انڈیا: پرینکا گاندھی بھی سیاسی میدان میں اترا آئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماضی میں سرگرم سیاست سے دور رہنے والی پرینکا گاندھی بالاخر سیاست کے میدان میں اتر آئی ہیں

کانگریس پارٹی نے سنہ 2019 کے عام انتخابات سے قبل پرینکا گاندھی کو باضابطہ طور پر سیاسی میدان میں اتار دیا ہے۔

پارٹی نے بدھ کو اس بات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں مشرقی اترپردیش کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ فروری کے پہلے ہفتے سے اپنی ذمہ داری سنبھالیں گی۔

'پرینکا گاندھی میں اندرا گاندھی کا کرشمہ جلوہ گر ہے۔'انھیں اندرا گاندھی کی بہترین شبیہ کا حامل کہا جاتا ہے اور ایک زمانے سے ان سے مطالبہ بھی کیا جاتا رہا تھا کہ وہ کانگریس کی کمان سنبھالیں تاہم وہ ہر بار سرگرم سیاست میں آنے سے گریز کرتی رہیں تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیئے

راہل گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی کہاں غائب ہیں؟

کیا یہ پرینکا گاندھی کا سال ہوگا؟

راہل گاندھی کا 'پپو' ٹیگ ختم!

لیکن سنہ 2019 کے عام انتخابات سے پہلے پرینکا گاندھی نے سرگرم سیاست میں باضابطہ آنے کے لیے حامی بھر دی ہے جو کہ ہندوستانی سیاست کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے کہا کہ انھیں ذاتی طور پر پرینکا کی جانب سے رضامندی ظاہر کرنے پر خوشی ہے۔

ان کے سرگرم سیاست میں آنے کی خبر کے ساتھ ہی ان کے انتخابات لڑنے پر سوال پوچھا گیا جس کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ ایک یادگار تصویر۔

بہرحال پرینکا گاندھی کو مشرقی اترپردیش کے لیے جنرل سیکریٹری مقرر کرنے سے جہاں کانگریس کے کارکنوں میں نئی جان پڑنے کی امید ہے وہیں حال ہی میں اترپردیش کی دو بڑی جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد کو ایک پیغام بھی ملتا نظر آتا ہے۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ دونوں پارٹیوں کے سربراہان مایاوتی اور اکھلیش یادو کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

حکمراں جماعت بی جے پی نے پرینکا کی آمد کو راہل کی ناکامی قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر کانگریس کو ایک خاندان کی پارٹی کہا ہے۔

لیکن دوسری پارٹیوں نے پرینکا گاندھی کی سیاست میں آمد کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے جبکہ بعض لوگوں نے اسے کانگریس کی ترکش کا آخری تیر بھی کہا ہے۔

اسی بارے میں