انڈیا: برف میں ڈھکے ’انڈین‘ فوجیوں کی تصویروں کی حقیقت

وائرل تصاویر تصویر کے کاپی رائٹ SM VIRAL IMAGES

سوشل میڈیا پر حال ہی میں تیزی سے پھیلنے والی کچھ تصاویر کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تصاویر انڈین فوجیوں کی ہیں جو انتہائی نامساعد حالات میں کام کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر،انسٹاگرام اور فیس بک پر موجود متعدد صفحات نے ان تصاویر کو شیئر کیا ہے۔ اداکارہ شردھا کپور اور رکن پارلیمان کرن کھیر نے بھی ان تصاویر کو سچ سمجھتے ہوئے شیئر کیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈین فوج کے ارکان نامساعد حالات میں کام کر رہے ہیں۔ انڈین فوج دنیا کے مشکل ترین جنگی محاذ سیاچن پر بھی تعینات ہے۔

13 ہزار سے 22 ہزار فٹ بلندی پر واقع اس گلیشیئر پر سردی سے منجمد ہونے کے باعث فوجیوں کی اموات بھی ہو جایا کرتی ہیں۔

لیکن زیرِ بحث تصاویر انڈین فوجیوں کی نہیں ہیں۔

بی بی سی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ بہت سے غیر ملکی فوجیوں کی تصاویر کو انڈین فوجیوں کی تصاویر ظاہر کر کے سوشل میڈیا پر شئیر کیا گیا۔

ان تصاویر کے ساتھ لکھی جانے والی تفصیلات کو جان بوجھ کر غلط طور پر شامل کیا گیا تاکہ سوشل میڈیا پر زیادہ لائیکس اور توجہ حاصل کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

جعلی خبریں کیسے پکڑی جائیں؟

’جعلی خبروں کی مہم کا خرچہ چار لاکھ ڈالر‘

میانمار: گمراہ کن تصاویر سے تناؤ میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ SM Viral Image Grab

دعویٰ:

’پاکستانی سرحد پر تعینات یہ انڈین بہادر لڑکیاں کسی ہیروئن سے کم نہیں ہیں، ان کے لیے ’جے ہند‘ لکھنا تو بنتا ہے۔‘

ہاتھوں میں آٹومیٹک رائفل پکڑے کھڑی دو ’انڈین‘ خواتین فوجیوں کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی۔

اس تصویر میں دائیں جانب کھڑی خاتون فوجی اہلکار کی قمیض پر انڈین ترنگے سے ملتا جلتا جھنڈا بھی موجود ہے۔

بنگالی زبان کے فیس بک پیج IndianArmySupporter@ کی جانب سے شیئر کی جانے والی اس تصویر کو تین ہزار سے زیادہ افراد نے سوشل میڈیا پر شئیر کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAFIN HAMED/Getty Images
Image caption 2018 میں شمالی عراق کے دوہُک علاقے میں ٹرینِنگ کے دوران کھینچی گئی پیش مرگا فیمیل فائٹرز کی تصویر (فائل فوٹو)

حقیقت:

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ تصویر دراصل کردستان کے پیشمرگا جنگجوؤں کی ہے۔ کردوں نے انھیں نام نہاد دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کیا ہے۔

ہماری تحقیق کے مطابق بہت سے بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس مخصوص فورس کے متعلق فیچر لکھے ہیں اور ترنگے کی طرح دکھنے والا یہ جھنڈا کردستان کا پرچم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SM Viral Image Grab

دعویٰ:

’جب ہم آرام سے سوتے ہیں تو ہمارے جوان منفی پانچ ڈگری میں بھی ہماری جانیں بچانے کے لیے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ جے ہند، جے بھارت۔‘

سمندر کے کنارے کھڑے مبینہ فوجی کی یہ تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔

تصویر میں دیکھے جانے والے شخص کا چہرہ برف سے ڈھکا ہوا ہے۔

’انڈین واریئر‘ نامی فیس بک پیج کے علاوہ دیگر فیس بک پیجز اور ٹوئٹر ہینڈلز سے اس تصویر کو سینکڑوں مرتبہ شیئر کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dan Schetter/FaceBook

حقیقت:

یہ تصویر کسی انڈین فوجی کی نہیں بلکہ ایک امریکی سرفر اور تیراک ڈین شکیٹر کی ہے۔

یہ تصویر 29 دسمبر 2017 میں موسیقار اور منصف جیری ملز کے ذاتی یوٹیوب پیج سے ایڈیٹنگ کے بعد لی گئی ہے۔

جیری نے اس ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سرفر ڈین سے ملیے جو مشی گن کی سپرئیر جھیل میں سرفنگ کر رہے ہیں۔ جب میں نے یہ ویڈیو بنائی تب درجہ حرارت منفی 30 ڈگری تھا اور ویڈیو بناتے وقت ڈین کی حالت دیکھتے ہوئے میرے ہاتھ سن ہو گئے تھے اور ڈین کی حالت کیا ہو گی، آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔‘

جیری کی اس ویڈیو کو یوٹیوب پر تقریباً دس لاکھ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایسی تصاویر کو انڈین فوجیوں کی تصاویر بتا کر شئیر کیا گیا ہے، ایسے پہلے بھی کئی بار ہوا ہے جس کو لوگ سچ مانتے ہیں۔ سنہ 2016-2017 میں جاری کی گئی ایسی ہی ایک تصویر۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ SM Viral Image Grab

دعویٰ:

منفی 50 ڈگری میں سیاچن گلیشئر پر فرائض سرانجام دیتے انڈین فوجی اور انڈیا کے اصل ہیروز کو دل سے سلام۔۔

اس تصویر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمان کرن کھیر نے بھی ٹویٹ کیا بلکہ 17 دسمبر2017 کو بالی وڈ اداکارہ شرادھا کپور نے بھی ٹویٹ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ @ShraddhaKapoor/Twitter

یہ تصویر 2014 میں یوکرائن میں وائرل ہوئی تھی۔ اس کو سوشل میڈیا پر یوکرائنی بہادر فوجیوں کی منفی 20 ڈگری میں ڈیوٹی انجام دیتے بتایا گیا تھا۔

لوگوں نے اس تصویر اور دعوے کو اس لیے سچ مان لیا تھا کیونکہ مشرقی یوکرائن کے چند علاقوں میں سال میں ایک بار درجہ حرارت منفی 20 ڈگری تک گر جاتا ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔

حقیقت:

یہ دونوں تصاویر روسی فوجیوں کی ہیں۔

2013 میں یہ تصاویر روس کی سپیشل فورس کی تربیت کے دوران لی گئی تھیں.

یہ تصاویر روس کی مختلف سرکاری ویب سائٹس پر بھی موجود ہیں۔ جبکہ یوکرائنی فیکٹ چیک ویب سائٹ نے بھی 2014 میں ایک آرٹیکل ’سٹاپ فیک‘ میں ان کو روسی تصاویر قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں