مودی کی بالی وُڈ سیلفی، سوشل میڈیا پر ہلچل

مودی کے ساتھ فلم سٹارز کی سیلفی تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @KARANJOHAR

اگر آپ بھی ہم جیسے ہیں تو دن میں اپنی ایک آدھ سیلفی تو ضرور بناتے ہوں گے۔ آخر سمارٹ فونز کا اور مقصد ہی کیا ہے! اور ہم آپ ہی نہیں آج کل تو سیاسی رہنماؤں سے لے کر بڑے بڑے کھلاڑیوں اور فلم سٹار تک، سب ہی سیلفی کے دیوانے ہیں۔ سب سیلفی لیتے ہیں، پوسٹ کرتے ہیں اور لائک اور ریٹویٹ کا لطف اٹھاتے ہیں۔

تو پھر اس ایک سیلفی میں آخر ایسا کیا تھا کہ بحث جو شروع ہوئی وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی؟ ہوا یہ کہ انڈین فلم ساز کرن جوہر نے یہ سیلفی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کی۔۔

اس تصویر میں کرن جوہر کے علاوہ انڈین فلم انڈسٹری کے دوسرے بڑے نام بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جیسے کہ رنویر سنگھ، عالیہ بھٹ، رنبیر کپور، راج کمار راؤ اور آیوشمان کھرانا۔ تصویر کے ساتھ کرن جوہر نے لکھا، ’معزز وزیر اعظم نریندر مودی، شکریہ۔ آج ہم سب کو آپ سے بات کرنے کا غیر معمولی موقع ملا، دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا اور ساتھ مل کر ہم ایک نیا انڈیا بنانے کے لیے مثبت قدم اٹھانا چاہیں گے۔‘

یہی تصویر ٹی وی ڈرامے بنانے والی ایکتا کپور نے بھی پوسٹ کی اور اس کے ساتھ لکھا، ’اس ملاقات کے لیے شکریہ معزز وزیر اعظم نریندر مودی! ایک نوجوان وفد نے ایک دور اندیش رہنما سے ملاقات کی، تعلیم اور تفریح کو کس طرح ملایا جائے، اس بارے میں بات چیت کا آغاز کیا! میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ آپ کی دور اندیشی اور شخصیت کے زور سے میں بہت متاثر ہوئی! جے ہند!‘

ان پوسٹس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ وفد میں موجود اداکار اور فلم ساز اس ملاقات سے کافی خوش اور مطمئن تھے، تاہم کچھ لوگوں کو یہ تصویر کچھ پسند نہیں آئی۔

اداکارہ نفیسہ علی سودھی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کرن جوہر کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’اپنی برادری کے لوگوں کو اس طرح وزیر اعظم کی سوچی سمجھی پبلسٹی مہم کا حصہ بنتے ہوئے دیکھ کر افسوس ہوا۔ میں دعا کروں گی کہ سچ سامنے آئے اور بند دروازوں کے پیچھے جو ’تقسیم کرو اور راج کرو‘ کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے وہ لوگوں کی سمجھ میں آئے۔ میں ہر انڈین شہری کے آئینی حقوق کے لیے فکر مند ہوں۔ میں گجرات میں ہونے والے فسادات کے ٹھیک بعد وہاں موجود تھی اور اس حقیقت کو میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ میں انڈیا کے اتحاد کے لیے دعا گو ہوں۔‘

اسی طرح کے خیالات کا اظہار انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کیا۔ انہوں نے لکھا، ’کیا یہ تصویر فوٹو شاپ کی گئی ہے؟ یا یہ لوگ پوری طرح سٹھیا گئے ہیں؟ اور تصویر کے بائیں طرف کیا یہ جے امیت شاہ ہے یا ان کے ہم شکل؟‘

اس کے جواب میں مشہور مورخ اور کارکن عرفان حبیب نے لکھا، ’شبنم، یہ نیا انڈیا ہے۔‘

اور اس کے جواب میں صحافی ساگریکا گھوس نے ٹویٹ کی، ’بالی وُڈ میڈیا کی طرح ہی ہے، بس نام کے لیے آزاد۔ ہماری فلم انڈسٹری پر حکومت کا کنٹرول غیر رسمی اور وسیع ہے۔ بھکت صحافیوں کی طرح ہمارے پاس بھکت فلم سٹار ہیں۔ میریل سٹریپ؟ روبرٹ ڈی نیرو؟ یہاں انڈیا میں نہیں! اسی وجہ سے میں ’بڑی ریاست‘ کے خلاف مزاحمت کے بارے میں بات کرتی ہوں۔‘

تو ظاہر ہے جہاں کچھ لوگ اس ملاقات سے خوش ہیں وہیں کچھ کو اس طرح وزیر اعظم کے ساتھ تصویر بنانا اچھا نہیں لگا۔ لیکن شاید سوال یہ ہے کہ کیا کسی سیاسی رہنما کے ساتھ اس طرح کی تصویر صرف ایک تصویر ہوتی ہے یا پھر اس رہنما کی پالیسیز، اس کے وِژن اور اس کی سیاست کی حمایت کے مترادف ہوتی ہے؟

کیونکہ، جیسا کہ کئی ٹوئٹر صارفین نے ہمیں یاد دلایا، وزیر اعظم کے ساتھ تصویر بنوانا انڈین فلم انڈسٹری کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔

اسی بارے میں