے لیے 'چھٹیوں کا دن مصروف ترین دن ہوتا ہے۔'

34 سالہ گووند اور ان کے بھائی دہلی سے ملحق گُڑگاؤں میں دھول سے اٹی شیشے اور کنکریٹ کی عمارتوں کے پاس واقع ایک کباڑ خانے کے مالک ہیں۔

ان کی بائیں طرف کاغذ سے بھری بوری پڑی ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کا چہرہ اخباروں کے ڈھیر میں سے جھانک رہا ہے جبکہ 'کارپوریٹ فنانس کے اصول' کی ضخیم کتاب زمین پر پڑی ہے۔ اس کے علاوہ کانچ، پلاسٹک اور دھاتوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ایک نظر دوڑانے پر لکاسٹے پرفیوم کی خالی شیشی، کوکا کولا کی پلاسٹک کی پانی کی بوتلیں، بھورے رنگ کا ایک بکس اور کئی سائیکلیں نظر آتی ہیں۔

'شیو سکریپ ڈیلرز' کے مالک گووند اور ان کے بھائی جوگیندر اپنے کام میں ماہر ہیں۔ دس سال سے زائد عرصے سے وہ اور ان کے بھائی کچرے میں سے ہر اس چیز کو نکال لیتے ہیں جسے لوگ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔

سکریپ اکٹھا کرنے کا پہلے پہل کام شروع کرنے والے 48 سالہ جوگیندر کا کہنا ہے کہ 'اتنے سالوں میں کچرا بدل گیا ہے۔ ہر چیز کا وزن کم ہو گیا ہے اور اب پہلے سے زیادہ پلاسٹک استعمال ہونے لگی ہے۔ تانبے کی جگہ چاندی کی وائرنگ نے لے لی ہے جو کہ زیادہ قیمتی ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ پہلے وہ ہر مہینے اوسط 50 ہزار روپے کما لیا کرتے تھے مگر گزشتہ چند سالوں میں ان کا منافع تقریباً آدھا ہو گیا ہے۔

کباڑخانے کی ایک دیوار اپارٹمنٹس سے لگتی ہے جبکہ دوسری طرف سایہ دار درخت لگے ہوئے ہیں۔ گتے اور کاغد کو محفوظ رکھنے کے لیے چھت کی جگہ دھات کا سلوٹ دار چھپر ہے۔ باقی تمام چیزیں کھلے آسمان تلے پڑی ہیں۔

دونوں بھائی کباڑخانے میں کافی زیادہ وقت گزارتے ہیں اس لیے انھوں نے کونے میں چائے بنانے کے لیے ایک عدد چولہا اور رات گزارنے کے لیے بستر کا انتظام کر رکھا ہے۔

جوگیندر کا کہنا ہے کہ سکریپ کی حفاظت کرنے کے لیے انھیں باریاں لگانی پڑتی ہیں۔ انھوں نے فخر سے بتایا کہ لوگوں کی زندگیوں کی بچی کھچی ان چیزوں کی مالیت ہزاروں ڈالر ہے۔

کباڑیے ملک کی بڑھتی ہوئی غیر سرکاری ری سائیکلنگ انڈسٹری کے لیے دل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ویسٹ وینچر نامی کچرا تلف کرنے والی کمپنی کے بانی روشن میرانڈا کا کہنا ہے کہ انڈیا کے زیادہ تر شہروں میں گھروں سے کچرا اکٹھا کرنے یا کچرے کی چھانٹی کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام کباڑ ہزاروں ڈالر کی مالیت کے ہیں

لیکن سستے الیکٹرانک آلات، باورچی خانوں میں پروسیسڈ خوراک اور فون میں ہوم ڈیلیوری ایپس کے آنے سے ہندوستانی عوام پہلے سے کہیں زیادہ کچرا پیدا کر رہی ہے۔

ہندوستانی معاشرے میں کفایت شعاری اور جگاڑ جیسی روایات نے خلافِ قاعدہ کباڑیوں کے وسیع نیٹ ورک کو جنم دیا ہے۔ حکومت کے لگائے گئے اندازے کے مطابق بھارت تقریباً سوا چھ کروڑ ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن اس کچرے کو چننے، چھانٹنے اور بیچنے والوں سے متعلق کوئی واضح ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

کباڑی کئی دہائیوں سے اپنے رکشوں میں بیٹھ کر علاقے کے چکر لگاتے رہے ہیں لیکن گووند جدید دور کے کباڑیے ہیں۔ وہ کمر پر بستہ لٹکاتے ہیں اور سفید گاڑی چلاتے ہیں۔ گووند اپنے رجسٹرڈ کاروبار کا ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔

ان کا قد دراز ہے اور وہ بظاہر کمزور نظر آتے ہیں۔ ان کے بات کرنے کے انداز سے ان کی تھکان واضح ہوتی ہے۔ انھوں نے سکول سے تعلیم حاصل کی ہے مگر کبھی کالج نہیں گئے۔ وہ اپنی بیوی، دس سالہ اور 13 سالہ بیٹوں کے ساتھ 15 کلومیٹر دور ایک علاقے میں رہتے ہیں۔

وہ نیشنل ہائی وے کے پار پرنسٹن، کارلٹن اور ویلینگٹن اسٹیٹ میں واقع اپارٹمنٹس کا چکر لگا کر واپس آئے ہیں۔ ان کا یہی معمول ہے۔ گووند ہر ہفتے اور اتوار کو صبح نو بجے 12 کلومیٹر میں پھیلے سیکڑوں گھروں میں گھنٹیاں بجا کر آٹھ گھنٹے تک ری سائیکلنگ کی چیزیں اکٹھی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption گووند ایک سفید وین میں کباڑ اکٹھا کرتے ہیں

ایک ہی چکر میں انھیں ہفتے بھر کا کچرا مل جاتا ہے جو کتابوں اور کاغذ کے ڈھیروں، ایمیزون اور دیگر دکانوں سے خریدی گئی چیزوں کے پلاسٹک سے بھرے گتے کے ڈبوں، تاروں کے گچھوں اور ہر ناپ اور شکل کی دھاتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ ان چیزوں کو تول کر واجب رقم ادا کرتے ہیں۔

گووند کا کہنا ہے 'بھارت میں ہمیں ہر چیز خرید کر ری سائیکل کرنی پڑتی ہے۔ دوسرے ممالک میں لوگ کباڑیوں کو پیسے دیتے ہیں تاکہ وہ آئیں اور ری سائیکل ہونے والی چیزیں لے جائیں۔'

وہ کہتے ہیں: 'ہمیں بہت کم پلاسٹک ملتا ہے کیونکہ زیادہ تر چیزیں کچرے میں چلی جاتی ہیں۔ ہمیں جو پلاسٹک ملتا ہے وہ بالکل صاف ہوتا ہے۔'

انڈیا میں دو قسم کے کباڑیے ہوتے ہیں: `گووند جیسے صاف کبا،یے جو پہلے سے چھانٹا ہوا کچرا اکٹھا کرتے ہیں اور دوسرے وہ کباڑیے جو کچرا دانوں اور لینڈ فِل سے ری سائیکل کرنے کے لیے چیزیں اکٹھی کرتے ہیں۔

کباڑیوں کے ساتھ مل کر ری سائیکلنگ کے لیے کچرا علیحدہ کرنے والی کمپنی کے مالک میرانڈا کا کہنا ہے 'گھر گھر جا کر کچرا اکٹھا کرنے والے کباڑیے خود کو لینڈ فِل سے کچرا چننے والوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔' چونکہ اس کام کو غلیظ سمجھا جاتا ہے اس لیے انڈیا میں زیادہ تر کباڑیوں کا تعلق نچلی ذات سے ہوتا ہے۔

گووند ایک برہمن ہیں۔ یہ ہندو مذہب کی سب سے اونچی ذات ہے جس نے تاریخی طور پر خود کو ادنیٰ ملازمتوں سے دور رکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے پیشے پر شرمندگی نہیں ہوتی مگر وہ نہیں چاہتے کہ ان کے چہرے کی تصویر اتاری جائے۔ ہفتے کے باقی دن وہ سکول بس چلاتے ہیں۔ انھیں فکر ہے کہ اگر بچوں کے والدین کو ان کے کباڑیے ہونے کا پتا چلا تووہ لوگ تیوری چڑھائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL

کباڑخانے میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ گردونواح میں رہنے والے لوگ اور ردی فروش اپنی چیزیں بیچنے کے لیے اسی کباڑخانے کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تو ردی کی شکل میں موصول ہوئے برتن اور فرنیچر بھی خریدنے کے لیے آتے ہیں۔

جوگیندر کہتے ہیں 'دراصل یہ ایک دکان ہے جس میں کسی بھی وقت کوئی بھی شخص آ سکتا ہے۔ دکان میں آنے والا ہر بندہ ہمارا گاہک ہے۔'

خریدوفروخت کے بعد کچرے کی چھانٹی کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔

کاغذ دہلی کے مضافات میں واقع پالم کے گودام میں بھیجا جاتا ہے اور بعد میں اس کاغذ کو اترپردیش کے آس پاس کی فیکٹریوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ دھاتوں کو مغربی دہلی میں واقع انڈیا کی سب سے بڑی سکریپ کی منڈی میں بھیج دیا جاتا ہے جبکہ پلاسٹک گُڑگاؤں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ری سائیکلنگ انڈسٹری میں بھیجا جاتا ہے۔ الیکٹرانک کچرا دہلی کے شمال مشرق میں واقع سیلم پور کے مشہور الیکٹرانک سکریپ میں بھیجا جاتا ہے۔

جوگیندر کہتے ہیں: 'ہمیں ردی میں سے نکلنے والی بہت سی چیزوں کا پتا نہیں ہوتا جیسے ہوا صاف کرنے والی مشین یا چھوٹے اے سی۔ ہمیں چیز کے پرزے کھول کر ہی اس کے بارے میں پتا چلتا ہے۔' چونکہ وائرنگ، تانبا اور الیکٹریکل پرزے سب سے مہنگے داموں بکتے ہیں اس لیے اکثراوقات انھیں اِن پرزوں کو حاصل کرنے کے لیے ننگے ہاتھوں سے مشین کو کھولنا پڑتا ہے۔

دہلی جیسے آلودہ شہر میں جوگیندر ہوا صاف کرنے والی مشین کے پرزے الگ کر دیتے ہیں تاکہ انھیں بیچ کر پیسے حاصل کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL

اس کام میں بھرپور خطرہ ہے۔ گووند کئی بار تیز دھار چیزوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ ایک دفعہ انھوں نے سنا کہ ایک ردی والے نے شیشے کی بوتل کھولی اور بوتل میں موجود کیمیکل اس کے ہاتھ پر گر گیا جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ کی جلد جل گئی۔

ان کو اس کام سے جڑے عجیب و غریب پہلوؤں کی بھی عادت ہو گئی ہے۔ انھوں نے شرمیلے انداز سے کہا: 'ہمیں لوگوں کی زندگی کے بارے میں سب کچھ پتا ہوتا ہے۔' انھیں پتا ہوتا ہے کہ کب کس خاندان نے نیا ٹی وی خریدا ہے یا کب کس کے گھر دعوت ہوئی ہے۔

اور کبھی کبھار اجنبی لوگوں کے تحفوں اور فوٹو البم جیسی یادیں ان کے کباڑخانے کی زینت بنتی ہیں۔

جوگیندر کا کہنا ہے 'ہمارے کباڑ میں کافی تصویریں آتی ہیں خاص طور پر شادی کی تصویریں اور البم۔ ہم انھیں اخباروں کے ساتھ بیچ دیتے ہیں۔ ہم ان تصویروں کا کیا کریں گے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL

جوگیندر نے علاقے کے بچوں کو گیمز، کھلونے اور رولر سکیٹس بھی بیچے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ کچھ چیزیں وہ گھر لے جاتے ہیں 'میں یہاں سے دو اے سی گھر لے گیا تھا۔'

لیکن اس کام سے متعلق کچھ چیزیں دونوں بھائیوں کو بالکل نہیں بھاتیں جیسے کہ پلاسٹک پیکیجنگ میں سے گوشت کے بچے کھچے ذرات نکالنا یا شراب کی بدبودار بوتلوں کو ہاتھ لگانا۔ گووند سبزی خور ہیں اور انھیں منشیات سے سخت نفرت ہے۔

ماہواری کے دوران استعمال ہونے والے پیڈ جیسی چیزوں کا حوالہ دیتے ہوئے جوگیندر کہتے ہیں 'اکثراوقات لوگ ڈائپر ردی میں پھینک دیتے ہیں اور کچھ لوگ تو وہ چیزیں بھی پھینکتے ہیں جن کا میں نام بھی نہیں لے سکتا۔'

لیکن وہ کہتے ہیں کہ انھیں زیادہ فرق نہیں پڑتا 'ہمیں غصہ نہیں آتا۔ آخر یہ ہمارا کاروبار ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں