انڈیا: دنیا کے بلند ترین مجسمے کی وجہ سے درجنوں مگرمچھ بے گھر

ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ مجسمہ نیویارک کے مجسمۂ آزادی سے دوگنا اونچا ہے

انڈین حکام نے دنیا کے بلند ترین مجسمے کے قریب واقع تالاب سے لگ بھگ 300 مگرمچھوں کی نقل مکانی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ سیاح سمندر کی سطح پر تیرنے والے جہاز کے ذریعے سے مجسمے کو دیکھنے آ سکیں۔

نو فٹ تک لمبے ان جانوروں کو لوہے کے پنجروں میں ڈال کر مغربی ریاست گجرات کے دیگر حصوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ماحول کے تحفط کے حامی افراد کی طرف سے اس منصوبے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

گذشتہ اکتوبرمیں آزادی کے ہیرو سردار والبھ بھائی پٹیل کے 597 فٹ لمبے مجسمے کا افتتاح ہوا تھا۔

ریاست گجرات کے دارالحکومت احمدآباد سے 200 کلومیٹر دور واقع اس مجسمے پر کانسی کا پانی چڑھا ہوا ہے اور اب اسے سیاحوں کی توجہ حاصل ہوتی جا رہی ہے۔

ریل گاڑی کی سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر سیاح 'مجسمۂ اتحاد' کو دیکھنے لے لیے بسوں کا استعمال کرتے تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے محکمۂ جنگلات کی افسر انورادھا ساہو نے کہا کہ کہ سیاحوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ ان کے تحفظ کی خاطر حکومت نے مگرمچھوں کو مجسمے کے پاس کے علاقے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

اب تک ایک درجن مگرمچھوں کو پِک اپ ٹرکوں پر لاد کر مختلف مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

کمیونٹی سائنس سینٹر کے ڈائریکٹر جتیندرا گوالی کہتے ہیں کہ مگرمچھوں کو ان کی جگہ سے ہٹانے کا فیصلہ ملک کے جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر گوالی کا کہنا تھا: 'انڈیا کی حکومت مگرمچھوں کو ان کے قدرتی مسکن سے نکال کر ان کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'حکومت نے اب تک اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ مگرمچھوں کو محفوظ طریقے سے کہاں چھوڑا جائے گا۔'

سینکچیوری ایشیا نامی میگزین کے ایڈیٹر نے بھی اس منصوبے پر تنقید کی ہے۔

ولبھ بھائی پٹیل کی طرح انڈین وزیراعظم نریندرا مودی بھی گجرات میں پیدا ہوئے۔ 2010 میں بطور وزیراعلیٰ نریندر مودی نے مجسمے پر کام شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

حالیہ برسوں میں نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پٹیل کی میراث کا دعویٰ کرنے کی کوشش میں پٹیل کو اپنا لیا ہے۔

مجسمے پر 30 ارب انڈین روپے لاگت آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption یہ مجسمہ سیاحوں میں مقبولیت اختیار کرتا جا رہا ہے

انڈیا کا مردِ آہن

گجرات میں پیدا ہونے والے والبھ بھائی پٹیل 1947 کی آزادی کے بعد انڈیا کے پہلے نائب وزیراعظم بنے۔

آزادی کے بعد مختلف ریاستوں کو متحد کرنے اور انھیں انڈیا کا حصہ بنانے کی وجہ سے قومیت پسند ولبھ بھائی پٹیل کو انڈیا کا مردِ آہن کہتے ہیں۔

بہت سے قومیت پسند ہندوؤں کو لگتا ہے کہ نہرو خاندان کے انڈین سیاست پرغلبہ پانے کی وجہ سے تاریخ میں ولبھ بھائی پٹیل کی اہمیت کو نظرانداز کیا گیا۔

اس مجسمے کی اونچائی 501 فٹ ہے اور یہ نیویارک کے مجسمہ آزادی سے دوگنا بلند ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں