کارگل کی جنگ، انٹیلیجنس کی ناکامی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کارگل کی لڑائی میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہوا تھا

انڈین فوج کے ایک سابق اعلی ترین کمانڈر نے کہا ہے کہ سنہ 1999 میں پاکستان فوج کی طرف سے کارگل کے علاقے میں در اندازی ملٹری انٹیلی جنس اور دوسرے خفیہ اداروں کی ایک بہت بڑی ناکامی تھی۔

انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے اتوار کو بھوپال میں ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہی۔

متعلقہ خبریں

کارگل میں لڑنے والے انڈین فوجی کی شہریت مشتبہ

وہ پاکستانی گاؤں جو اب انڈیا کا حصہ ہے

’انڈین کارروائی سے جنگ نہیں چھڑے گی‘

سیاچن: پاکستان اور انڈیا کے لیے انا کی دلدل

انڈیا کی فوج کے جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد کارگل میں پیش قدمی کر کے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی طور پر اجاگر کرنا اور کارگل کے علاقے میں لائن آف کنٹرول کو تبدیل کرنا تھا۔

لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے اس لڑائی کے دوران آپریشن وجے میں شامل آٹھویں ماونٹن ڈویژن کی کمان کی تھی۔

انھوں نےکہا کہ مئی 1999 کے آخری ہفتے میں بٹالک سیکٹر میں تھرڈ انفینٹری ڈوژن کو پاکستان فوج کی پیش قدمی کی اطلاع ملی۔ انھوں نے اس معرکے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ پاکستانی فوج نے ایک وسیع علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس پیش قدمی کا دفاعی مقصد سری نگر سے لیہ جانے والی سڑک کو بلاک کرنا تھا تاکہ سیاچین کا زمینی رابطہ منقطع کیا جا سکے۔

جنرل مہندر نے کہا کہ اس پیش قدمی سے پاکستان کو انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش میں دراندازوں کو بھیجنے کے لیے نئے راستے بھی مل سکتے تھے۔

آپریشن وجے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا انھیں سب سے پہلے دراس مشکوک سیکٹر میں ہائی وے ون ڈی کو محفوظ بنانے اور لائن آف کنٹرول کو اپنی جگہ پر بحال کرنے کا کام دیا گیا۔

آپریشن وجے کی کامیابی کا سہراہ ان کے بقول انڈین فوج کے نوجوان افسروں کو جاتا ہے جنھوں نے بڑی بہادری سے اس آپریشن میں حصہ لیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں