'اگر پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے تو انڈیا میں ہونے والے حملوں میں ملوث تنظیموں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟‘

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ MONEY SHARMA
Image caption نریندر مودی اس وقت آنے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کی تیاریوں میں مصروف ہیں

انڈیا نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود پاکستان بات چیت کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا 'اگر پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے تو پٹھان کوٹ اور ممبئی حملے کے جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔'

رویش کمار نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان شدت پسند تنظیموں کو اب بھی اپنی سرزمین استعمال کرنے دے رہا ہے۔

’پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی جو اعانت ہو رہی تھی وہ اب بھی ہو رہی ہے۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ ان تنظیموں کو قومی مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

انڈیا پاکستان: ’طلاق یافتہ جوڑے کی مانند‘

بھائی صاحب آپ نے نہیں کیا!

انڈیا، پاکستان سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں: عمران خان

پاکستان میں اگست میں نئی حکومت کے قیام کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا سے بات چیت شروع کرنے کی کئی بار پیشکش کی لیکن انڈیا کی طرف سے ابھی تک کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے پہلے چند ہفتے قبل انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان کی کوششوں کے باوجود انڈیا بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چار برس سے مزاکرات کا عمل معطل ہے۔ انڈیا میں آئندہ چند مہینوں میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اب انتخابی مہم کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی مثبت پیش رفت اب انتخابات کے بعد ہی ہو سکے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں