افغان مذاکرات اور حملے ساتھ ساتھ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زیادہ تر ہلاکتیں عمارت کی چھت گرنے سے ہوئی

افغان مسئلے پر امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات کا آج دوسرا دن ہے، لیکن ان مذاکرات کے پہلے ہی دن دارالحکومت کابل کے قریب میدان وردگ کے صدرمقام میدان شار میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک چھاؤنی پر ہونے والے حملے میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہوئے۔

بعض ذرائع اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو سے زیادہ بتا رہے ہیں، جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ پیر کو ہونے والے اس حملہ کو افغان انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) پر اب تک ہونے والے حملوں میں سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے یہ حملہ قطر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اجلاس سے چند ہی گھنٹے بعد ہوا، جس میں پہلے حملہ آور نے بارود سے بڑی گاڑی (ہم وی) اُڑائی اور پھر کم از کم دو حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کی۔ افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق اُنہوں نے حملے کے لیے آنے والی بارود سے بھری دوسری گاڑی کو ناکارہ بنایا اور اس گاڑی کے ساتھ تین ممکنہ خود کش حملہ آوروں کو مار دیا۔

دوسری جانب قطر میں افغان طالبان دفتر کے بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ کل اور آج مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان مذاکرات میں میدان وردگ میں ہونے والے حملے پر کوئی بحث ہوئی؟ اس ذرائع کے مطابق کسی نے بھی اس حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایک فوجی گاڑی طالبان حملے کے بعد وردگ ہائی وے پر گشت کرتے ہوئے۔

افغان امور کے ماہر سمیع یوسفرئی کہتے ہیں کہ اس حملے کو مذاکرات سے جوڑنا اس لیے بھی غلط ہوگا کیوں کہ ان حملوں کے لیے کئی کئی ماہ تیاریاں ہوتی ہیں۔ "میرا نہیں خیال کہ حملہ آوروں کو مذاکرات کے دن ہی حکم ملا اور اُنہوں نے کر دیا"۔ تاہم سمیع یوسفزئی کے مطابق ایسے حملوں کا مقصد یہی ہے کہ طالبان امریکہ اور افغان حکومت کو یہ دیکھادیں کہ وہ کتنے طاقتور ہیں۔

قطر میں طالبان ذرائع کے مطابق اُن کی طرف سے محمد عباس ستانکزئی، مولانا فاضل، مولانا خیراللہ خیرخواہ، شہاب الدین دلاور، قاری دین محمد اور عبدالسلام حنفی شریک ہیں۔ طالبان ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان سے بیرونی افواج کا انخلاء، جنگ بندی، طالبان رہنماؤں کے نام بلیک لسٹ سے نکالنا، قیدیوں کا تبادلہ اور اعتماد کی بحالی پر زیادہ بحث ہوئی، لیکن اس ذرائع کے مطابق کوئی پیشرفت ہو نہیں رہی۔

تاہم سمیع یوسفزئی کے مطابق قطر کے حالیہ مذاکرات میں نہ صرف مثبت باتیں ہوئی ہیں بلکہ اُن کے بقول یہی اجلاس پہلے مذاکرات کے بریک اپ کی رکوری تھی۔ "غالب امکان یہی ہے کہ آج کے اجلاس میں مذاکرات جاری رہنے پر اتفاق کیا جائے گا"۔

جولائی 2018 سے امریکہ اس کوشش میں ہے کہ وہ نہ صرف طالبان سے مذاکرات کریں، بلکہ افغان طالبان ۔ افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کے لیے بیٹھیں۔ طالبان پچھلے کئی ماہ میں متعدد بار امریکہ کے ساتھ ملے ہیں، بات چیت بھی ہوئی ہے، لیکن اب تک طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں