آسام کی شہریت کا قانون: شمال مشرقی ریاستوں میں’پناہ گزیں مخالف مظاہرے

مظاہرین نے نریندر مودی کے پُتلے جلائے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین نے نریندر مودی کے پُتلے جلائے

انڈیا میں شہریت کے قانون میں مجوزہ ترامیم کے خلاف شمالی مشرقی ریاستوں میں پُرتشدد احتجاج جاری ہے۔

آسام کی ریاست میں احتجاج کی زیادہ شدت دیکھی گئی ہے جہاں حال ہی میں 40 لاکھ مقیم لوگوں کو شہریت کے لیے رجسٹر نہیں کیا گیا۔

تجویز کردہ مسودے میں غیر مسلمان پناہ گزینوں کو شہریت دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔

طلبا، انسانی حقوق کے کارکن، سیاستدان اور معروف شخصیات تمام ہی نے حکومتی جماعت کے خلاف احتجاج میں شامل ہیں۔

قانونی مسودے میں کیا ہے؟

شہریت کا مجوزہ ترمیمی مسودہ باکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے لیے ہے۔

اس مسودے کے حامی مسلمانوں کے اخراج کا دفاع اس دلیل سے کرتے ہیں کہ یہ قانونی مسودہ صرف ان مذہبی اقلییتوں کے لیے ہے جو اپنے ملک میں مظالم سے بچاؤ کے لیے نقل مکانی کر کے انڈیا آئے ہیں۔

اس مسودے کو نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز کے شائع ہونے کے کچھ ماہ کے بعد متعارف کرایا گیا ہے۔ نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز وہ فہرست ہے جس وہ لوگ شامل ہوں گے جو یہ ثابت کر سکیں کہ وہ ریاست میں 24 مارچ 1971 سے پہلے داخل ہوئے ہوا، یہ وہ دن ہے جس کے اگلے روز ہمسایہ ملک بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست بنا۔ تقریباً 36.2 لاکھ لوگوں نے شہریت کے دوبارہ اندراج کے لیے درخواست دائر کی ہے۔

انڈیا کا کہنا تھا کہ اس عمل کا مقصد غیر قانونی بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کی نشاندہی کرنا تھا۔

ہزاروں طلبا نے اس امید سے مصنفین، فنکاروں کے ساتھ احتجاج میں شمولیت اختیار کی ہے کہ شاید اس سے ہزاروں بنگالی ہندو پناہ گزینوں کا اندراج نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز میں ہوسکے اور وہ شہری بن کر اس ریاست میں رہ سکیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

آسام کے 40 لاکھ باشندے انڈین شہریت کی فہرست سے خارج

آسام: لاکھوں مسلمانوں کے بے وطن ہونے کا اندیشہ

سات روہنگیا افراد کو ملک بدر کر کے انڈیا کیوں خوش ہے؟

'نریندر مودی کا آخری داؤ'

مظاہرے کتنے پُرتشدد ہیں؟

بھارتیہ جنتا پارٹی اور وفاق اور اسآم دونوں میں حکومت میں ہے اس کے دفاتر مشتعل ہجوم نے نذر آتش کیے ہیں۔

ترمیم کے خلاف مظاہرین نے بیشتر اوقات دارالحکومت گواہاٹی کی ریاستی سیکرٹیریٹ کو گھیرے میں لیے رکھا۔

اسآمیوں کے حامی کسان سربراہ آکھل گوگوئی نے ماہ کی ابتدا میں وفاقی دارالحکومت دلی میں برہنہ احتجاح بھی کیا۔

آل آسام سٹوڈنٹس یونین جو آسام کہ مظاہروں میں مرکزی کردار ادا کررہی ہے ان کے رکن سموجال بھٹاچاریا کا کہنا تھا کہ ’مسودے کے خلاف شمالی مشرق میں تحریک میں شدت آئی ہے اور اگر مسودے کو واپس نہ لیا گیا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسودہ غیر قانونی غیر مسلم مہاجرین کو ’پچھلے دروازے‘ سے شہریت دینے کی کوشش ہے جن کو نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسام میں مصودے کے خلاف پُرتشدد احتجاج

1980 کی دہائی کی ابتدا آسام میں ہونے والے پناہ گزیں مخالف مظاہرین سے ہوئی جس نے حکومت کو مفلوج کردیا تھا اور پرتشدد واقعات میں 3000 اموات واقع ہویئں۔ ان مظاہرین کو آل آسام سٹوڈنٹس یونین کی پُشت پناہی حاصل تھی۔

یہ محاذ آرائی 1985 میں اختتام پزیر ہوئی جب مارچ 1971 کی تاریخ کو شہریت کے لیے آخری تاریخ مقرر کیا گیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اس مسودے کو منظور کرانے کے لیے کیوں اتنا پُر عزم ہیں؟

مظاہروں کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے اصرار کیا ہے کہ حکومت اس مسودے کو منظور کرانے کے لیے پُر عزم ہے۔

امت شاہ نے مغربی بنگال میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ ’دوسرے ممالک سے آئے ہندو پناہ گزین کو بے فکر ہوجانا چاہیے سب کو انڈیا کی شہریت ملے گی۔‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بنگالی ہندووں کا ووٹ حاصل کرنے کی واضح کوشش ہے۔

بنگالی ہندووں کی مغربی بنگال اور ٹریپورا میں اکثریت ہے جبکہ آسام میں بھی نمایاں تعداد ہے۔ آنے والے عام انتخابات میں ان تینوں ریاستوں کی 58 نشستوں پر انتخاب ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی کہ صدر امت شاہ کا ریلی سے خطاب

اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی شمالی انڈیا میں ممکنہ شکست کا ازالہ یہاں متعدد نشستیں جیت کہ کرسکتی ہے پر 2016 میں حاصل کردہ نسلی آسامیوں کا ووٹ کھو سکتی ہے۔

آسام کے وزیراعلی سربنندا سونووال جو آل آسام سٹوڈنٹس یونین کے سابق سربراہ بھی رہ چکے ہے۔ انھوں نے دفاعی انداذ سے طلبا کو احتجاج میں شمولیت سے روکا جو ان کے بقول ’غلط معلومات‘ پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ ترمیم منظور ہوگئی تو کسی کو بھی خود بخود شہریت نہیں ملے گی۔ حکومت تمام درخواستوں کی تفصیل سے جانچ پڑتال کرے گی اور غیر مناسب درخواستوں کو خارج کردے گی۔’

اس مسودے سے متعلق اور کیا ردعمل آیا ہے؟

انڈیا میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگرس پارٹی نے مسودے کی مخالفت اس بنیاد پر کی ہے کے مذہب کی بنیاد پر شہریت دینا انڈین آئین کی روح کے خلاف ہے۔

علاقائی جماعتوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسودہ واپس نہ لینے کی صورت میں علیحدگی کی دھمکی دی ہے۔ ان جماعتوں کی بھارتی جنتا پارٹی کے ساتھ ٹل کر آسام، میگھالایا، ناگالینڈ اور میزورام میں مخلوط حکومتیں قائم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہاجر مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ہے

ایک طلبہ میتالی بروہاجو ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کے لیے جا رہی تھی بی بی سی سے بات کرے ہوئے کا کہنا تھا ’مارچ 1971 کے بعد آنے والے تمام لوگ غیر ملکی اور غیر قانونی پناہ گزین ہیں۔ ہمیں پرواہ نہیں اگر وہ ہندو ہوں یا مسلمان۔ مذہب یہاں مسئلہ نہیں بلکہ مقامی لوگوں کا ان غیر قانونی لوگوں سے تحفظ بنیادی مدعا ہے۔‘

یہ احساس عمومی طور پر مقامی لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ قطع نظر اس کے لیے اس کا مذہب کیا ہے ایک پناہ گزین کو خوش آمدید نہیں کیا جاتا۔

تجزیہ کار سمیر پُرکیاستھا کہتے ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے علاقے کا مزاج سمجھنے میں ناکام رہی کیونکہ وہ ہر چیز کو مذہب کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ‘

اسی بارے میں