کشمیر: برفباری دیکھنے کو دل مچل رہا ہے؟ ذرا سنبھل کے!

ٹرک ڈرائیورز

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں برفباری میں پھنسے ہوئے ٹرکوں کی قطاروں میں سے ایک ٹرک پر جب رام سنگھ نامی ڈرائیور کھانا پکانے کے لیے اپنا چولہا جلاتے ہیں تو وہاں بیٹھے لوگ پہلے اس پر اپنے ہاتھ سینکنے لگتے ہیں۔

یہ ٹرک ڈرائیورز، جموں تا سرینگر ہائی وے پر گذشتہ دو دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں اورشدید ٹھنڈ اور اس کے باعث نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں۔

40 سالہ رام سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: 'گذشتہ دو دنوں سے جو تکلیف ہے اسے کیسے بیان کروں۔'

رام سنگھ پنجاب کے انبالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ٹرک ڈرائیور ہیں۔ اس وقت وہ شدید برفباری کی وجہ سے اننت ناگ کے سنگم پر پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ گذشتہ ہفتے دہلی سے سامان لے کر کشمیر آئے تھے۔

سڑک بند ہونے کے سبب رام سنگھ سمیت سینکڑوں ڈرائیور پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں پولیس سے اپنے ٹرک سمیت آگے بڑھنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔

Image caption برفباری میں پھنسے ٹرک

'پتہ نہیں۔۔۔کب گھر جانا ہو'

رام سنگھ نے اپنی ٹرک کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے کہا: 'پتہ نہیں یہ برف باری کب بند ہوگی کہ میں اپنے گھر جا سکوں گا۔'

برفباری کی وجہ سے انتظامیہ نے جموں سرینگر ہائی وے پر ٹریفک کو روک دیا ہے جس کی وجہ سے ہائی وے پر ٹرکوں کی لمبی قطار لگ گئی ہے۔ اس شاہراہ کو کشمیر کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ واحد شاہراہ ہے جو کشمیر کو انڈیا کے باقی حصوں سے جوڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب برف باری میں تفریح ایک بھیانک خواب بن گئی

کشمیر میں برفباری نے سیاحت کو زندہ کردیا

کشمیر: ’برف کم، مگر خطرناک ہے‘

اس شاہراہ پر پھنسے ہوئے ایک شخص سنتوش کہتے ہیں: 'میں نے اپنے بیٹے سے بات کی تھی۔ وہ میری گھر آمد کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ میں اسے کیا جواب دیتا! ہمیں بالکل نہیں پتہ کہ راستہ کب کھلے گا اور ہم کب جموں جا سکیں گے۔ ٹرک میں بیٹھے رہنا اور سونا آسان نہیں ہے۔ درجہ حرارت نقطہِ انجماد سے نیچے رہتا ہے۔ سونے کے علاوہ، ہمیں کھانے اور پیسے کی قلت کا بھی سامنا ہے۔'

جموں سرینگر ہائی وے 300 کلومیٹر طویل ہے۔ جواہر ٹنل (سرنگ) میں برف کا جمع ہو جانا سڑک کو بند کرنے کی بڑی وجہ ہے۔

اتوار کی برفباری کے بعد کئی جگہ برف کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ٹرک بلکہ دوسری مسافر گاڑیاں بھی وہاں پھنسی ہوئی ہیں۔

برفباری کب رکے گی؟

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ 23 جنوری تک شدید برفباری اور بارش کا امکان ہے۔

قاضی کنڈ میں بھی سینکڑوں ٹرک شاہراہ کے کھلنے کے منتظر ہیں۔

یہاں پھنسے ٹرک ڈرائیور محمد عارف کہتے ہیں: 'راتوں کو نیند نہیں آتی ہے۔ نیند آئے بھی تو ٹرک کی بیٹری کو چارج رکھنے کے لیے ہمیں ٹرک کے انجن کو آن رکھنا پڑتا ہے۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو صبح ٹرک سٹارٹ نہیں ہوگا۔ ایک رات میں یہ کام کم از کم پانچ بار کرنا ہوتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں برفانی تودے گرنے سے دس فوجی ہلاک

گلمرگ میں برفباری کے بعد درجہ حرارت منفی چھ

انھوں نے مزید کہا: 'ٹرک اتنے زیادہ ہیں کہ پاس کی دکان تک کھانا لانے بھی نہیں جا سکتے۔ جن ٹرکوں میں کھانے کا سامان ہے وہ جواہر ٹنل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کشمیر کی دکانوں میں کھانے کا سامان ختم ہو رہا ہے۔ آپ ان باتوں سے ہماری تکلیف کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔'

ایک دوسرے ٹرک ڈرائیور محمد رمضان نے بتایا: 'ہم جانتے ہیں کہ جب تک راستے نہیں کھلتے ہم یہاں سے نکل نہیں سکیں گے۔ میں برسوں سے گاڑی چلا رہا ہوں، بہت سی پریشانیوں کا سامنا ہوا ہے۔ یہاں اس قدر دقت ہے کہ پینے کا پانی بھی نہیں مل رہا ہے۔ کئی بار ہمیں کھانے اور پانی کے لیے بہت دور جانا پڑتا ہے۔ گذشتہ تین دنوں سے ہمارا یہی معمول ہے۔'

برفانی تودے گرنے سے رام بن میں دو لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو مزید افراد لا پتہ ہیں۔

ماضی کی مہلک برفباریاں؟

جواہر ٹنل کے پاس سنہ 1995 میں برفانی تودے گرنے سے کئی لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی اس راستے کو بند کیا گیا تھا۔

لیکن سنہ 2005 میں برفباری کا سب سے بڑا المیہ سامنے آيا تھا۔

سنہ 2005 میں ہونے والی برفباری میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور متاثرین کو ابھی تک معاوضے کا انتظار ہے۔

کشمیر میں برفانی موسم کے پیش نظر انتظامیہ نے 24 گھنٹوں تک نو اضلاع میں الرٹ جاری کیا ہے۔

کشمیر کے انسپکٹر جنرل (ٹریفک) آلوک سنگھ نے بتایا کہ ہائی وے پر تقریبا 350 ٹرک پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ادھم پور پولیس نے تقریبا 1400 ٹرک روک رکھے ہیں۔

اسی بارے میں